قدم ملا کے چلتے جائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری نے اپنے ہندوستانی ہم منصب سے حالیہ ملاقات کو کامیاب قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس سال ستمبر میں جب وہ جناب نٹور سنگھ کی دعوت پر دہلی جائیں گے تو تمام حل طلب مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوگی اور اس میں بقول ان کے بڑی پیش رفت کا بھی امکان ہے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ جناب نٹور سنگھ نے پاکستان سے واپس دہلی پہنچنے کے بعد اخباری کانفرنس سے جو خطاب کیا ہے اس میں انہوں نے بھی کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے ،نہ صرف یہ، بلکہ اس سلسلے میں پاکستانی رہنماؤں کی تعریف کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کا رویہ ساری گفتگو میں بہت مثبت رہا۔ جناب نٹور سنگھ کی جانب سے پاکستانی حکمرانوں کے بارے میں اس اعتراف سے نہ صرف اچھی سفارتکاری کا عندیہ ملتا ہے بلکہ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان مذاکرات کے اس عمل کو جاری رکھنے کا اتنا ہی خواہشمند اور متمنی ہے جتنا کہ پاکستان۔ تاہم جناب نٹور سنگھ نے مذاکرات کی رفتار کے بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ یہ مذاکرات ہیں، سو میٹر کی ریس نہیں۔ میں جناب نٹور سنگھ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے اور اس سے فائدہ کم اور نقصان کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مذاکرات ہیں دو ایسے ملکوں کے درمیان، مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے کئے جارہے ہیں، جنہیں یہ مسائل ورثے میں ملے ہیں اور گزشتہ 57 سال میں انہیں حل کرنے کی ہر کوشش نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ انہیں مزید الجھانے کا سبب بھی بنی ہے، اس لئے پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے تا کہ وہ جو ایک فضا بنی ہے وہ بگڑنے نہ پائے۔ ماضی میں اکثر وبیشتر یہ ہوا ہے کہ دونوں ملکوں میں مذاکرات بڑی شدومد سے شروع ہوئے اور یوں لگا کہ بس اب معاملات حل ہونے والے ہیں کہ اچانک ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور دھونس دھمکی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔محمد علی بوگرا کے زمانے میں ہم یہ کیفیت دیکھ چکے ہیں کہ بوگرا صاحب بنڈونگ کانفرنس کے سربراہی اجلاس سے واپس لوٹے تو اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کی شان میں رطب السان تھے ، اس حد تک کہ ان کو بڑا بھائی کہہ بیٹھے لیکن اچانک یہ دوستی دشمنی میں بدل گئی۔ اسی طرح جناب ایوب خان کے زمانے میں دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آتے ہوئے دکھائی دئیے ، یہاں تک کے تاس سندھ کا سمجھوتا بھی ہوگیا اور دونوں ملکوں کی تسلی کے مطابق ہوا۔ پھر پنڈت جواہر لال پاکستان کے دورے پر بھی آئے اور مری بھی گئے، ایوب خان مرحوم کچھ اتنے جوش میں آگئے کہ انہوں نے مشترکہ دفاع کی تجویز پیش کردی ۔ اب انہوں نے یہ تجویز کس جذبے کے تحت پیش کی تھی اور اپنی طور پر پیش کی تھی یا کسی کے کہنے پر پیش کی تھی یا کسی کےخلاف پیش کی تھی یہ ایسے سوال ہیں جو میرے نزدیک انتہائی غیر اہم ہیں ، میں سمجھتا ہوں کے اگر یہ سمجھوتا کسی بھی بہانے ہوجاتا تو آج دونوں بہت ساری مشکلات سے آزاد ہوجاتے، دونوں ملکوں کے دفاعی اخراجات جو سالانہ بجٹ کا ایک خاصہ بڑا حصہ کھا جاتے ہیں وہ کم ہوجاتے اور یہ رقم وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کر سکتے ، وہ جوہری اسلحہ بنانے کے عذاب سے بھی بچ جاتے ۔ یقین مانیے میرے نزدیک یہ واحد طاقت یا صلاحیت ہے جو ان ملکوں، قوموں اور انسانوں کے لیےجنہیں یہ حاصل ہوتی ہےعذاب بن جاتی ہے اور وہ دوسروں کے لئے عذاب بن جاتے ہیں ۔ اگر وہ چاہیں بھی تو اس سے نجات حاصل نہں کر سکتے۔ اب امریکہ کو ہی دیکھ لیجئے کہ پوری دنیا کو جوہری توانائی کے حصول سے باز رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے لیکن اپنے پاس جو ہے اس سے نجات کا ذکر بھی کرنے سے گریزاں ہے۔ پھر جوہری طاقت رکھنے والے ملکوں میں رعونت بھی اتنی آجاتی ہے کہ اپنے آپ کو نعوذبااللہ خدا سمھنے لگتے ہیں۔ مجھے یہ یقین ہے کہ ہندوستان اور پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل تو کرلی ہے لیکن رعونت کے اس مقام پر ابھی نہیں پہنچے ہیں جو فرعونیت کے زمرے میں آتی ہے۔ مختصر یہ کہ اگر ایوب خان کی اس تجویز کو پنڈت جی مان لیتے تو یہ دونوں ملکوں کے لئے بہت اچھا ہوتا ، بہر حال وہ ایک بڑے مدبر تھے اور ان کا دنیا کے امن پسندوں میں بڑا احترام تھا اس لئے اگر انہوں نے یہ فیصلہ کیا تو یقینی کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔ بہرحال اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملک سو میٹر کی ریس بھاگنے سے تو گریز کریں لیکن قدم ملا کے ٹہلتے ضرور رہیں اور اگر مناسب سمجھیں تو کچھ ایسے اقدامات ضرور کریں جن سے ان لوگوں کی ہمت افزائی ہو جو انتہائی نا مسائد حالات میں بھی ایک دوسرے کی قریب آنے کی دعائیں مانگتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||