| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
توہینِ رسالت پر سزائے موت
بہاولنگر کی مقامی سیشن عدالت نے توہین رسالت کے ایک مقدمہ میں ایک محنت کش نیاز احمد کو ڈھا ئی ماہ کی سماعت کے بعد سزائے موت اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ جرمانہ نہ دینے کی صورت میں ملزم کو مزید دو سال قید بامشقت بھگتنا ہوگی۔ توہین رسالت کے الزام کے تحت درج ایف آئی آر کے مطابق پنجاب کے شہر بہاولنگر کے نواحی گاؤں رب نواز کے رہائشی نیاز احمد نے اس سال تیس جولائی کو چائے کےمقامی ہوٹل پر ایک شخص محمد باقر کے سلام کے جواب میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور ایسے کلمات ادا کیے جو ان کی توہین کے زمرے میں آتے تھے۔ وکیل صفائی کے مطابق ملزم نیاز اگرچہ مسلمان ہی ہے لیکن بے حد غریب اور کم تر سمجھی جانی والی ذات پاؤلی سے تعلق رکھتا ہے اور باقر اس کے ساتھ اس بات پر الجھا تھا کہ اس نے اس کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا۔ اس واقعہ کی فوری ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی بلکہ گاؤں میں پنچائیتیں لگتی رہیں۔ اس کے بعد پنچائت کے لوگ مقامی مذہبی رہنما مولانا جلیل احمد کے پاس گئے تو انہوں نے اس کے خلاف دو افراد عباس اور بلال کی گواہیوں کو بنیاد بنا کر اس کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دے دیا اور واقعہ کے تقریباً دو ہفتہ بعد مقامی تھانہ نے ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ ملزم نیاز احمد کے وکیل اقبال سہیل ایڈووکیٹ نے بی بی سی ڈاٹ کام کو بتایا کہ وقوعہ کے وقت ہوٹل پر بارہ افراد موجود تھے۔ جن میں سے مدعی کے علاوہ صرف ایک نے ملزم کے خلاف گواہی دی تھی جبکہ ایف آئی آر میں لکھےگئے استغاثہ کے دو گواہوں نے منحرف ہوکر ملزم کے حق میں گواہی دیدی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’اس مقدمہ کے مدعی عباس ہیں اور ملزم نیاز کی ان کے ساتھ ذاتی چپقلش تھی۔ نیاز نے اس واقعہ سے دو ماہ قبل تھانے میں ایک درخواست دی تھی جس میں اس نے عباس پر اپنے بیٹے سے بد فعلی کا الزام عائد کیا تھا۔ ایک تو عباس کو تھانے میں درخواست دینے کا رنج تھا۔ دوسرے اسے اس بات کا بھی شبہ تھا کہ نیاز اس کی دوسری شادی کی راہ میں حائل ہے اور لڑکی کے والد کو اس کے خلاف بھڑکاتاہے۔‘ وکیل صفائی نے کہا ہے کہ عدالت نے مقدمہ کے فیصلہ میں غیر معمولی جلدی دکھائی ہے۔ بہاولنگر میں ایک مقامی اخبار کے نامہ نگار شفیق خان نے بتایا ہے کہ مقامی سیشن جج نے جب سزاۓ موت سنائی تو نیاز احمد دم بخود رہ گیا اور اس کا رنگ پیلا پڑگیا تھا۔ پاکستان میں توہین رسالت کا قانون رائج ہے جس کے مطابق مرتکب شخص کو سزاۓ موت تک دی جاسکتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقلیتوں کے نمائندوں کو اس قانون پر اعتراض ہے وہ اسے غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ قانون ذاتی مخالفین کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مقامی عدالتیں اکثر ایسے مقدمات میں سزاۓ موت سناتی ہیں، تاہم بیشتر مقدمات میں اعلی عدالتوں سے سزاؤں میں معافی دے دی جاتی ہے۔ ایسے مقدمات میں ملوث ہونے والے متعدد افراد کو فیصلہ سے قبل ہی قتل کر دیا گیا جبکہ چند ایک بیرون ملک سیاسی پناہ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||