BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 June, 2004, 17:59 GMT 22:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پشاور، اسلام آباد پر حملے کریں گے‘

News image
قبائلی لشکر اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا ہے
حکومت کو القاعدہ کے حامی مطلوب افراد میں سے ایک نیک محمد نے بی بی سی پشتو کے سے گفتگو میں دھمکی دی ہے کہ وہ اپنی جنگ دوسرے شہروں تک بڑھا دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پشاور اور اسلام آباد کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ واضح رہے کہ انہوں نے قبائلی علاقے شکئی میں بدھ کو سکیورٹی حکام پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

حکام نے بدھ کے روز کی جھڑپوں میں مجموعی طور پر چوبیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں فوج کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا ہے اس بارے میں وہ خاموش ہیں۔

البتہ مختلف اخبارات نے دس سے پندرہ فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ ان خبروں کی بھی ابھی کوئی تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

نیک محمد نے کہا: ’یہ تو صرف وانا میں ہوا ہے۔ انشااللہ کراچی میں بھی ہوگا۔ ہم بہت بڑا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انشا اللہ آپ دیکھیں گے کہ اگلے ایک دو روز میں اسلام آباد اور پشاور میں بھی یہ ہی کچھ ہوگا۔‘

قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کے نگران محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ان کا ایک خاصہ دار اور تین عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے چوبیس میں سے بیس غیرملکی عسکریت پسند تھے جن میں سے چھ کی لاشیں قبضے میں لے لی گئی ہیں جبکہ سات کو ان کے حامیوں نے شکئی میں سپرد خاک کر دیا ہے۔ حکام ایک زخمی غیرملکی کی گرفتاری کی بھی تصدیق کرتے ہیں۔

ادھر جمعرات کو بھی جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں صبح کے وقت ایف سی کالونی پر تازہ حملہ ہوا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

تقریباً چالیس منٹ تک فریقین نے بھاری اسلحے کا استعمال کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجیوں کا ردعمل بھی بڑا شدید تھا۔

وانا میں آج بھی دن بھر وقفے وقفے سے ژڑی نور فوجی کالونی سے شکئی کی جانب توپیں گولے داغتی رہیں۔

قریبی علاقے تیرزہ کے رہائشی ڈاکٹر نصراللہ نے بتایا کہ مقامی لوگوں میں اب بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سڑک ٹریفک کے لئے بند رہی۔

ڈاکٹر نصراللہ کا کہنا ہے کہ مقامی قبائلی کی جانب سے لڑائی بند کرانے کی کوشش اگر کامیاب ہوجاتی تو شاید اتنا جانی نقصان نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا: ’پہلے تحصیلدار نے ہی مقامی جرگے کی جانب سے جنگ بندی کی کوشش کے لئے کہا لیکن بعد میں میجر صاحب تیار نہیں ہوئے اور ہمیں وہاں جانے سے منع کر دیا گیا۔‘

اعظم ورسک میں ایک مقامی قبائل کے ایک جرگے میں قبائلیوں پر واضح کر دیا گیا ہے کہ ہر کوئی اپنے علاقے کا خود ذمہ دار ہوگا اور جہاں سے حملہ ہوگا حکومت اس کا شدید جواب دے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد