’دوزخ‘ سے گزر رہے ہو تو چلتے رہو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ شاید چرچل نے کہا تھا کہ when you go through hell, keep going یعنی ’جب تم دوزخ سے گزر رہے ہو، تو چلتے رہو‘۔ وانا کے رہائشی نیک محمد نے چاہے چرچل کے متعلق سنا بھی نہ ہو لیکن وہ ان کے قول پر قائم رہا اور چلتا رہا۔ راہ کا تعین نیک محمد نے خود کیا تھا اور آخر کار یہ راہ اسے وہاں ہی لے گئی جہاں اس راہ پر چلنے والے اکثر پہنچ جاتے ہیں۔ میرے لیے نیک محمد صرف نیک محمد تھا۔ وہ کوئی دہشت گرد تھا، شدت پسند تھا، مزاحمت کار تھا کہ باغی (وہ ساری اصطلاحات جو آج کل ان جیسے لوگوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں) اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں نے کچھ مہینے پہلے نیک محمد کا نام سنا تھا، اس کو ایک میجر جنرل کے گلے لگتے دیکھا تھا، پاکستان حکومت کی طرف سے وہ اور اسکے ساتھیوں کی معافی کے اعلان کے متعلق پڑھا تھا اور اس کے بعد اس کا وہ بیان جس میں اس نے کہا تھا کہ غیر ملکیوں کا اندراج پاک فوج کے ساتھ معاہدے میں شامل نہیں تھا اس لیے میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اور آخر میں نیک محمد کے دو انٹرویو جو بی بی سی کے ہمارے ساتھی ہارون رشید نے کیے تھے۔ بس میں نیک محمد کو اتنا ہی جانتا ہوں۔ نیک محمد کا فلسفہ بالکل سیدھا سادہ تھا: ’ہم نے ان کے ساتھ وفا کی۔ انہوں نے نہیں کی۔ میں نے ان کی سب شرطیں مان لی، انہوں نے ایک بھی شرط پوری نہیں کی۔۔۔ ہم نے کوئی چوری نہیں کی۔ کیوں بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے حوالے کر دو۔۔۔ جب (وہ) فوج کسی کو ہلاک کرتے ہیں تو اس کی لاش کے قریب کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ یہ خارجی ہے۔ مردہ بات تو نہیں کرتا کہ وہ افغانی ہے یا وزیری ہے‘۔ نیک محمد، اسامہ بن لادن یا ملا عمر نہیں تھا۔ اس نے جو کیا اس پر قائم رہا اور نہ ہی اپنا علاقہ چھوڑ کر کہیں گیا۔ اس نے جہاں ’بغاوت‘ کی وہیں موت پائی۔ شاید اس کی یہی ادا وہاں کے رہائشیوں کو ہمیشہ یاد رہے۔ نیک محمد نے صرف یہی کیا کہ وہ دنیا میں ’دوزخ‘ کے راستے پر چل نکلا اور چلتا رہا۔ اور یہی اس جیسے ہزاروں ’شدت پسند‘ کر رہے ہیں۔ چاہے وہ اسامہ ہو یا ملا۔ چرچل نے اس کا آخر نہیں بتایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||