| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدلیہ کی توہین، آئی جی کی طلبی
لاہور ہائی کورٹ نے ایک سرکاری تقریب میں عدلیہ کی توہین کے معاملہ پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور دیگر حکام سے تفصیلی وضاحت طلب کی ہے۔ اس سلسلہ میں متعلقہ حکام کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں چند روز قبل قیدیوں کی فلاح و بہبود کے سلسلہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی تھی، جس میں آئی جی جیل خانہ جات اور دیگر جیل حکام کے علاوہ علاقے کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور جہلم اور چکوال کے سیشن جج صاحبان نے شرکت کی تھی۔ تقریب کے بعد دونوں سیشن ججوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ایک خفیہ رپورٹ بھجوائی، جس میں عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ’اس تقریب میں بعض مقررین نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے ایسے کلمات ادا کئے ہیں جو توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں‘۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر چیف جسٹس ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس معاملہ کا ازخود نوٹس لیا اور منگل کو آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل جہلم کو عدالت طلب کیا اور چیمبر میں بلا کر ان سے وضاحت طلب کی۔ بعد ازاں ان کی زبانی وضاحت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ان سے سترہ نومبر کو مکمل اور واضح رپورٹ طلب کی ہے۔ جیل حکام کی رپورٹ کی روشنی میں عدالت اس تقریب میں موجود دیگر افراد اور خاص طور پر ان مقررین کو عدالت طلبی کے نوٹس جاری کر سکتی ہے جن پر توہین عدالت کا الزام ہے۔ تاحال توہینِ عدالت کرنے والے مبینہ افراد کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ہیں۔ پاکستان میں عدلیہ کے بارے میں ایسا بیان جس سے اس کی توہین کا پہلو نکلتا ہو قابل تعزیر ہے اور عدالت اس جرم میں جرمانہ یا قید کی سزا دے سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||