BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 August, 2004, 06:13 GMT 11:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقے:القاعدہ اور حکومتی سیاست

اٹھارہ جون کو قبائلی رہنما نیک محمد فوج کی کارروائی میں ہلاک ہوگئے
اٹھارہ جون کو قبائلی رہنما نیک محمد فوج کی کارروائی میں ہلاک ہوگئے
زیادہ پرانی بات نہیں کسی زمانے میں پاکستان ٹیلی وژن سے مزاحیہ پروگرام ’ففٹی ففٹی‘ نشر ہوا کرتا تھا۔ کافی مقبول تھا اور یہی شاید اس کی بندش کی وجہ بھی تھی۔

خیر اس پروگرام میں ایک غیرملکی کو عجائب گھر جیسے ایک مقام پر عجیب وغریب چیزیں دیکھائی جاتی تھیں جس پر وہ غیرملکی بول اٹھا کرتا تھا ’وٹ آ کنٹری، وٹ آ کنٹری (کیا ملک ہے، کیا ملک ہے)۔‘

باقی کئی مواقع پر بھی دل کرتا رہتا ہے کہ اس کا ورد آدمی زور زور سے کرے لیکن جذبات پر قابو پا لیا جا سکتا ہے۔ لیکن گذشتہ چند روز کے واقعات سے یہ قابو رکھنے کی طاقت بھی ہاتھ سے چلی گئی۔

اس کی پہلی وجہ پاکستانی فوج کا گذشتہ کئی ماہ سے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف جنگی کارروائیوں میں مصروف ہونا ہے۔ ہلاک عام فوجی اور قبائلی شہری ہوئے ہیں لیکن القاعدہ کے مشتبہ افراد پکڑے ملک کے دوسرے کونے یعنی گنجان آباد پنجاب سے ہیں۔ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی القاعدہ کے اراکین کی گرفتاریوں کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔

دوسری جانب تمام سرکاری توجہ قبائلی علاقوں پر ہی مرکوز نظر آتی ہے۔ اس علاقے میں اب تک کی فوجی کارروائیوں میں فریقین کے دو سو سے زائد افراد قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لیکن آج تک القاعدہ کا کوئی بڑا رہنما وہاں سے شکار نہیں ہوسکا۔ البتہ اس سلسلے میں پنجاب ضرور پیش پیش رہا ہے۔ لاہور اور راولپنڈی کے علاوہ فیصل آباد، گجرات اور اب تو حافظ آباد جیسے چھوٹے شہروں کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔

کئی لوگوں کے خیال میں گنجان آباد علاقوں میں شاید القاعدہ کی ’بڑی مچھلیوں‘ کے چھپنے کے امکانات قبائلی علاقوں سے زیادہ ہیں۔ بڑی آبادی میں کسی ایک یا دو افراد پر نظر رکھنا انتہائی مشکل کام ہے۔

سرکاری کہانی سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کی تاریکی میں ایک مکان کے ایک کونے والے کمرے میں داخل ہونے کے بعد مہینوں تک وہیں پڑے رہیں تو کون آپ کو دیکھ سکتا ہے۔ ایک عام مقامی شخص ان کی ’سیوا‘ کے لئے کافی ہے۔

القاعدہ قبائلی علاقوں میں؟
 قبائلی علاقوں میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ شک کی انگلی کا رخ اب بھی قبائلی علاقوں کی ہی جانب ہے اور شاید رہے گا۔ اس کی وجہ کہا جاتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے لئے پائی جانے والی ہمدردیاں ہیں۔ لیکن دریافت تو آج کل وہاں سے ہو رہی ہیں جہاں کسی کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ القاعدہ کے لئے کوئی حمایت موجود ہے۔

تو پھر قبائلی علاقوں میں آخر کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ لیکن شک کی انگلی کا رخ اب بھی قبائلی علاقوں کی ہی جانب ہے اور شاید رہے گا۔ اس کی وجہ کہا جاتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے لئے پائی جانے والی ہمدردیاں ہیں۔ لیکن دریافت تو آج کل وہاں سے ہو رہی ہیں جہاں کسی کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ القاعدہ کے لئے کوئی حمایت موجود ہے۔

قبائلی علاقوں میں بھی غیرملکی موجود ہوں گے۔ اس سے انکار نہیں۔ لیکن ان کی گرفتاری کے لئے حکومت مقامی آبادی کے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے وہ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔

عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ چلو قبائلی علاقے کے لوگوں کا خدو خال اور قد کاٹھ عربوں سے ملتا جلتا ہوگا اس لئے پہچانے نہیں جا سکتے لیکن احمد خلفان جیسا شکل و صورت کا آدمی گجرات کے صنعتی شہر میں اتنے دن تک کیسے چھپ سکتا تھا؟

وزیرستان کے لوگوں پر تو القاعدہ کے الزام میں آج کال نان و نفقہ بند ہے، وہ بیمار ہوں تو دیگر علاقوں میں کسی اچھے ہسپتال نہیں جا سکتے، آنے جانے پر پابندی ہے، ان کے پھل فروٹ کھیتوں میں ہی گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیے جاتے ہیں اور کسی ایک شخص کی سزا پوری قوم قبیلے کو بھگتنی پڑتی ہے۔ کیا گجرات اور حافظ آباد کے لوگوں پر یہ پابندیاں لگ سکتی ہیں؟

یقینا نہیں۔ یہ سب سزا قبائلیوں کو شاید اس لئے دی جا رہی ہے کہ اتنے شور شرابا کے بعد بھی ان کے پاس سے کوئی القاعدہ کا ایسا بڑا رہنما آج تک گرفتار نہ ہوسکا جس کی وجہ سے وفاقی وزراء میں عالمی میڈیا پر بیانات دینے کی دوڑ نہ لگ سکی ہو۔ ایک وزیر دوسرے کو پیچھے نہ چھوڑ سکا ہو۔ جو پکڑا گیا کہاں گیا کچھ معلوم نہیں۔ لیکن جو پنجاب سے گرفتار ہوتا ہے اس سے متعلق عجیب و غریب کہانیاں سامنے آنی شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ کمپوٹر کا ماہر تھا، القاعدہ کے لئے اتنا اہم تھا، فلاں فلاں ۔۔۔

لیکن ایسی کوئی کہانی قبائلی علاقوں سے گرفتار ہونے والوں کے بارے میں سامنے کیوں نہیں آئیں؟

ماہرین کے مطابق حکومت کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ قبائلی علاقوں میں بھی ڈنڈے کی بجائے خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کے اپنے نیٹ ورک پر زیادہ توجہ دیں۔ بہتر معلومات ہی قبائلی علاقوں سے بھی القاعدہ کے مشتبہ افراد کو اس طرح گرفتاری میں مدد دیں گی جس طرح پنجاب میں انہیں دودھ میں سے مکھی کی طرح نکالنے میں دے رہی ہے۔ ایک ہی ملک، ایک ہی قانون اور ایک ہی لوگوں کے لئے دو مختلف طریقہ کار ناانصافی لگ رہی ہے۔

اس ملک یا شاید اس پر حکمرانی کرنے والوں کی دوسروں کو حیران و پریشان کرنے کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ وٹ آ کنٹری کے ساتھ ساتھ وٹ آ رولنگ کلاس بھی کہا جائے تو شاید زیادہ بہتر ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد