جائے نماز جلانے پر مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے شہر بہاولنگر میں پولیس نے حال ہی میں وفات پانے والے ایک امام مسجد کی جائے نماز اور چٹائی جلانےپر مقامی سکول کے اُستاد کوگرفتار کر کےاس کے خلاف مسلمانوں کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیاہے۔ سکول ماسٹر کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے محض یرقان کے جراثیم مارنے کے لیے یہ آگ لگائی تھی‘۔ تھانہ سٹی بہاولنگر کےڈیوٹی افسر بشیرالدین نے بتایا کہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ لیے بغیر اسے عدالتی تحویل میں ڈسٹرکٹ جیل بہاولنگر بھجوا دیا گیا ہے ۔ بہاولنگر کے علاقہ باگڑوالا کھو کی ایک مسجد کے امام محمد زبیر اکثر بیمار رہتے تھے۔تین روز قبل وہ فوت ہوگئے ان کی جگہ ان کے بیٹے محمد یاسین نے امام مسجد کے فرائض سنبھال لیے۔ اتوار کی سہ پہر سکول ٹیچر عثمان نے مسجد میں داخل ہوکر امام مسجد کی جائے نماز اور چٹائی کو مبینہ طور پر مسجد کے اندر ہی جوتے اتارنے والی جگہ پر رکھ کر آگ لگا دی۔ نئے امام مسجد اور دیگر اہل علاقہ نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا ۔ تھانہ کے ڈیوٹی افسرکے مطابق سکول ٹیچر نے ہجوم کو سمجھانے کی کوشش کی تھی اور کہا کہ ’امام مسجد کو پیپاٹائٹس سی کی بیماری تھی اور اسی بیماری کی وجہ سے وہ فوت ہوئے تھے اور انہوں نے اس بیماری کے جراثیم ختم کرنے کے لیے ان کے زیر استعمال چٹائی اور جائے نماز جلائی ہے‘۔ پولیس کے مطابق مقامی لوگوں نے اس کا عذر تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ’ اگر اس کی نیت جراثیم مارنے کی تھی تب بھی ملزم نے مسجد کے اند آگ لگا کر ان کے مذہبی عقائد کی توہین کی ہے‘۔ ایک مقامی اخبار کے نامہ نگار شفیق خان نے بتایا کہ ہجوم مشتعل تھا اور اس کا مطالبہ تھا کہ سکول ٹیچر کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا جائے جس کی سزا موت ہے تاہم پولیس نے قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد توہین مذہبی عقائد کا مقدمہ درج کیا ہے جس کی سزا دس سال قید ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||