BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2003, 19:24 GMT 00:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پیر کی توہین‘ پر سول جج قتل

فائرنگ میں جج مشتاق احمد کی بیوی زخمی ہو گئی ہیں
فائرنگ میں جج مشتاق احمد کی بیوی زخمی ہو گئی ہیں

لاہور سے سوادوسوکلومیٹر دور واقع ایک چھوٹے شہر سلانوالی ضلع سرگودھا میں ایک سول جج کو فائرنگ کرکے ہلاک اور ان کی اہلیہ کو زخمی کر دیا گیاہے۔

پولیس نے دو ملزموں کوگرفتار کر لیا ہے جبکہ ان کے دو ساتھی مفرور ہیں۔

مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ملزموں نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ ’سول جج نے تین سال قبل ان کے پیر کے بارے میں ایسے کلمات ادا کیے تھے جو ملزموں کے بقول ان کے پیر کی توہین کے مترادف ہیں۔‘

مقتول سول جج مہر مشتاق احمد ضلع جھنگ میں تعینات تھے اور عید کی چھٹیاں اپنےآبائی گاؤں چک ایک سو ساٹھ شاہ نکڈر میں گزار کر اتوار کے روز اپنی کار میں واپس جھنگ جا رہے تھے۔

تھانہ شاہ نکڈر کے ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ راستے میں’ چار کار سوار ملزمان گھات لگاۓ بیٹھے تھے انہوں نے ان کی کار پر فائرنگ کی جس سے کار کی اگلی نشستوں پر بیٹھے سول جج اور ان کی اہلیہ زخمی ہوگئے۔انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن سول جج زخموں کی تاب نہ لاسکے۔‘

پولیس نے جاۓ وقوعہ سے بیس کلومیٹر دور ایک ناکہ سے دو کار سوار ملزموں کو گرفتار کرلیا۔

ضلع سرگودھا کے تھانہ ساہیوال کے ڈیوٹی افسر محمد احسان نے بتایاکہ واردات کے بعد علاقے میں ناکے لگا دیے گئے تھے اور ساہیوال کے علاقہ میں لگے پولیس ناکہ پر مطلوبہ کار پر سوار دو ملزمان ثناء مصطفیٰ اور عارفین گرفتار ہوئے

ساہیوال ضلع سرگودھا میں ایک چھوٹا سا قصبہ بھی ہے۔

ملزموں کی گاڑی کے نمبر مقتول کی بیوہ نےپولیس کو بتاۓ تھے۔

ایس ایچ او شاھد نذیر اعوان کے مطابق’ ملزمان نے اقبال جرم کر لیا ہے ۔‘

مقتول سول جج کو جھنگ کی انتظامیہ نے کچھ عرصہ قبل مقامی دربار، سخی سلطان کے متولی نامزد کیے جانے کے تنازعہ کے حل کی مصالحتی کمیٹی کا رکن بنایا تھا اور انہوں نے اس سلسلہ میں مقامی لوگوں اور فریقین سے متعدد ملاقاتیں کی تھیں ۔

ملزمان اپنے آپ کو اس دربار کا مرید قرار دیتے ہیں۔

تھانہ ساہیوال کے اہلکار نے بتایا کہ ملزمان نے بیان دیا ہے کہ’ مصالحت کے دوران سول جج نے ان کے پیر صاحب کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کیے تھے اور وہ تین سال سے اس کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ‘۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق انہوں نے واردات کے لیے راولپنڈی سے کار کرایہ پر لی اور میانوالی سے اسلحہ لیا تھا ۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے ان دونوں کو پہلے ہی گاڑی سے اتار دیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد