وانا: مزید حملے، چوبیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ جمعرات کی صبح وانا میں فوجی کالونی پر تازہ حملہ ہوا ہے۔ وانا سے لوگوں نے بتایا کے صبح چار بجے نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ تقریباً چالیس منٹ تک فریقین نے بھاری اسلحے کا زبردست استعمال کیا البتہ ابھی تک مزید کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں حکام کا بدھ کے روز کہنا تھا کے روز سیکورٹی دستوں اور القاعدہ کے مشتبہ افراد کے درمیان جھڑپ میں مجموعی طور پر چوبیس افراد ہلاک ہوئے۔ حکام مرنے والوں میں بیس سے زائد عسکریت پسند، ایک خاصہ دار اور تین عام شہری بتاتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں حالات و واقعات بظاہر ایک دور مکمل کر کے دوبارہ اسی جگہ آپہنچے ہیں جہاں گذشتہ مارچ میں تھے۔ بدھ کو علی الصبح مختلف مقامات پر فوجی ٹھکانوں پر حملے ہوئے جن میں سے سب سے ذیادہ خونریز وانا سے شکئی جانے والی سڑک پر طوروام نامی پل کے قریب ایک چوکی پر حملہ تھا۔ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کے نگران برگیڈیئر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ صبح ساڑھے چار بجے القاعدہ کے غیرملکی عناصر نے چوکی پر حملہ کیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ بیس سے زائد غیرملکی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے چھ غیرملکیوں کی لاشیں قبضے میں لے لی گئی ہیں جبکہ سات کو شکئی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے اور سات سے آٹھ عسکریت پسندوں کی لاشیں جھڑپ کے مقام پر پڑی ہیں اور جاری گولہ باری کی وجہ سے وہاں سے اٹھائی نہیں جا سکیں۔ حکام ایک زخمی غیرملکی کی گرفتاری کی بھی تصدیق کرتے ہیں۔ اپنے نقصانات کے بارے میں محمود شاہ کا کہنا تھا کہ ان کا ایک خاصہ دار اور تین عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج کے جانی نقصان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ فوج ہی کوئی بیان جاری کرے گی۔ البتہ اخبارات میں سترہ فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ مرنے والے تین عام شہریوں میں ایک عورت بھی شامل ہے اور یہ سب کے سب محسود قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ محمود شاہ نے بتایا کہ کولہ باری اب روک دی گئی ہے۔ یہ حملے گزشتہ دنوں معافی پانے والے چار قبائلی جنگجوں کو دوبارہ مطلوب قرار دیے جانے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہوئے ہیں ہے۔ اس بارے میں مطلوب شخص نیک محمد کا کہنا تھا کہ یہ حملے انہیں کا کام ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے کل وانا بازار میں یارگل خیل قبیلے کی سینکڑوں دوکانوں کو مسمار کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ ادھر شکئی میں ناکامی کے بعد قبائلی لشکر بھی واپس وانا پہنچ گیا ہے اور اس نے اپنا کام عارضی طور پر روک لیا ہے۔ منگل کے روز وانا میں حکام کی جانب سے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر کی تلاش اور اندراج میں تعاون نہ کرنے والے یارگل خیل قبیلے کے چار افراد جن کو گزشتہ دنوں حکومت نے ایک معاہدے کے تحت معافی دی تھی دوبارہ حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں قبائلی جنگجو نیک محمد، نور السلام، محمد شریف اور مولوی عبدالعزیز شامل ہیں۔ معافی پانے والے پانچویں قبائلی مولوی عباس کا تعلق کاکاخیل قبیلے سے ہے۔ اگرچہ نوٹس میں ان افراد کے خلاف الزامات کی وضاحت نہیں ہے البتہ حکومت ان فراد پر شکئی کے مقام پر اس کے ساتھ ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتی ہے جبکہ ان افراد کا کہنا ہے کہ غیرملکیوں کا اندراج ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے وانا بازار میں گزشتہ دنوں سیل کی گئی یارگل خیل قبئلے کی دوکانوں کو مسمار کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کب تک کیا جائے گا اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||