’پشاور، اسلام آباد پر حملے کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کو القاعدہ کے حامی مطلوب افراد میں سے ایک نیک محمد نے بی بی سی پشتو کے سے گفتگو میں دھمکی دی ہے کہ وہ اپنی جنگ دوسرے شہروں تک بڑھا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پشاور اور اسلام آباد کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ واضح رہے کہ انہوں نے قبائلی علاقے شکئی میں بدھ کو سکیورٹی حکام پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ حکام نے بدھ کے روز کی جھڑپوں میں مجموعی طور پر چوبیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں فوج کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا ہے اس بارے میں وہ خاموش ہیں۔ البتہ مختلف اخبارات نے دس سے پندرہ فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ ان خبروں کی بھی ابھی کوئی تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ نیک محمد نے کہا: ’یہ تو صرف وانا میں ہوا ہے۔ انشااللہ کراچی میں بھی ہوگا۔ ہم بہت بڑا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انشا اللہ آپ دیکھیں گے کہ اگلے ایک دو روز میں اسلام آباد اور پشاور میں بھی یہ ہی کچھ ہوگا۔‘ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کے نگران محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ان کا ایک خاصہ دار اور تین عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے چوبیس میں سے بیس غیرملکی عسکریت پسند تھے جن میں سے چھ کی لاشیں قبضے میں لے لی گئی ہیں جبکہ سات کو ان کے حامیوں نے شکئی میں سپرد خاک کر دیا ہے۔ حکام ایک زخمی غیرملکی کی گرفتاری کی بھی تصدیق کرتے ہیں۔ ادھر جمعرات کو بھی جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں صبح کے وقت ایف سی کالونی پر تازہ حملہ ہوا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ تقریباً چالیس منٹ تک فریقین نے بھاری اسلحے کا استعمال کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجیوں کا ردعمل بھی بڑا شدید تھا۔ وانا میں آج بھی دن بھر وقفے وقفے سے ژڑی نور فوجی کالونی سے شکئی کی جانب توپیں گولے داغتی رہیں۔ قریبی علاقے تیرزہ کے رہائشی ڈاکٹر نصراللہ نے بتایا کہ مقامی لوگوں میں اب بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سڑک ٹریفک کے لئے بند رہی۔ ڈاکٹر نصراللہ کا کہنا ہے کہ مقامی قبائلی کی جانب سے لڑائی بند کرانے کی کوشش اگر کامیاب ہوجاتی تو شاید اتنا جانی نقصان نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا: ’پہلے تحصیلدار نے ہی مقامی جرگے کی جانب سے جنگ بندی کی کوشش کے لئے کہا لیکن بعد میں میجر صاحب تیار نہیں ہوئے اور ہمیں وہاں جانے سے منع کر دیا گیا۔‘ اعظم ورسک میں ایک مقامی قبائل کے ایک جرگے میں قبائلیوں پر واضح کر دیا گیا ہے کہ ہر کوئی اپنے علاقے کا خود ذمہ دار ہوگا اور جہاں سے حملہ ہوگا حکومت اس کا شدید جواب دے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||