BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2003, 13:48 GMT 18:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میں کیا چاہتا ہوں؟

پاکستان میں انتخابات
’نشانوں‘ سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی...

پاکستان اور اس کے سیاستدانوں کے متعلق لکھتے ہوئے مجھے ایک کہانی کا وہ مکالمہ یاد آ جاتا ہے جس میں ایک خاتون ایک مرد سے کہہ رہی ہوتی ہے کہ میں تم سے ڈرتی ہوں، مگر تم ہی میرا سہارا ہو۔ تم ہی میرے ریچھ ہو اور تم ہی میرا غار۔ مجھے اپنی باہنوں میں چھپا لو تا کہ میں تمہارے خوف سے بچ سکوں۔

کچھ اس طرح کا ہمارا رشتہ ہمارے سیاستدانوں کے ساتھ بھی ہے۔ ہم جو کچھ بھی کر لیں، جو بھی ان کے متعلق سوچیں بحرحال یہ ہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے کی ملک کی ناؤ چلاتے ہیں اور ہماری قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کا ماضی بھی ان ہی لوگوں کے ہاتھ میں تھا (جو کچھ انہوں نے اس کے ساتھ کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں) اور مستقبل بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے ریچھ بھی وہی ہیں اور ہمارے غار بھی وہی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان دونوں میں سے کس روپ میں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ یا اپنے لیئے کیا منتخب کرتے ہیں۔ ریچھ یا غار۔

سن دو ہزار دو میں بھی پچھلے سالوں کی طرح بہت کچھ ہوا۔ سن انیس سو ننانوے میں فوج نے جو آمرانہ جمہوریت پاکستانیوں سے چھین لی تھی وہ جمہوری آمریت کی شکل میں انہیں لوٹا دی۔ شکریہ۔

سارا سال مہروں کا کھیل جاری رہا

اس سال پاکستان اور بھارت میں کشیدگی اتنی بڑھی کہ فوجیں آمنے سامنے آ گئیں، دونوں نے اس کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا اور بھارت میں تو صدر مشرف کو راون کے روپ میں دکھا کر ان کے پتلے بھی جلائے گئے۔ لیکن اُدھر گجرات میں آگ اور خون کی ہولی جاری رہی۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے دو ہزار دو کا رونا تو رو لیا، ہم دو ہزار تین سے کیا چاہتے ہیں۔ یہی سوال میں نے مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کہتی ہیں کہ سن دو ہزار تین میں بین الاقوامی برادری کو چاہیئے کہ وہ مغرب اور مسلم دنیا میں مزید مفاہمت پیدا کرنے کی طرف زور دے۔ ’نہیں تو اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ تہذیبوں کے درمیان جنگ نہ بن جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے میں پاکستان کا کردار بڑا اہم ہے جو کہ دنیا کی دوسری بڑی اسلامی مملکت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیئے گزشتہ اکتوبر کو ہونے والے ’مزاحکہ خیز‘ انتخابات کو مسترد کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جو کہ ایک اعتدال پسند ملک تھا مذہبی جماعتوں کے فروغ سے شدت پسندی کی طرف جا رہا ہے اور پاکستان کے عوام کو مختار بنانا ہی شدت پسندی کی سیاست کو روکنے کی سب سے بڑی گارنٹی ہے۔

پاکستان میں قومی تعمیرِ نو کے نئے سربراہ دانیال عزیز کہتے ہیں کہ دو ہزار تین مفاہمت کا سال ہے۔ نیشنل ریکنسٹرکشن بیورو یعنی کہ قومی تعمیرِ نو بیورو اب نیشنل ریکنسیلی ایشن یعنی قومی مفاہمتی بیورو بن جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مفاہمت دو طرح کی ہو گی۔ ایک تو نئی قومی اور صوبائی سیاسی قوتوں کی لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مفاہمت تاکہ سب کے کام آپس میں متصادم نہ ہوں۔ دوسرا فائنینشیل ڈیولوشن یعنی مالیاتی اختیارات کی منتقلی۔ ’نئے سال میں ہم کوشش کریں گے کہ چیزیں مزید واضح ہو جائیں‘۔

پشاور میں سماجی فلاح و بہبود کے ایک ادارے ہیومن ریسورس مینجمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کی ڈائریکٹر بشرا گوہر نے کہا کہ ہمارے سب سے بڑے وسائل ہمارے لوگ ہیں۔ ہمیں اپنی پالیسیوں میں انہیں زیادہ اہمیت دینا چاہئیے۔ اب تک پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل کرنے میں نہ تو عوام کا کوئی رول رہا ہے اور نہ ہی ان کی دلچسپی۔

انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ نئے آنے والے لوگ سماجی انصاف کو یقینی بنائیں گے اور اپنی توجہ صرف اس طرف ہی نہیں رکھیں گے کہ اُس نے داڑھی نہیں بڑھائی، اس نے شلوار اونچی نہیں پہنی یا لڑکیوں کو کالج میں جانا چاہیئے یا نہیں، وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان میں حقوقِ انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین افراسیاب خٹک چاہتے ہیں کہ سن سو ہزار تین میں پاکستان کو پاکستان کا آئین واپس مل جائے۔ ’بد قسمتی سے اس وقت پاکستان کی سرزمین بے آئین ہے۔‘

پاکستان کے اندر اور پورے علاقے میں امن کے علاوہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام رعیت کی جگہ شہری بننے کے قابل ہو سکیں۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج کے سابق صدر یاسین لاکھانی کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں حکومتیں پالیسیاں تو بنا لیتی ہے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اگلے سال عمل درآمد کو بھی ترجیح دی جائے اور اس میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

’مغرب کی پالیسیوں کی وجہ سے بے تحاشا پیسہ پاکستان آ رہا ہے۔ اسے صحیح طریقے سے استعمال کے لیئے اور لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچانے کے لیئے اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ عوام میں اعتماد بڑھایا جائے۔ لیکن جس طرح جمہوری عمل کو نافذ کیا گیا ہے ہے اس سے good governance تو دور کی چیز governance کا پہلو بھی نظر نہیں آ رہا ہے۔‘

پاکستان میں سٹیج اور ٹی وی کے مشہور ایکٹر اور کامیڈین سہیل احمد کہتے ہیں کہ ’پوری دنیا، ہر میڈیم اور ہر قوم میں اتنا تناؤ، اتنی کشیدگی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ سن دو ہزار تین کامیڈی کا سال ہو۔ اس سال ہنسنے، ہنسانے کا کام زیادہ ہو۔ یہ جو سکتہ سا طاری ہے، یہ جو خوف ہے وہ ختم ہو جائے۔ اس لیئے میں چاہتا ہوں کہ ہر ملک میں اور ہر قوم میں اس سال کامیڈی کا کلچر فروغ پائے۔ محبتیں پیدا ہوں اور خوف ختم ہو۔ یہی میری خواہش ہے اور یہی میری ترجیح۔‘

یہ جو سب چاہتے ہیں، یہی میں چاہتا ہوں۔ کیا کچھ ایسا ہو سکتا ہے کہ میں دو ہزار چار کو دو ہزار تین کا رونا نہ رو رہا ہوں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد