BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین رسالت کا ملزم مر گیا

سیمویل مسیح کی میت
سیمویل مسیح کی میت
توہین رسالت کا ملزم سیمویل مسیح، جسے پچیس مئی کو جیل کے اندر ایک پولیس کانسٹیبل نے حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جمعہ کے روز لاہور کے جنرل ہسپتال میں چل بسا۔

بستی سیدن شاہ کے رہائشی مزدور سیمویل مسیح پر اگست سن دو ہزار تین میں لاہور کی سول لائنز پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس کی زیادہ سے زیادہ سزا دو سال قید ہے۔

سیمویک مسیح کی ہلاکت کے بارے میں پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی طارق سلیم ڈوگر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ایک پولیس کانسٹیبل کا انفرادی فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس کا پولیس کے ڈیپارٹمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم ملزم کو فوری طور پر گرفت میں لے لیا گیا ہے اور قانون کی دفعہ تین سو دو کے تحت چالان کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد کانسٹیبل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور انشا اللہ عدالت درست فیصلہ کرے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری بھی اس بات سے متفق ہے کہ یہ ایک انفرادی فعل ہے جو غیر قانونی اور قابلِ مذمت ہے۔

ڈی آئی جی طارق سلیم ڈوگر نے ایک وکیل کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ ایک رٹ درخواست میں لگائے گئے الزام سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ اہلکار اپنے ساتھی کو بچانے کے لئے ثبوت کو خراب کر رہے ہیں۔

سیمویل کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ
سیمویل کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ

اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن میں توہین رسالت اور توہین اسلام کے ملزموں کو جیل میں حملہ کر کے مار دیا گیا۔ نبوت کا دعویٰ کرنے کے الزام میں زیر حراست ایک ملزم یوسف علی کو بھی لاہور کی ایک جیل میں قتل کردیا گیا تھا۔ پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی نے ان تمام واقعات کو بھی قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔

لارنس گارڈن مسجد کے امام چودھری یعقوب نے الزام لگایا تھا کہ سیموئیل مسیح نے مسجد کی دیوراوں پر جہاں قرانی آیات لکھی ہوئی تھیں گندگی مل دی تھی۔ اسے پولیس کے حوالے کرنے سے پہلے لوگوں نے خاصا مارا پیٹا بھی تھا۔

سیموئیل کے خاندان نے اس کے مقدمہ کی پیروی نہیں کی تھی۔

کوٹ لکھپت جیل میں قید کے دوران میں سیموئیل مسیح کو ٹی بی کا مرض لاحق ہوگیا او اسے گلاب دیوی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ وہاں تعینات ایک پولیس اہلکار فریاد علی نے ایک ہتھوڑے سے اس کے سر پر وار کرکے اسے شدید زخمی کردیا تھا۔

ملزم کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور وہ جیل میں ہے۔

ایک وکیل پرویز چودھری نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کی ہوئی ہے کہ پولیس کے اعلی اہلکار اپنے ساتھی کو بچانے کے لیے ثبوت خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس لیے ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد