’تھو ٹائم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دو ہفتوں سے میں اور میرے بچے ’الٹی سیدھی‘ حرکتیں کر رہے ہیں۔ کچھ ایسی لاپرواہی ہوگئی کہ پیٹ خراب ہو گئے اور پھر بس کبھی منہ سے اور کبھی۔۔۔ ہسپتال تک جانا پڑا اور ڈرپ اور او آر ایس نے کچھ جان میں جان ڈالی۔ اب خدا کا شکر ہے۔ دوستوں نے کہا تم کو لاہور کا پانی نہیں پینا چاہیئے تھا۔ ’تم صرف منرل واٹر پیو اور وہ بھی نیسلے کا‘۔ ساری عمر لاہور میں رہ کر اب وہاں کا پانی نہ پینے کا مشورہ عجیب سا لگتا تھا لیکن خیر یہ بھی کیا۔ جہاں بھی گیا منرل واٹر کی بوتلیں ساتھ لیں۔ بلکہ گاڑی میں پانی نے افراد سے تقریباً زیادہ ہی جگہ گھیری ہوتی تھی۔ لمبے سفر میں بھی اس کا خیال رکھا کہ منرل واٹر ضرور ساتھ رکھنا۔ شیخوپورہ کے قریب جب پانی کم پڑ گیا تو وہاں سے پانی خریدا۔ جب پینے لگا تو غور کرنے پر پتہ چلا کہ یہ نیسلے نہیں بلکہ اسی طرح کی بوتل اور پیکینگ میں نیچر لکھا ہوا ہے۔ قیمت اور پانی کا ’رنگ‘ وہی تھا جو نیسلے کا ہوتا ہے۔ پیٹ کی خرابی کے حوالے سے ایک اور واقعہ سناتا چلوں۔ ہماری ایک قریبی رشتہ دار حج پرگئیں اور حج سے واپسی پر بھائی نے انہیں مبارکباد دینے کے لیئے گھر پر ان کی دعوت کی۔ طرح طرح کے کھانوں رکھے جن میں لاہور کا لذیذ ہریسہ بھی شامل تھا۔ سب کو دعوت اور کھانا بہت پسند آیا۔ کوئی دو دن بعد اس خاتون کا فون آیا کہ بھئی کیا کروں جب سے دعوت سے واپس لوٹی ہوں پیٹ خراب ہے۔ ’میں نے تو اتنے چکر حج کے دوران نہیں لگائے جتنے غسل خانے کے لگا آئی ہوں۔‘ میں نے بھی شاید ہریسہ ہی کھایا ہوگا اور جب کبھی دوبارہ پاکستان جاؤں گا تو پھر ہریسہ کھاؤں گا۔ بچتا نہیں ہے کافر پلیٹ میں پڑا ہوا۔ لاہور میں قریبی اور اخباری (دونوں الگ الگ ہیں) دوستوں سے بھی ملا اور ملک کے حالات اور واقعات پر بات چیت ہوئی۔ زیادہ تر نے ڈاکٹر قدیر کے مسئلے اور اس سے وابستہ قوم کی شرمندگی کے حوالے سے بات کی۔ لیکن ایک دوست ایسا تھا جس کی بات میں ڈاکٹر قدیر تو نہیں تھے لیکن شرمندگی بھرپور تھی۔ ہوا یوں کہ کاروبار کے سلسلے میں انہیں ملنے اٹلی سے ایک تاجر پاکستان آیا۔ کاروبار بھی ہوا اور اس کے کہنے پر اسے لاہور کی سیر بھی کروائی گئی۔ اسے لاہور کی سڑکوں پر پیدل پھرنے کا شوق تھا جس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میزبان اسے لاہور کی سڑکوں پر بھی گھماتے رہے۔ جب وہ ایک جگہ ایک بس کے پاس سے گزر رہے تھے کہ بس میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے ’آخ‘ کی آواز نکالی اور 45 کے ذاویئے سے باہر کی طرف تھوک پھینک دیا۔ جو بدقسمتی سے چھ فٹ لمبے اطالوی مہمان کے سر پر آ گرا۔ ایک ہنگامہ بھرپا ہوا۔ میزبانوں نے خوب گالیاں نکالیں۔ ڈرائیور نے ’گورے‘ کو دیکھ کر بس بھی روک دی۔ تھوک پھینکنے والے شخص کو بس سے باہر نکالا گیا۔ وہ بہت حیران اور پریشان تھا کہ کس مصیبت میں پھنس گیا اور آخر اس نے ایسا کیا کر دیا ہے کہ لوگ اس کے درپے ہیں۔ یہ ہنگامہ دیکھ کر اس نے اطالوی سے مخاطب ہو کر معصومیت سے کہا کہ ’یار کی ہویا تو میرے تے تھوک سُٹ لے‘ (یار کیا ہوا تم میرے اوپر تھوک پھینک لو)۔ یعنی کے خون کا بدلہ خون اور تھوک کا بدلہ تھوک کے پیشِ نظر حساب برابر۔ اطالوی نوجوان اس کا مطلب جان کر اپنا سر پیٹنے کو آ گیا۔ وہ بیچارہ انصاف اور عدل کی یہ منتق نہیں سمجھ سکا۔ میرا دوست اس واقعہ کو اپنے لیئے حد درجہ شرمندگی کہتا ہے۔ میں بھی سوچ میں پڑ گیا ہوں لیکن میرا سوچ میں جانا کسی شرمندگی کی وجہ سے نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ جب ہم بچپن میں پکڑنا پکڑائی یا لنگڑی ٹیر (ایک ٹانگ پر بھاگ کر دوسرے کو پکڑنا) کھیلتے تھے تو بھاگتے بھاگتے تھو ٹائم کہہ کر رک جاتے تھے۔ جب کسی نے تھو ٹائم کہا ہوتا تھا تو اس وقت اسے کوئی نہیں پکڑ سکتا تھا۔ بچپن میں میں نے کبھی نہیں سوچا کہ اس کا حقیقت میں مطلب کیا ہے۔ بس تھو ٹائم کہو اور آپ کو کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ اب سوچتا ہوں کہ شاید اس کا مطلب آرام کرنا، سانس لینا اور اپنے آپ کو اگلے مرحلے کے لیئے تیار کرنا تھا۔ لفظی مطلب تو تھوک پھنکنے کا وقت ہی ہوگا۔ شاید اس شخص کا تھوک پھنکنے کا وقت آ گیا تھا۔ پھر بھی مجھے چین نہ آیا۔ ایسا لگا کہ جیسے میرا منہ بھرا ہوا ہے اور جب تک اسے خالی نہیں کروں گا آرام سے نہ بیٹھ سکوں گا۔ یہ کھوج شروع کر دی کہ آخر ہم تھوک کیوں پھنکتے ہیں۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے انٹرنیٹ پر ایک پی ایچ ڈی کے تھیسس کا پروپوزل ملا جو کہ تھوک پھنکنے کی ’اناٹومی، فزیولوجی، سائیکالوجی، اور اس کے طریقہ کار کے متعلق تھا۔ یعنی کہ یہ کیا فعل ہے اور ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اس میں لکھا تھا کہ جسم سے نکلنے والی دوسری چیزوں کی نسبت یہ واحد چیز ہے جو کہ انسان اپنی مرضی اور مکمل کنٹرول کے ساتھ کرتا ہے۔ باقی چیزیں اسے مجبور کرتی ہیں۔ ہر معاشرتی طبقے کا فرد تھوک پھنکتا ہے۔ مرد زیادہ تھوک پھنکتے ہیں یا شاید وہ کیونکہ عورتوں کی نسبت باہر زیادہ گھومتے ہیں اس لیئے وہ یہ کرتے زیادہ نظر آتے ہیں۔ بچے کم تھوک پھینکتے ہیں لیکن پندرہ سال کی عمر کے بعد ان میں اور بڑوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ ہر مذہب، ہر ذات اور ہر فرقے کا فرد یہ کام سرانجام دیتا ہے۔ تھیسس کے پرپوزل میں صرف ایک فرق کی طرف نشاندہی کی گئی تھی اور وہ یہ تھا کہ معاشرتی اعتبار سے جتنا زیادہ خوشحال شخص ہو گا وہ تھوک پھینکتے ہوئے اس بات کا اتنا زیادہ خیال رکھے گا کہ یہ کسی اور کے اوپر نہ جا گرے اور اس عمل کے بعد اپنا منہ رومال سے صاف کرے گا۔ تھیسس میں یہ بھی کہا گیا کہ تھوکنے سے تھوکنے والے کو ایک قلبی سکون بھی ملتا ہے اور غریب آدمی اس لیئے بھی تھوکتا ہے کہ اس کے پاس اپنا غصہ نکالنے اور سکون لینے کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا یا محدود ہوتا ہے۔ اب یہ آپ سوچیئے کہ بس میں بیٹھے ہوئے اس غریب آدمی کا قصور کتنا ہے۔ اگر منطق کے فلسفے پر جائیں تو تھوک پھینکنے کی وجہ غربت کے سر ڈالی جا سکتی ہے۔ شاید کالم آپ کو کچھ گندہ لگے لیکن یہ گند بھی تو ہمارا ہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||