BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 December, 2003, 17:36 GMT 22:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک تھی ’فیری‘

فیری ٹیل

کیا ضروری ہے کہ ’فیری ٹیل‘ پریوں کی کہانی ہی ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ فیری ٹیل پریوں کی کہانی نہیں صرف ایک کہانی ہے۔ وہ کہانی جو دلوں کے تار چھیڑ دے، جذبات سمجھے اور محبت کو معنی دے۔ فیری ٹیل ایک احساس ہے۔

فیری کا پری ہونا بھی شرط نہیں ہے۔ یہ ایک جادو ہے۔ ایسا جادو جو چھڑی کی ایک جنبش سے اپنے سامنے والے کو غائب نہیں کرتا بلکہ اس کو مزید واضح کرتا ہے، اسے بدشکل نہیں، خوبصورت بناتا ہے۔ فیری نظر کی وسعت ہے، پیار کی وسعت ہے۔

ہماری فیری گزشتہ ہفتے انیس دسمبر کو ہمیں اس دنیا میں چھوڑ کر چلی گئی۔

وہ ساڑھے گیارہ سال انسانوں کی دنیا میں رہی اور بھرپور کوشش کی کہ ثابت کرے کہ فیری کا پری ہونا لازمی نہیں ہے اور وہ فیری ہو کر بھی انسانوں کی دنیا میں رہ سکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بالآخر اسے اپنی دنیا میں واپس جانا پڑا۔

فیری کا اصلی نام فاطمہ تھا یا فاطمہ کا اصلی نام فیری یہ مجھے یاد نہیں۔ لیکن میری بھتیجی جب سے اس دنیا میں آئی تھی وہ سب کی فیری تھی اور سب اس کے جادو کے زیرِ اثر۔

فیری کی پیدائش پر ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کا دماغ مکمل نہیں ہے۔ وہ نامکمل دماغ اور نامکمل اعصابی نظام کے ساتھ پیدا ہوئی ہے۔ حقیقت میں اس کا کوئی بھی نظام مکمل نہیں تھا۔ وہ دیکھ سکتی تھی لیکن اسے نظر نہیں آتا تھا۔ وہ بہری نہیں تھی لیکن اس نے کبھی کسی کی کوئی بات نہیں سنی۔ اس پر ظلم یہ کہ جب بھی اس کا دماغ مکمل ہونے کی کوشش کرتا تو اسے ایسے فِٹس یا دورے پڑتے کہ دوبارہ اس کے دماغ کے خلیے ٹوٹ پھوٹ کر اسے انسان سے فیری بنا دیتے۔

فیری نے اس نامکمل دماغ اور ادھورے اعصاب کے ساتھ تقریباً بارہ سال زندگی سے جنگ لڑی اور بالآخر جیت گئی۔

وہ عجیب فیری تھی۔نہ وہ ٹانگیں زمین پر رکھ سکتی تھی اور نہ پروں سے اڑ سکتی تھی۔ شاید اس نے کبھی سن لیا ہوں کہ زمین پر اتارنے سےپاؤں گندے ہو جاتے ہیں اس لیے اس نے کبھی ان کا استعمال ہی نہیں کیا۔ وہ نہ برا بولتی تھی اور نہ برا سنتی تھی اور شاید نہ ہی برا دیکھتی ہو۔ اور ہم نادان ان گیارہ سالوں میں یہ ہی سمجھتے رہے کہ معذور ہے اور بول اور سن نہیں سکتی۔ ان گیارہ سالوں میں فیری نے اپنے محسوسات کا صرف ایک ہی اظہار کیا یا اشارہ دیا۔ جب بھی ہم اس کے پاس آکر طرح طرح کی شکلیں بناتے یا زور سے فیری آپا پکارتے تو وہ منہ کھول کر مسکراتی۔ اس کی مسکراہٹ ہی اس کی آواز تھی اور وہ ہی اسکا اظہار۔

جس انسان سے فیری کی سب سے زیادہ قربت رہی وہ اسکی دادی تھی۔ زندگی کا زیادہ عرصہ دونوں نے ایک ہی کمرے میں ایک ہی بستر پر گزارا۔ موت کے بعد بھی اس نے دادی کا پیچھا نہیں چھوڑا اور اسی قبرستان میں گئی جہاں دادی دفن تھی۔

مجھے یاد ہے کہ اس کی دادی یعنی میری ماں اکثر پیار سے فیری کو ڈانٹتی تھی کہ بستر پر ساری جگہ گھیر لیتی ہو اور میرے لیے بالکل کوئی جگہ نہیں چھوڑتی۔ ہو سکتا ہے قبرستان میں بھی دادی پوتی میں یہ پیار بھری لڑائی ہو رہی ہو۔ لیکن فیری تو کبھی سنتی ہی نہیں تھی۔

فیری نے دادی سے اتنی محبت کی کہ تقریباً ایک دہائی کے رشتے کو رہتی دنیا تک کے رشتے میں تبدیل کر لیا اور دادی کی جدائی پورا ایک سال بھی نہ برداشت کر سکی۔ فیری تو تین سو باسٹھ دن بعد ہی ان سے جا ملی۔

یہ کیا رشتہ ہے کہ دو انسان ایک دوسرے سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے لیے یا ان کی جدائی میں جان تک دے دیتے ہیں۔

اس رشتے کو کون سی سائنس سے بیان کیا سکتا ہے۔ کیا یہ عمرانیات کی ایکسچینج تھیوری ہے یا اس سے بھی زیادہ۔

کیا میں بھی کبھی فیری کو بھول سکوں گا؟

میں تو اس فلسطینی باپ کو بھی نہیں بھول سکوں گا جس نے اسرائیلی گولیوں کی بچھاڑ میں اپنے لختِ جگر کو اپنے پیچھے چھپائے رکھا اور اس وقت تک اسے بچانے کی کوشش کرتا رہا جب تک آپ فیری ٹیل نہیں بن گیا۔ میری نظر میں حقیقی فیری ٹیل یہی ہے۔

اور اس میں پری کا ہونا ضروری نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد