BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2003, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جادو ہیں تیرے نین غزالاں سو۔۔۔‘

چاند چہرہ ستارہ آنکھیں
آخر لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں
سن دو ہزار تین کا آغاز میں نے یہ لکھ کر کیا تھا کہ کیا کچھ ایسا ہو سکتا ہے کہ میں دو ہزار چار میں دو ہزار تین کا رونا نہ رو رہا ہوں۔

تو اس مرتبہ ایسا نہیں ہو گا۔ میں گزشتہ سال کا رونا نہیں روؤں گا۔ (ویسے بھی اس عمر میں ایسا زیادہ کرنے سے عادت سی پڑ جاتی ہے۔)

تو اب کیا کروں؟ کیا لکھوں؟ کیا یہ کالم یہیں بند کر دوں؟ اگر نہیں تو پھر کیا؟

ولی دکنی نے کبھی کہا تھا کہ
تجھ لب کو صفت لعلِ بدخشاں سو کہوں گا
جادو ہیں تیرے نین غزالاں سو کہوں گا

ہاں۔ چلیں اس سال کا آغاز زندگی سے کرتے ہیں، خوبصورتی سے کرتے ہیں، حسن سے کرتے ہیں۔ اور حسن۔۔۔

حسن تو بس دو طرح کا خوب لگتا ہے
آگ میں جلتا ہوا یا برف میں سویا ہوا
درمیاں میں کچھ نہیں۔

منیر نیازی تو بس دو طرح کے حسن کے قائل ہیں۔

حالانکہ حسن تو ایک لامحدود موضوع ہے۔ اس پر ہزاروں مضامین لکھے جا سکتے ہیں، ہزاروں کتابیں بھری جا سکتی ہیں۔ مگر پھر بھی اس پر لکھنا کوزے میں سمندر سمانے کے برابر ہو گا۔

کیوں؟

آخر لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں۔

ہر انسان (مرد و عورت) خوبصورت رہنے کے لیے کچھ نہ کچھ کوشش ضرور کرتا ہے (اپنی بساط کے مطابق)۔ چاہے یہ شیمپو لگا کر ہی کیوں نہ ہو۔ میں مسکارے، آئی شیڈو، فاؤنڈیشن یا بلش آن کی بات نہیں کر رہا۔

حال ہی میں میں نے اپنی ایک دوست سے پوچھا کہ آپ اپنے چہرے کو خوبصورت رکھنے کے لیے ہفتے میں کتنی مرتبہ میک اپ کرتی ہیں۔ اس کا جواب تھا چھ مرتبہ اور اگر اتوار کو کہیں پارٹی وارٹی میں جانا پڑے تو سات مرتبہ۔ اسی طرح ایک دوست نے کہا اور تو کچھ زیادہ نہیں لیکن لِپ اسٹک کم از کم چھ مرتبہ ضرور لگاتی ہوں۔ لیکن اگر آپ لندن انڈر گراؤنڈ میں صبح صبح دفتر آ رہے ہیں تو آپ کو اکثر دونوں جانب بیٹھی خواتین چہرے پر کچھ نہ کچھ لگاتے ہوئے ضرور نظر آئیں گی۔ ہونٹوں پر تو لازمی۔

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

اب اس پنکھڑی کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں کیا کچھ کرنا پڑتا ہے ذرا اس کی بھی سنیئے۔

ایک تحقیق کے مطابق اوسطً ایک مرد اور عورت سال میں کل دو کلو گرام تک کاسمیٹیکس کے ذریعے کیمیکلز اپنے جسم میں جذب کرتے ہیں۔ ان میں جلد کی کریمیں، شیمپو اور پرفیوم وغیرہ بھی شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایک پرفیوم کی بوتل میں 600 کے قریب سِنتھیٹک کیمیکلز موجود ہوتے ہیں اور اس میں سے 95 فیصد پیٹرولیم سے بنائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے بہت مضر ہے۔

اسی طرح اکثر نیل پالشوں میں پائے جانے والے کیمیکل ڈی بی پی (ڈائبوٹائل فیتھیلیٹ) کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ تولید کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ یعنی سب کچھ پالش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح وقت کو تھام لے اور کبھی بوڑھا نہ ہو۔ اس واسطے وہ چہرے پر جھریوں اور آنکھوں کے نیچے بننے والے ہلکوں کو غائب کرنے کے لیے ہزاروں طرح کی کریمیں استعمال کرتا ہے۔ وہ غائب تو ضرور ہو جاتی ہیں لیکن اس کی قیمت کا اندازہ بہت کم لوگوں کو ہی ہوتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان کریموں میں الفا اور بیٹا ہائیڈروکسی ایسڈز ہوتے ہیں جو جلد کی باہر والی تہہ کے ڈیڈ سیلز یا خلیوں کو جذب کرتے ہیں جسکی وجہ سے نئی جلد تو آ جاتی ہے لیکن وہ موٹی اور سخت ہوتی ہے۔ اس طرح چہرے کی نرمی کی کوششیں دراصل اسے سخت سے سخت تر بناتی جاتی ہیں۔

ان سب مضرِ صحت جیزوں سے ایک بہت سادہ اور آسان حل ہے اور وہ ہے پانی۔ جتنا زیادہ ہو سکے پانی پیئیں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ ہمارے خون میں بانوے فیصد پانی ہے اور باقی آٹھ فیصد دوسرے مرکبات۔ اسی طرح ہمارے پورے جسم میں ساٹھ فیصد سے زیادہ پانی موجود ہے۔

زیادہ پانی پیئیں تاکہ وہ پانی آپ کے جسم میں ہر جگہ خصوصاً چہرے تک پہنچے اور اسے تر و تازہ اور شاداب رکھے۔

بات کہاں سے شروع کی تھی اور کہاں پہنچ گیا۔ نئے سال میں بھی یہ کنفیوژن جاری رہے گی۔

صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں تیرا حسن تیرے حسنِ بیان تک دیکھوں

احمد ندیم قاسمی صاحب سے تو میں صرف اتنا کہوں گا کہ میں نے یہ باتیں کسی سے کبھی پوچھی نہیں فقط لکھی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد