پاکستان: استحکام پر پھر سوالیہ نشان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا پاکستان میں موجودہ استحکام انتہائی نازک حالت میں ہے؟ کیا پاکستان کسی بڑے بحران کا متحمل ہو سکتا ہے؟ اس پہلو کا جائزہ لینے کے لیے امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے میری لینڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ کانفلکٹ مینیجمینٹ (Center for International Development and Conflict Management) سے ایک تحقیق کروائی ہے جس کے مطابق پاکستان کا ظاہری استحکام پائیدار نہیں ہے اور اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تصادم کی صورت حال پیدا ہوئی تو صرف ہندوستان معاملے کو سنبھالتے ہوئے جنگ روک سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ صلاحیت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے جنگ سے پیچھے نہیں ہٹےگا۔ تحقیق کے مطابق استحکام کے لیے استعمال کیے گئے سات اشاریوں میں سے زیادہ تر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان خطرناک صورت حال میں ہے۔ اگر چہ پاکستان میں بحران کو سنبھالنے کی بینظیر صلاحیت بھی ہے اور پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن بھی اس کے لیے کافی مددگار ہے لیکن پھر بھی اس کے اندرونی تضادات ایسے ہیں کہ بحران کی صورت حال میں معاملہ ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔
اس تحقیق کی اہمیت یہ ہے کہ یہ حکومتی آشیرباد سے ہوئی ہے اور امریکہ کی مستقبل کی پالیسی کو متاثر کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ 11/9 سے پہلے پاکستان کو ’ناکام ریاست‘ کا نام دینے میں رابرٹ کیپلان جیسے بہت سے امریکی دانشور پیش پیش تھے۔ جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حامی بننا قبول کر لیا تو پاکستان کو ناکام ریاست کہنے والے وقتی طور پر خاموش ہو گئے۔ اب اس بحث کو براہ راست سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دوبارہ سے چھیڑا ہے۔ اگر چہ یہ تحقیق صرف پاکستان کے بارے میں نہیں ہے لیکن یہ پہلو قابل غور ہے کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستانی صحافیوں کو خاص طور پر مدعو کیا تھا۔ اس پراجیکٹ کے روح رواں ڈاکٹر مونٹی جی مارشل کا کہنا ہے کہ انہوں نے جن اشاریوں کے تحت دنیا کے مختلف ملکوں کا مطالعہ کیا ہے ان کے مطابق پاکستان بہت سے پہلووں سے خطرے کے سرخ نشان کے بہت قریب ہے۔ پاکستان کا نازک استحکام دو عناصر کا مرہون منت ہے۔اول جنرل مشرف کا مستقبل اور دوم پاک ہند تنازعہ۔ ان کے خیال میں اس امر کا قوی امکان ہے کہ جنرل مشرف پر کیے گئے حملوں میں فوج کے حلقے شامل تھے جو بعد میں بھی ان کو ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ ڈاکٹر مارشل کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کو ہٹانے کے بعد فوج ہی اقتدار پر قابض رہے گی لیکن اسے مخالف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ افہام و تفہیم کرنا پڑےگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان پارٹیوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہے۔
جن سات اشاریوں پر یہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں ان میں اندرونی ملک سکیورٹی کی صورت حال اور تشدد کی سطح، ماضی میں خود سلامتی کا ریکارڈ، اقلیتوں کے خلاف تعصب، حکومتی ڈھانچے کی نوعیت (جمہوریت یا شخصی آمریت)، نظام حکومت کی پائیداری، معاشی ترقی کے لیے سماجی صلاحیتوں کا ہونا اور اڑوس پڑوس کے علاقے میں امن اور جنگ کی کیفیت۔ ان اشاریوں کے مطابق انسانی حفاظت، اقلیتوں کے خلاف تعصب اور نظام حکومت کی پائیداری میں پاکستان خطرے کے سرخ نشان کے قریب ہے جبکہ باقی اشاریوں میں خطرے کی نوعیت درمیانی ہے۔ اس کے علاوہ دو اور اشاریے بھی دیکھے گئے جن میں امن قائم کرنے کی صلاحیت میں پاکستان انتہائی حد تک کمزور ہے جبکہ مسلح تصادم کے اشاریے میں پاکستان درمیانی نوعیت کے خطرے سے دو چار ہے۔ اس کے مقابلے میں ہندوستان انسانی حفاظت اور معاشی ترقی کی صلاحیت میں خطرے کے نشان کے قریب ہے جبکہ باقی اشاریوں میں ہندوستان درمیانی درجے کے خطروں سے دو چار ہے۔ ہندوستان میں امن قائم کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے جبکہ مسلح تصادم سے بچنے میں کمزور ہے۔ اس کی غالباً وجہ پاکستان کی کمزوری ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان میں تشدد اور مذہبی اور قومی اقلیتوں کے خلاف تعصب بہت بڑھا ہوا ہے۔ حکومتی نظام پائیدار نہیں ہے کیونکہ 1988 سے لے کر اب تک پانچ حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں اور اب شخصی حکومت قائم ہے جو کہ نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔ خطے کی صورت حال بھی پاکستان کے لیے سازگار نہیں ہے۔ مزید برآں پاکستان اپنے اندرونی تضادات سے فرار ہونے کے لیے بیرونی کشمکش (ہندوستان کے ساتھ) کو استعمال کرتا ہے۔ لہذا ممکنہ تصادم کی صورت میں پاکستان جنگ سے پیچھے ہٹنے کی صلاحیت سے قاصر ہے۔ ڈاکٹر مارشل کا کہنا ہے کہ پاکستان مذکورہ طویل المیعاد خطروں سے دو چار ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||