| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بنانے کی فیکٹری
ہم میں اور ’انہوں‘ میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ انہوں نے بھی آگے کی جستجو جاری رکھی اور ہم نے بھی۔ وہ بھی سفر پر نکلے اور ہم بھی۔ وہ پانی کی تلاش میں مریخ پر پہنچے اور ہم نے بھی رابطوں کی بحالی کی خاطر اٹاری پر قدم رکھا۔انہوں نے spirit چلائی اور ہم نے سمجھوتہ۔ ہم بالکل ان کی طرح ہیں اور کسی بھی طرح ان سے کم نہیں۔ پاکستان آنے کے بعد جو احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے وہ ہے ترقی کا۔ سڑکیں کھدی ہوئی ہیں۔ عمارتیں بن رہی ہیں۔ اور ساتھ ساتھ انڈر پاس بھی۔ بلکہ یوں کہیئے کہ انڈر پاس کی سیاست عروج پر ہے۔ اگر سابق وزیرِ اعلی شہباز شریف نے فلائی اوور اور انڈر پاس بنوائے تھے تو موجود وزیرِ اعلی پرویز الٰہی نے بھی دو ایک تو بنا ہی ڈالے ہیں۔ شہباز شریف پر تو یہ الزام تھا کہ ان کی نگاہِ کرم لاہور پر ہی رہی کیونکہ یہ ان کا شہر تھا مگر پرویز الٰہی تو لاہور کے نہیں۔ اس لئے ایک انڈر پاس انہوں نے اپنے دفتر کے نزدیک بنوایا ہے اور دوسرا ایف سی کالج والے اپنے گھر کے پاس۔ لاہور لاہور ہے۔ ترقی کی دوسری معراج پلاٹ ہیں۔ جو پلاٹ آج سے ایک سال پہلے دس لاکھ کا تھا اب ماشااللہ پچاس لاکھ کا ہوگیا ہے۔ اور ہر آدمی (ایک بڑی تعداد) کار فنانسنگ سکیم کی بدولت نئی نویلی گاڑی لئے پھرتا ہے۔ اب وہ گاڑیاں کم ہی نظر آتی ہیں جن میں پانچ پانچ چھ چھ افراد گھسے بیٹھے ہوتے تھے۔ بلکہ اب ایک گاڑی میں ایک کا رواج بڑھ رہا ہے اور خدا کے فضل سے گھر گھر تین تین گاڑیاں ہیں۔ اب ترقی کو تو یوں کہیئے کہ پہیّے لگے ہوئے ہیں۔ میں بھی دھوئیں کے اس اژدھام میں ایک ہاتھ ناک پر رکھے باقی ’دونوں‘ ہاتھ اٹھائے دعا کرتا رہا کہ اے خدا ان ’ترقی پسندوں‘ کی ترقی کو کسی کی نظر نہ لگے۔ کچھ لمحے کے لئے مجھے بھی لگا کہ میں نے بھی ترقی کر لی ہے اور مجھے بھی دو کی بجائے تین ہاتھ لگ گئے ہیں۔ ہر سڑک پر بے تحاشہ ٹریفک ہے اور ہر چیز دودھ کی طرح ’دودھیا‘ نظر آتی ہے۔ رات کو گاڑیوں کی روشنی کی وجہ سے اور دن کو ان کے دھویں کی بدولت۔ تاہم ہر شخص کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ضرور ہے۔کسی کو بلڈ پریشر ہے تو کسی کو دمہ۔ ہیپیٹائیٹس تو بس ایک عام سے بیماری بن کر رہ گئی ہے۔ اتنی عام کہ سنا ہے گورنمنٹ اب اس کی روک تھام کے لئے کیمپ لگاتی ہے جہاں پر سستے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ شوگر کا مریض تو ہر شخص پہلے سے تھا۔ ہر زندہ دل پاکستانی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ کام کر رہا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیئے۔ ہر شخص کا کھانا اور ’پینا‘ اس کی بساط سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ پارکوں میں زیادہ لوگ نظر نہیں آتے اور جو صاحب لوگ وہاں جاتے بھی ہیں وہ بھی اپنی نئی نویلی گاڑیوں پر۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنے رش اور pollution میں گھر سے پارک تک کا سفر بھی دل گردے کا کام ہے۔ ایک اور چیز جس پر جا کر نظر ٹھہر جاتی ہے وہ ہے پڑھے لکھے نوجوانوں کی داڑھیاں۔ اکثر کالجوں کے باہر لمبی لمبی داڑھیاں رکھے نوجوان لڑکے نظر آتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے ’امریکہ بہادر‘ کی یاد آتی ہے۔ جس طرح وہ دنیا میں سب سرخوں کا خاتمہ کرنے کے بعد سرخ سیارے سے قربت بڑھا رہا ہے بالکل اسی طرح ہم نے بھی داڑھیوں والوں کی ایک بڑی تعداد کو پکڑوانے اور مروانے کے بعد داڑھیاں رکھ لی ہیں۔ خدا ہمیں اس کا اجر دے۔ آمین۔ اسی دوران مجھے شیخوپورہ کے نزدیک ایک گاؤں میں ایک شادی میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ دیکھ کر بہت بھلا لگا کہ ابھی بھی کچھ گاؤں واقعی گاؤں ہیں جہاں شادیاں دن کے وقت ہوتی ہیں اور گوالے کی بجائے دودھ خود بھینیس دیتی ہیں۔ لیکن وہاں بھی نوجوان اتنے صحت مند نظر نہیں آئے جتنے گاؤں کے گبرو سمجھے جاتے ہیں۔ بزرگوں سے اس کی وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ بھی اقتصادی ہے۔ ایک بزرگ کا کہنا تھا ’ہم شرمندہ ہیں کہ ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ پہلے اپنی بھینسوں کا دودھ ہم خود پیتے تھے اب شاید ہی کوئی نوجوان اپنی بھینسوں کا دودھ پیتا ہو۔ سارے کا سارا دودھ شہر میں بیچ دیا جاتا ہے اور اسی سے روزی روٹی چلتی ہے۔‘ وہیں پر ایک خاتون سے ملاقات ہوئی جسے ہڈیوں کا کینسر تھا۔ پہلی مرتبہ کینسر جیسے مہلک مرض کی شدت کا احساس اس وقت ہوا جب اس خاتون نے مجھے بتایا کہ کینسر آخری سٹیج پر ہے اور اب حال یہ ہے کہ اب چھوٹے سے بچے کو اٹھانے سے بازو کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے۔ اس خاتون کو اپنی بیماری کا افسوس تو تھا ہی مگر اس سے زیادہ رنج اس بات کا تھا کہ جو دو گولیاں وہ روزانہ کھاتی ہے ان میں سے ایک کی قیمت پانچ سو اور دوسری کی دو سو پچاس روپے ہے۔ لیکن اس کے باوجود زندگی رواں دواں ہے۔ گاؤں گاؤں میں انگلش میڈیم سکول کھلے ہوئے ہیں۔ مجھے بھی میرے ایک کزن نے اپنی پانچ سالہ بچی ماہم سے ملوایا جو اسی طرح کے انگلش میڈیم سکول میں پڑھ رہی ہے۔ میرے کزن نے مجھے بتایا کہ ماشااللہ یہ بچی بڑی ہوشیار ہے اور اپنی کلاس میں فرسٹ آتی ہے۔اس کی معاشرتی علوم میں سمجھ بوجھ بڑی اچھی ہے اور اسے پاکستان سے متعلق کچھ بھی پوچھیں وہ سب بتائے گی۔ میرے اور اس کے درمیان جو مکالمہ ہوا جو حسبِ ذیل ہے۔ س: ہمارے ملک کا کیا نام ہے؟ ج: پاکستان س: پاکستان کے دارالحکومت کا کیا نام ہے؟ ج: اسلام آباد س: پاکستان کب بنا؟ ج: پاکستان چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو بنا س: پاکستان کس نے بنایا؟ ج: پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بنایا؟ س: پاکستان کیسے بنا؟ ج: (ذرا سوچ کر) پاکستان اسی طرح بنا جس طرح ساری چیزیں فیکٹری میں بنتی ہیں۔ ہم نے بڑی صنعتی ترقی کر لی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||