مذہبی پابندیوں پرامریکی ’غصہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے سعودی عرب پر مذہبی آزادیوں کی سخت خلاف ورزی الزام عائد کیا ہے اور سعودی عرب کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جہاں عبادت کی آزادی باعث تشویش ہے۔ اس حیرت انگیز ردِ عمل میں امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کو اس ممالک کی فہرست میں لانا پڑا جو اپنے لوگوں کو مذہبی آزادی نہیں دیتے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں قانونی طور پر یا عملی اعتبار سے مذہی آزادی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ویت نام اور ایرٹریا کو بھی ان ممالک میں شمار کیا گیا ہے جو اس حوالے سے امریکہ کے لیئے تشویش کا باعث ہیں۔ اس فہرست میں چین، برما، ایران، شمالی کوریا اور سوڈان شامل ہیں۔ تاہم اس نئے فیصلے سے امریکہ پر لازم نہیں کہ وہ سعودی عرب پر کوئی پابندی لگائے تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب میں صورتِ حال بہتر نہ ہوئی تو امریکہ مذہبی آزادیاں روکنے پر پابندیاں لگا سکتا ہے۔ سعودی عرب میں ایک انتہائی سخت گیر قسم کے سنی عقیدے کی پیروی کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ کسی اور مکتبِ فکر کو کوئی آزادی حاصل نہیں۔ اسلام کے علاوہ دیگر مذہبی عمارتوں اور علامتوں پر بھی کڑی پابندی ہے۔ سعودی حکومت ایسے گھروں پر چھاپے مارتی ہے جہاں غیر ملکی اپنے طریقۂ کار کے مطابق عبادت کرتے ہوں۔ اس مبینہ’جرم‘ میں کچھ عرصہ قبل کچھ فلپائینی باشندوں کو گرفتار کیا گیا تھا، بعد میں انہیں کوڑے مارے گئے اور پھر واپس فلپائن بھیج دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||