مزید شرائط عائد کرنے سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کو دی جانے والی تین ارب ڈالر کی امداد پر زیادہ سخت شرائط عائد کرنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ میں حزب اختلاف ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کو تین ارب ڈالر کی جو امداد دی جانی ہے اس کو پاکستان کے جوہری پروگرام سے مشروط کیا جائے خصوص پاکستان کے جوہری ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو منتقل کرنے کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد۔ انہوں نے اس امداد کو پاکستان میں سیاسی اصلاحات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ زیادہ معاونت سے بھی مشروط کرنے کے لیے کہا تھا۔ تاہم امریکی وزارتِ خارجہ نے ان مطالبات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری رازوں کے افشاں ہونے کے بعد سے امریکہ پاکستان کے جوہری شعبہ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جنوبی ایشیا کے امور کے بارے میں امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ(نائب وزیر خارجہ) کرسٹینا روکا نے کانگرس کی ایک کمیٹی میں سماعت کے دوران کہا کہ وہ اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد پر نظر ثانی کی جائے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے منتخب رکن گیری ایکرمین نے کانگریس کی کمیٹی کو خبردار کیا کہ امریکہ پاکستانی حکام سے جوہری عدم پھلاؤ کے بارے میں کوئی قابلِ ذکر یقین دہانی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بہت ہی مخدوش ’گھوڑے‘ کے ساتھ اپنی گاڑی باندھ رہے ہیں۔ کرسٹینا روکا نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے جوہری پروگرام پر کڑی نظر رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر جوہری راز کے افشاں ہونے والے واقعات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ کرسٹینا روکا نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا کہ آیا امریکی حکام نے بھی پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر قدیر خان سے براہ راست اور آزادانہ طور پر تفتیش کی ہے۔ کرسٹینا روکا نے اس کو ایک انتہائی حساس مسئلہ قرار دیا اور اس پر کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||