کیا وہ نمرود کی خدائی تھی ۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت امریکہ ہر سال دنیا میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں رپورٹ جاری کرتی ہے اور ہر سال پاکستان میں عیسائیوں کی حالت زار کا رونا روکر تاثر دیتی ہے کہ اسے ان کی فلاح کی بہت فکر لا حق ہے۔ تاہم امریکہ میں رہنے والے پاکستانی نژاد مسیحی کہتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہے: امریکہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو باقی پاکستانیوں کےساتھ کرتا ہے ـ بقول غالب، کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا۔ بہت سے امریکی پاکستانی مسلمانوں کی توقع کے خلاف ایک آدھ کانگریس مین کو چھوڑ کر کوئی بھی پاکستانی مسیحیوں کے مفادات کی بات نہیں کرتا۔ بلکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سکھوں اور خالصتان کے لیے امریکی کانگریس میں زیادہ شور مچتا ہے۔ چونکہ پاکستانی مسیحی اتنے سیاسی چندے نہیں دے سکتے جتنے سکھ یا کشمیری دیتے ہیں اس لیے وہ امریکہ میں بھی ویسے ہی بے آواز ہیں جیسے پاکستان میں تھے۔ امریکہ کے قانون ساز ایوانوں میں مذہب نہیں پیسہ بولتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ امریکی حکومت مذہبی آزادیوں کے لیے نہیں اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے لیے سرگرداں ہے۔ اسے اپنے ہم مذہبوں کی بھلائی نہیں پاکستانی حکومت کی معاونت چاہئے اور حکومت بیشک ضیاء الحق جیسے مذہبی تنگ نظر کی ہو۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آخر انگریز نے بھی تو کئی سو سال بر صغیر پر حکومت کی اور بیچارے مسیحیوں کو خاکروبوں سے اوپر نہ اٹھایا۔ شمالی امریکہ کے پاکستانی مسیحی تارکین وطن تو ویسے ہی درمیانے طبقے سے ہیں جیسے دوسرے پاکستانی تارکین وطن۔ اگر آپ اپنے مخاطب کو نہ جانتے ہوں تو آپ بتا بھی نہیں سکتے کہ آپ کے مخاطب پاکستانی کا کس مذہب سے تعلق ہے۔ وہ امریکہ میں دوسرے پاکستانیوں کے طرح پاکستان کا یوم آزادی مناتے ہیں، دوسرے پاکستانیوں کی طرح امریکہ کے کانگریس مینوں اور سینیٹروں سے پاکستان کے حق میں لابی کرتے ہیں۔ مسیحی پاکستانیوں کو ان مغرب کے غیر ممالک میں وہی ثقافتی مسائل درپیش ہوتے ہیں جو دوسرے پاکستانیوں کو ہیں۔ ان کی اگلی نسل کے وہی مسائل جو دوسرے اے بی سی ڈی (امریکہ بارن کنفیوزڈ دیسی) کے ہیں۔ ٹورانٹو کینیڈا کے ڈاکٹر رشید گل کے بقول فرق صرف یہ ہے کہ مسیحیوں کو ان ممالک میں آکر یہ نہیں بتانا پڑتا کہ کرسمس کیا اور کب ہے جبکہ مسلمان عیدالفطر اور عیدالضحی کے بارے میں بتاتے بتاتے نڈھال ہوجاتے ہیں۔ پاکستانی مسیحی تارکین وہ لوگ ہیں جن کے پاس باقیوں کے طرح تعلیم کے علاوہ تھوڑی بہت زمین اور جائیداد بھی تھی۔ نچلے درجے کا مسیحی ویسے ہی امریکہ اور کینیڈا نہیں آسکتا۔ لیکن فلاڈلفیا کے باسی جناب وکٹر گل کہتے ہیں کہ امریکہ میں مسیحی ہونے کا نقصان یہ تھا کہ آپ باقی پاکستانیوں کی طرح شادی رچا کرگرین کارڈ نہیں حاصل کرسکتے تھے کیونکہ مسیحی برادری میں یہ تقریبا ناممکن تھا۔ بہرحال اب زیادہ تر مسیحی امریکہ اور کینیڈا میں سیاسی پناہ حاصل کرکے قانونی رہائش اختیار کررہے ہیں۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندوں کی مسیحیوں کے خلاف کرتوتوں سے اگر سارے مسیحی بھی کسی غیر ممالک میں پناہ لے لیں تو کسی کو نہ کوئی حیرت ہوگی اور نہ ہی گلہ۔ پاکستانی مسیحی باقی تارکین کی طرح شمالی امریکہ کے بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور امریکہ میں دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں میں منقسم ہیں۔ شکاگو میں پاکستانی مسیحیوں کی کونسل کے صدر جناب ڈاکٹر دلنواز لطیف کا کہنا ہے کہ خوشحال مضافات کے مسیحی ریپبلکن پارٹی کے ساتھ ہیں لیکن شہروں کے اندر رہنے والے کم آمدنی والے ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ہے۔ جناب دلنواز لطیف صاحب خود ریپبلکن پارٹی کے سخت حامی ہیں اور صدر بش کے جیتنے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف رییپبلکن پارٹی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف سخت اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہ انڈونیشیا سے لے کر سوڈان تک مسیحیوں کا قتل عام ہورہا ہے جس کی وجہ سے مسیحیوں میں شدید ردعمل ہے ۔
نیوجرسی ریاست کے شہری جناب آئزک سوشیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے مسیحی بھی ریپبلکن پارٹی کے ساتھ ہیں کیونکہ پاکستان اور اسلامی دنیا میں امریکہ کی مخالفت بغض طلبی کے تحت ہوتی ہے۔ ’جنگ ویت نام میں ہوتی ہے اور جلوس پاکستان میں نکل رہا ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں امریکہ کی مخالفت مذہبی بنیادوں پر ہوتی ہے‘۔ جبر کی شکار کمیونٹی کا ردعمل ایسا ہی ہوتا ہے۔ جیسا مسلمان صدر بش کے امریکہ کے خلاف اس لیے ہوگئے ہیں کہ ان کے ساتھ تعصب بڑھ رہا ہے اور ان کے ممالک پر ظلم ہورہا ہے۔ اسی طرح مسلمان ملکوں (سمیت پاکستان) کی مسیحی برادری اگر تعصب پر مبنی پالیسیوں کے خلاف شدید ردعمل بھی کرے تو حق بجانب ہے۔ جناب آئزک سوشیل صاحب نوائے وقت کے پرانے تجربہ کار صحافی ہیں اور شمالی امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کے اخبارات کے تعصب سے تنگ آکر ایک نیا اخبار ’ہم لوگ‘ نکالنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے سلسلے میں مسیحی برادری نے مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ نامور رہنما دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے گاؤں گاؤں جاکر مسیحوں کو مسلم لیگ کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے کہا تھا کیونکہ بعض علاقوں میں اگر مسیحی ووٹ مسلم لیگ کو نہ ملتے تو ہندو اکثریت میں ہوجاتے۔ یہ وہی ایس پی سنگھا ہیں جنہون نے قیام پاکستان کے بعد تیری یاد کے نام سے پہلی فلم بنائی تھی جس کے ڈائریکٹر داؤد چاند تھے۔ جناب آئزک سوشیل دکھ سے کہتے ہیں کہ 1971 کی جنگ میں پاکستان کی ایئرفورس کے سکورڈن لیڈر پیٹر کرسٹی نے ملک کے لیے جان دی۔ پاکستان میں ہر شہید فوجی افسر کے نام پر کسی گلی یا محلے کا نام رکھا گیا ہے۔ اگر نہیں رکھا گیا تو پیٹر کرسٹی کے نام پر۔ شمالی امریکہ میں پاکستنانی مسیحی امریکن پاکستان میں اپنی برادری کے ساتھ ہونے والے نارواسلوک پر بہت دکھی ہیں- ان کا کہنا ہے کہ جداگانہ انتخاب اور توہین اسلام کا قانون مسیحیوں کے لیے تشویشناک ہیں۔ جداگانہ انتخابات کا سلسلہ ختم ہونے پر وہ مطمئن ہیں لیکن توہین اسلام کے قانون کے ناجائز استعمال سے ان کے کسی نہ کسی عزیز کو آئے دن آفت ناگہانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وکٹر گل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں پتے بازوں کی چالیں چلتی ہیں۔ ’خود ہی مسیحوں کے حقوق کو سلب کرواتی ہیں اور پھر خود ہی ان کی ٹھیکیدار بھی بننے کی کوشش کرتی ہیں‘۔ پاکستان میں مسیحی تعلیمی اداروں کو قومیایا جانا بھی ان سب کے لیے افسوسناک فیصلہ تھا۔ پروفیسر دلنواز لطیف کا کہنا ہے کہ مسیحیوں کو پاکستان میں ختم کرنے کے لیے مولانا کوثر نیازی نے آئینہ تثلیت کے نام سے کتاب لکھی جس پر عمل کرتے ہوئے بھٹو حکومت نے مسیحی اداروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس سے نہ صرف مسیحی برادری کو نقصان ہوا بلکہ اعلیٰ معیار کے مستند تعلیمی ادارے بھی تباہ ہوگئے۔ اب یہ ادارے مسیحی تنظیموں کو واپس کردیئے گئے ہیں لیکن ابھی تک مسیحیوں کو اس سے فیض رسائی نہیں ہوئی۔ ان کے خیال میں اتوار کی بجائے جمعے کی چھٹی سے بھی مسیحیوں کی روحانی زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ ٹورانٹو کے رشید گل پاکستان میں مسیحیوں کے مسئلہ کو حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انتخابی اور حکومتی نظام میں جو تبدیلی بھی کردی جائے تب بھی مسیحی اپنے مطالبات نہیں منواسکتے۔ شمالی امریکہ میں رہنے والے پاکستانی مسیحی نہ تو اپنے سارے بھائی بندوں کو وہاں سے نکلوا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔ وہ جنرل مشرف کے سخت حامی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں جنرل مشرف نے مسیحیوں کے لیے کافی کچھ کیا۔ ان کے خیال میں مسیحیوں کو باقی پاکستانیوں کے ساتھ ہی مل کر رہنا ہے۔ ان کو افسوس ہے کہ کینیڈا میں امیگریشن کرنے والے پاکستانی مسیحی اپنے ہم وطن مسلمانوں سے لاتعلقی ہوجاتے ہیں اس لیے وہ کینیڈا میں مقیم مسیحیوں کو ان کا مشورہ ہے کہ وہ اپنے ہم وطن مسلمانوں سے رابطے رکھیں تاکہ پاکستان میں مسیحیوں کی زندگی میں آسانی پیدا کی جاسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||