ایک لمحے کے قیدی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دنوں بانو قدسیہ کا ناول حاصل گھاٹ پڑھا اور تب سے میں فلاح اور ترقی کی جنگ لڑ رہا ہوں۔فلاح کیا ہے، ترقی کیا ہے؟ کیا یہ دونوں چیزیں جدا جدا ہیں یا یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ کیا ماضی حال بن سکتا ہے یا حال مستقبل۔ ہر گزرنے والا لمحہ ماضی ہے اور ہر آنے والا لمحہ مستقبل۔ کیا ہماری پوری زندگی اس درمیان میں پھنسے ایک لمحے کی قیدی ہے۔ شاید بات صرف اس ایک لمحے کی ہی ہے۔ ہمیں اس میں ہی سب فیصلے کرنے ہیں۔ ڈو اور ڈائی (کرو یا مرو)، شاید انسان ازل سے یہی کرتا رہا ہے۔ ایک لمحہ۔ اطالوی رائٹر گیسیپی ڈی لیمپیڈوسا نے 1958 میں ایک ناول دی لیپرڈ (چیتا) اٹلی کے ثقافتی اور سیاسی پس منظر میں لکھا تھا۔ اس ناول کی ایک مشہور لائن مجھے یاد آ رہی ہے۔ Things must change if they are to remain the same اگر چیزوں کو اسی طرح رہنا ہے تو انہیں ضروری بدلنا ہوگا۔ مجھے اس پر کچھ یقین سا آتا جا رہا ہے۔ وجہ کچھ بڑی نہیں بس ایک لمحے کی ہے۔ آجکل روانڈا کے قتلِ عام کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے کہ کس طرح ایک لمحے میں انسان وحشی بن گیا اور زندوں کی کیا بات مردوں کو بھی مارا گیا اور ان کے اعضا کاٹ دیئے گئے۔
یہ کوئی ماضی بعید کی بات نہیں ہے یہ کل کی بات ہے جب اخباروں نے بھی کئی دن اسے اندرونی صفحات کی خبر سمجھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سو دنوں میں کل آٹھ لاکھ لوگ مارے گئے۔ یہ یورپ میں یہودیوں کے قتلِ عام سے بھی زیادہ تیزی سے ہوا۔ اور دنیا خصوصاً امریکہ اسی مخمصے میں رہا کہ اسے جینوسائڈ یا اجتماعی قتلِ عام کہا جائے یا نہیں، جو امدادی فوج وہاں بھیجی جائے اس کی گاڑیوں کا رنگ کون سا ہو گا اور اس رنگ کا خرچہ اقوامِ متحدہ دے گا کہ امریکہ کو خود ہی یہ بھار برداشت کرنا پڑے گا۔ اور سب سے بڑھ کر امریکہ میں اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ اس ریڈیو سٹیشن کی نشریات کو جامد کیا جانا چاہیئے یا نہیں جہاں سے ایک برادری یعنی تتسی کے قتلِ عام کے لئے اکسایا جا رہا تھا۔ ان کے خیال میں ریڈیو کو جام کرنا آزادئ رائے کے منافی تھا۔ یہ ایک لمحہ تھا۔ اب ذرا ایک لمحے کے لئے موجودہ عراق آتے ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکیوں نے عراق میں ایک اخبار یہ کہہ کر بند کروا دیا کہ اس سے منافرت اور سرکشی کو ہوا مل رہی ہے۔ ایک اسرائیلی اخبار ہیرٹز میں تو ایک تجزیہ نگار نے یہاں تک لکھ دیا کہ ہمارا لبنان میں جانا اور امریکہ کا عراق میں ایک ہی چیز ہے۔ ہم بھی وہاں ایک نیا آرڈر لانا چاہتے تھے اور امریکہ بھی یہی چاہتا ہے۔ وہاں بھی کچھ دیر بعد شعیہ برادری اٹھ کھڑی ہوئی اور آنے والی فوج کے خلاف برسرِپیکار ہو گئی اور یہاں بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم کوئی خاص مقصد حاصل کیے بغیر وہاں سے واپس آگئے اور صدر بش ابھی تک اس خون کے سمندر میں موجود ہیں جہاں سے کوئی اچھی خبر کی امید نہیں۔ تجزیہ نگار تو صدر بش کو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو صدام حسین کو واپس عراق بھیج دیتا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس مصیبت سے کس طرح چھٹکارہ پایا جا سکتا ہے۔ یعنی کہ بغاوتوں کو کس طرح کچلا جا سکتا ہے۔ گزشتہ پچاس سال میں دنیا نے بڑی ترقی کر لی ہے۔ اب ہر ملک آزاد ہے، لوگ آزاد ہیں۔ چاند اب ماضی ہے مریخ اور دوسرے سیارے نئی دنیا کی نوید دے رہے ہیں۔ اگر نہیں بدلہ تو بس ہولوکوسٹ میں یہودیوں کے قتلِ عام سے لے کر روانڈا کے قتلِ عام کے درمیان کا وہ لمحہ نہیں بدلہ جس میں انسان شیطان بن جاتا ہے۔ اسرائیلی اخبار درست لکھتا ہے صدام کو واپس بھیج دینا چاہیئے۔ Things must change if they are to remain the same |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||