BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 June, 2004, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیک محمد کا آخری انٹرویو
نیک محمد اور پاک فوج کے جنرل صفدر حسین
’مرتے دم تک لڑائی جاری رہے گی‘
قبائلی رہنما نیک محمد جمعرات کی رات پاک فوج کے ایک حملے میں ہلاک ہو گئے۔

نیک محمد نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے بات کی۔ پیش ہے اس کے چند اقتباسات۔

بی بی سی: یہ کہا جاتا ہے کہ آپ تربیت یافتہ جنگجو ہیں کیونکہ آپ نے افغان جنگ میں حصہ لیا ہے۔

نیک محمد: ہاں یہ بالکل سچ ہے۔ میں نے افعانستان میں طالبان کے ساتھ بہت وقت گزارہ ہے۔ میں وہاں اپنی مذہبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گیا تھا۔ میں نے طالبان کے شانہ بشانہ شمالی اتحاد اور بعد میں امریکی فوج کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔

بی بی سی: پاکستان حکومت یہ شبہ کرتی ہے کہ آپ غیر ملکی عناصر کو پناہ دیے ہوئے ہیں جن کے متعلق خیال ہے کہ وہ القاعدہ کے اراکین ہیں۔

یہ بالکل بے بنیاد ہے۔ افغان جہاد کے دوران پوری دنیا سے سینکڑوں مجاہدین روس کے خلاف افغان جنگ میں حصہ لینے آئے۔ اس وقت سے یہ افراد افغانستان، قبائلی علاقوں اور پاکستان کے دوسرے شہری علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

ان میں سے کئی قبائلی علاقوں میں پندرہ سال سے زائد عرصے سے رہ رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں کی ہیں اور یہاں گھر بنائے ہیں۔ اب امریکہ کے دباؤ پر پاکستان نے جنوبی وزیرستان میں آپریشن شروع کر دیا ہے جس کو وہ القاعدہ کے مشتبہ افراد کے خلاف آپریشن کہہ رہے ہیں۔

شوکت سلطان
میجر جنرل شوکت سلطان نیک محمد کی ہلاکت کا اعلان کر رہے ہیں

یہ بالکل غلط ہے کہ القاعدہ کے ممبران یہاں چھپے ہوئے ہیں۔ جو غیر ملکی یہاں رہ رہے ہیں وہ دہشت گرد نہیں ہیں، بلکہ وہ افغان جہاد میں حصہ لینے والے مجاہدین ہیں۔

بی بی سی: پاکستان کے صدر جنرل مشرف اور دوسرے حکومتی اہلکاروں نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کے نمبر دو ایمن الظواہری اور ازبک شدت پسند طاہر یالدیشو بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔

نیک محمد: یہ ان افواہوں سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو مغربی میڈیا باقاعدہ پھیلا رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اتنے مشہور لوگ یہاں چھپ سکتے ہیں۔

بی بی سی: حکومت نے آپ کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا کہ اگر غیر ملکیوں کو اندراج کے لیے قائل کریں۔ لیکن آپ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ کیا ہوا تھا؟

نیک محمد: غیر ملکیوں کا اندراج معاہدے کا حصہ نہیں تھا۔ میں نے کبھی اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔

میں نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا تھا اور یقین دلایا تھا کہ میں اور میرے ساتھی ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے جو پاکستان کے مفادات کے خلاف ہو۔

News image
پاکستان فوج کا ’کامیاب‘ آپریشن

بی بی سی: تو پھر آپ نے معاہدے کے مطابق اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کیوں کیا تھا؟

نیک محمد: میں نے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے نہیں کیا تھا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ حوالے کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اپنا مشن ترک کر دیں۔ ایسا نہیں تھا۔ میں اپنے نقظۂ نظر پر قائم رہا اور آخر دم تک لڑتا رہوں گا۔

بی بی سی: اب حکومت چاہتی ہے کہ سیاسی عمل دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ غیر ملکی عناصر پر تنازعہ ختم کیا جا سکے۔ کیا آپ حکومت سے اس بارے میں بات کریں گے؟

نیک محمد: کبھی نہیں۔ میں اس عمل کو رد کرتا ہوں۔ حکومت نے نیا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے اور ہم اس کی مزاحمت کریں گے اور اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ہم اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتے۔

بی بی سی: آپ کا گول کیا ہے؟

نیک محمد: یہ بالکل صاف ہے۔ ہم پاکستان اور افغانستان میں بنائی جانے والے کٹھ پتلی حکومتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہم انہیں اتار دیں گے تب امن آ جائے گا اور کوئی بھی مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد