BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 April, 2004, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برتھ مارک اور میرا پیدائشی حق

News image
بلال اور عدن
میں تو انہیں چھوڑتا ہوں لیکن ہسپتال مجھے نہیں چھوڑتے۔ میرا اور ہسپتالوں کا ساتھ کچھ کمبل جیسا ہو گیا ہے یعنی میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں پر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔

گزشتہ دنوں میں پھر ہسپتال میں رہ آیا، تقریباً تین دن۔ لیکن اس مرتبہ مجھے وہاں میری تکلیف لے کر نہیں گئی بلکہ جو چیز مجھے وہاں لے گئی وہ میری تکلیف سے کئی گنا زیادہ تکلیف تھی۔ مجھے اپنے بیٹے بلال کی سرجری کے لئے ہسپتال میں تین دن رکنا پڑا۔ وہاں مجھے دل کی تکلیف کا مطلب بھی سمجھ آیا جس کا میں رونا اکثر روتا رہتا ہوں۔ دل کی تکلیف ہوتی ہے جب آپکا کا اپنا بچہ آپ کے سامنے اچھی بھلی باتیں کرتا ایک ٹیکہ لگانے سے ایک دم چپ ہو جائے اور گہری نیند سو جائے۔ دل کی تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب آپ سے اس فارم پر دستخط کروائیں جس پر لکھا ہو کہ آپکے بچے کو آپریشن کے دوران فلاں فلاں مسائل درپیش آ سکتے ہیں۔ اور دل کی تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب آپریشن کے بعد چادر اور تکیے پر آپکو آپ کے بچے کا خون نظر آئے۔ دل کی تکلیف اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ میں نے یہ سب کچھ تین دنوں میں دیکھا ہے۔ لیکن میں خوش ہوں کہ میرا بچھ میرے ساتھ ہے اور اللہ کے فضل سے اب تندرست ہے۔

بلال کو ہسپتال کیوں جانا پڑا۔ مختصراً یہ کہ پیدائشی طور پر اس کی ناک پر کچھ شریانیں اکٹھی ہو گئی تھیں اور ایک گول سی شکل اختیار کر گئی تھی۔ ویسے تو ان کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا (کم از کم ہمیں) لیکن جو بھی پہلی مرتبہ اسے دیکھتا تو اس کے بارے میں ضرور پوچھتا۔ اس لئے کہ بچے کو برا نہ لگے ہم نے اس چیز کو ’برتھ مارک‘ کا نام دیا اور یہ ہی بلال کو بتایا۔ اصل میں سچ بھی یہی تھا۔ اب جب بھی کوئی پوچھتا وہ فوراً بتاتا کہ یہ برتھ مارک ہے۔ لیکن سکول جانے کے بعد وہ پوچھنے لگ گیا تھا کہ یہ کیا چیز ہے اور یہ کب ٹھیک ہو گی۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ سکول اس سلسلے میں بڑی بری جگہ ہے لیکن میں نہیں مانتا۔ خیر طے یہ پایا کہ یہی وقت ہے کہ اس کا آپریشن کیا جائے اور آخر وہ دن آ گیا۔

یہ میرے لئے بھی ایک سبق اور ایک انوکھا تجربہ تھا۔ پہلا یہ کہ جب سے بلال پیدا ہوا ہے میں کبھی لگاتار چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ نہیں رہا۔ ان تین دنوں میں میں ہر پل اس کے ساتھ رہا۔ اس مرتبہ کیونکہ میری بیوی عمرانہ ہمارے دوسرے بیٹے ایک سالہ عدن کو سنبھال رہی تھی اس لئے اس نے مجھے یہ تین دن بچے کے ساتھ رہنے کی ’اجازت‘ دے دی۔ میں اسے اجازت ہی کہوں گا کیونکہ ماں تو بذاتِ خود ایک اچھا بھلا فائیو سٹار ہسپتال ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر میں بھلا بلال کے ساتھ کیسے ’ایڈمٹ‘ ہو سکتا تھا۔

خیر جو بات میں شیئر کرنا چاہتا ہوں وہ بچے کے حقوق کے بارے میں ہے۔ آپریشن سے پہلے ایک نرس میرے پاس آئی اور کہا کہ میں نے آپ کی موجودگی میں بچے سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔ میں نے کہا کر لیں۔ وہ بلال کو لے کر بستر پر بیٹھ گئی اور اسے ایک فائل میں سے تصاویر دکھانا شروع ہو گئی اور ساتھ ساتھ ان کے متعلق بتانے لگی۔ وہ تصاویر آپریشن تھیٹر اور ان سب چیزوں کی تھیں جہاں بلال کو لے کر جانا تھا یا ان سے گزرنا تھا۔ تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

’یہ ’میجک ملک‘ ہے یہ آپ کے ہاتھ پر لگایا جائے گا۔ اس کے بعد یہ تتلی نما ’فلائی‘ آپ کے ہاتھ پر اس طرح لگائی جائے گی جس طرح اس تصویر میں اس بچی کے ہاتھ پر لگی ہوئی ہے۔ اس کے بعد آپکو یہ کارٹون والا گاؤن پہنایا جائے گا اور آپکو اس بیڈ پر سیر کراتے ہوئے اس کمرے میں لے جایا جائے گا۔ پھر یہ تین طرح کے رنگوں والی چیزیں جن کے ساتھ یہ تاریں لگی ہوئی ہیں آپکے جسم پر لگا دی جائیں گی۔ بتائیں آپکو پیلی والی کہاں لگانی ہے، لال والی کہاں اور نیلی والی کہاں۔ اس کے بعد آپکی انگلی پر ایک چیز لگائی جائے گی جس میں سے سرخ بتی نکلے گی۔ بالکل اس طرح۔ یہ سب چیزیں ایک بڑے کمپیوٹر سے لگا دی جائیں گی۔ کیا آپ کے گھر میں کمپیوٹر ہے۔ اس کمپیوٹر میں آپ کے نمبر آئیں گے کہ آپ کتنے بہادر ہیں۔ اس کے بعد یا تو آپکے منہ پر پائلٹ کی طرح ایک ماسک لگا دیا جائے گا جس سے آپ سانس لیں گے۔ یا پھر میجک ملک آپ کے ہاتھ پر لگائی ہوئی فلائی میں ایک ٹیکے کی مدد سے گھسا دیا جائے گا۔ آپ ذرا اس ماسک سے سانس لے کر تو دکھائیں۔ دیکھیں کہ آپ یہ غبارہ کتنا پھلا سکتے ہیں۔ کیا آپ خوش ہیں کہ جو کچھ میں نے آپکو بتایا وہ آپ کو سمجھ آیا۔ کیا آپ نے کچھ اور پوچھنا ہے۔‘

میرا دل کئی بار چاہا کہ اسے کہوں کہ کوئی بات نہیں میں اسے سمجھا دوں گا تم اتنی تفصیل میں نہ پڑو۔ لیکن پہلے والی نرس کی وہ ڈانٹ یاد آ گئی جس میں جب اس نے مجھے کہا کہ بلال کا پیشاب ٹیسٹ کرنا ہے تو میں نے کہا کہ ٹھیک ابھی لے آتا ہوں۔ اس نے میری طرف غور سے دیکھا اور کہا کہ آپ کا نہیں کرنا آپ کے بچے کا کرنا ہے۔ میں نے پھر زور دیا کہ مجھے معلوم ہے۔ اس کا جواب تھا کہ ’پہلے بچے سے پوچھ تو لیں کہ اسے کرنا بھی ہے کہ نہیں آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ میں لے آتا ہوں‘۔ اسے کیا معلوم کہ ہمارے ہاں تو یہ رواج نہیں ہم تو جو بچے کو کہیں وہی ہونا چاہیئے اور وہی اسے کرنا ہوگا چاہے پیشاب ہی ہو۔ یہاں دنیا کچھ اور طرح کی ہے۔ یہاں بچے کو یہ حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کے ساتھ کیا ہونا ہے۔

خیر آپریشن تھیٹر پہنچ کر سب اسی طرح ہوا جس طرح فائل والی تصویروں کو دکھا کر نرس نے سمجھایا تھا۔ بلال خوش ہو کر وہ سب چیزیں کروا رہا تھا اور میرا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں میرا دل چاہ رہا تھا کہ کاش میں بلال جتنا ہوتا اور مجھے کسی چیز کا علم نہ ہوتا۔ آگہی کے مسئلے بڑے خطرناک ہیں۔ خیر وہ لمحہ آ گیا جب میجک ملک بلال کے ہاتھ میں گھسایا گیا۔ اس وقت وہ کہہ رہا تھا کہ میری بہادری کے نمبر کمپیوٹر پر آ رہے ہیں وہ دیکھ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکا اور ایک دم سو گیا۔ اسے اینستھیزیا دیا جا چکا تھا۔

OK dad. Thanks. You can go now and relax.

ڈاکٹر نے مجھے کہا اور میں نرس کے ساتھ کمرے سے باہر چلا گیا۔ ڈیڑھ گھنٹے تک یوں تو میں وارڈ میں بیٹھا بلال کا انتظار کرتا رہا لیکن اصل میں میں اس کے ساتھ آپریشن تھیٹر میں ہی موجود تھا۔ پھر بلال آ گیا اور ہوش میں آنے کے بعد اس کا پہلا سوال تھا بابا کیا میرا برتھ مارک ٹھیک ہو گیا۔ میں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ مجھے اٹھائیں اور باتھ روم کے شیشے میں مجھے دکھائیں۔ میں نے اسے دکھایا اور ناک پر لگے ٹانکوں کے متعلق بتایا۔ اس سارے تجربے کے بعد مجھے لگا کہ وہ میری بات آسانی سے سمجھ گیا۔ بلال چار سال کی عمر میں ہی ڈاکٹر بن گیا ہے۔

چار سال پر ایک لطیفہ بلال کے لئے۔ ایک بچہ اپنی دادی سے پوچھتا ہے کہ دادی آپ کی عمر کتنی ہے۔ دادی جواب دیتی ہے کہ مجھے معلوم نہیں۔ بچہ معصومیت سے کہتا ہے کہ اپنا جانگیہ الٹ کر دیکھیں اس میں لکھا ہوتا ہے کہ اسے کس عمر تک کے بچے پہن سکتے ہیں۔ میرے میں تو لکھا ہے۔

سدا ہنستے مسکراتے رہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد