امریکہ: پاکستان بُرا، مشرف اچھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ایک بار پھر برما، چین، ایران، شمالی کوریا اور سوڈان کو ایسے ملکوں کے زمرے میں شامل کیا ہے جن میں مذہبی اور انسانی آزادیاں مفقود ہیں۔ مذہبی آزادیوں پر 2004 کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے سیکریٹری کولن پاول نے کہا ہے کہ وہ تین اور ملکوں اریٹیریا، سعودی عرب اور ویت نام کو بھی اس لسٹ میں شامل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان ممالک سی انسانی حقوق بہتر بنانے کی بات چیت جاری رکھے گا۔ سیکریٹری کولن پاول سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کانگریس کو چھٹی سالانہ رپورٹ بھیجنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ کانگرس کو بھیجی جانے والی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادیاں اب بھی ناپید ہیں اور ہندوستانی حکومت بھی اقلیتوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ ہندوستانی جمہوریت کی مجبوریاں اور بی جے پی کے متعصب حلقے بتائے گئے ہیں۔ ہندوستان میں مذہب تبدیل کرنے کے خلاف قانون سازی روک دینے کے فیصلے کو سراہا گیا ہے اور تامل ناڈو حکومت کی تعریف کی گئی ہے کہ وہ تبدیلی مذہب کا قانون منسوخ کر رہی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں مذہبی قانون سازی کو ایسا ماحول پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جو سماج میں تحمل اور برباری کے منافی ہے۔ پاکستانی حکومت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا اقلیتوں کے بارے میں رویہ ہرگز تبدیل نہیں ہوا۔ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے حفاظت میں اس لیے ناکام ہو چکی ہے کہ نہ تو اس کی پبلک پالیسیوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی اس نے ان سماجی قوتوں کے خلاف کوئی اقدامات کیے ہیں جو اقلیتوں کو برداشت نہیں کرتیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ایسے واقعات بھی روپذیر ہوئے ہیں جن میں حکومت نے اقلیتوں کے خلاف تشدد کے مواقع پر دخل اندازی نہیں کی۔ اس طرح کے حکومتی رویے کی وجہ سے اقلیتوں کو ہراساں کرنےاور ان پر تشدد کرنے والوں کو اور بھی شہ ملی ہے۔ حکومت کی اعلی سطح پر تحمل اور بردباری کا درس دیا جاتا رہا ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اب صوبہ سرحد اور بلوچستان میں ایم ایم اے کی حکومت کے سخت مذہبی قوانین بھی اقلیتوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں حدود آرڈیننس اور توہین رسالت کے قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عیسائی اور احمدی اس کا خصوصی شکار ہیں۔ دونوں قوانین کو ذاتی عداوتوں کی لئے استعمال کیا گیا ہے اور اس وقت 1600 سے لیکر 2100 لوگوں کو حدود آرّیننس کے تحت جیل میں ڈالا گیا ہے۔ مقدمات کے فیصلے بہت سست رفتاری سے ہوتے ہیں کیونکہ عدالتیں ملزموں سے خوفزدہ ہیں۔اس عرصہ رپورٹ میں توہین رسالت کے 14 مقدمات درج ہوئے اور 100 لوگ فرقہ ورانہ فسادات میں مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے شہباز بھٹی اور یونس شیخ کے مقدمات کے بارے میں حکومت پاکستان کو اپنی تشویش سی آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 96 فیصد مسلمان، 2.2 فیصد ہندو، 1.69 عیسائی اور 0.35 فیصد دوسری اقلیتیں ہیں جن میں احمدی بھی شامل ہیں۔ نوے فیصد عیسائی پنجاب میں میں مقیم ہیں اور ان میں سے بھی ساٹھ فیصد دیہات میں رہتے ہیں۔ سندھ کی آٹھ فیصد آبادی ہندو ہے۔ اگرچہ پورے پاکستان میں شیعہ دس فیصد ہیں لیکن کراچی میں ان کی تعداد تیئس فیصد ہے۔ زکریوں کی تعداد 200,000 ہے جو کہ گوادر کے علاقے میں رہتے ہیں۔ رپورٹ میں بہت سے مقدمات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے مطابق احمدی اور عیسائیوں کو خاص طور پر آزار پہنچایا گیا ہے۔ رپورٹ میں جبری مذہبی تبدیلی کے بہت سی واقعات بیان کے گئے ہیں جن میں جاوید انجم بھی ہے جو ایک مدرسے میں غلطی سے پانی پینے چلا گیا اور جب پتہ چلا کہ وہ عیسائی ہے تو اسے اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور کیا گیا۔ جب اس نے انکار کیا تو اسے پانچ دن محبوس رکھا گیا جہاں اس کی موت واقع ہو گئی۔ صوبہ سرحد میں ایک چھ سالہ سِکھ بچی کا بھی اسی طرح کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کو اغواہ کر لیا گیا اور اب یہ کہ کر واپس نہیں کیا جا رہا کہ وہ بارہ سال کی ہے اور مسلمان ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں دہشت گرد تنظیموں کو بھی اقلیتی حقوق پامال کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ـ رپورٹ کے آخری حصے میں پاکستانی حکومت کی تعریف کی گئی ہے کہ اس نے بہت سی دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگائی ہےاور مدرسوں کے نظام تعلیم میں تبدیلیاں کی ہیں۔ حدود آرڈیننس پر دوبارہ غور کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا گیا ہے۔ یونس شیخ کی رہائی اور شہباز بھٹی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت کو مثبت اقدامات قرار دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||