وانا میں تصادم: ’آٹھ غیر ملکی ہلاک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ آج صبح ایک فوجی کالونی اور چند چوکیوں پر راکٹوں سے حملے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وانا سے شکئی جانے والی سڑک پر طوروام پل کے قریب تصادم میں آٹھ غیرملکی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ گولیوں کا تبادلہ ابھی جاری ہے۔ دوسری جانب گزشتہ دنوں حکومت سے معافی پانے والے قبائلی جنگجو نیک محمد نے بی بی سی کے ساتھ ایک نامعلوم مقام سے فون پر بات کرتے ہوئے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ’اور کون یہ کام کرسکتا ہے۔ ہم بے قصور ہیں لیکن حکومت ہمیں گرفتار کرنا چاہتی ہے۔’ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نیک محمد نے اس طرح ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کے نگران محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ طوروام نامی پل کے قریب القاعدہ کے غیرملکی عناصر سے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے آّٹھ غیرملکی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان فوج اور فرنٹئر کور ملیشیا نے اس مقام پر ایک کرائے کے مکان میں چیک پوسٹ قائم کر رکھی تھی جس پر حملہ ہوا۔ محمود شاہ نے فوج نقصان کا اعتراف کیا ہے لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں چھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک حملہ آوروں میں سے تین کی لاشیں قبضے میں لی ہیں جو بظاہر غیرملکی ہی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ایک شخص کی زندہ گرفتاری کی بھی تصدیق کی۔
نیک محمد کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ شکئی کے مقام پر ہونے والے معاہدے کو سبوتاژ گورنر اور پولیٹکل انتظامیہ نے کیا ہے۔ ’وہ کہتے تھے کہ حکومت ہماری ہے اور معاہدہ تم کیسے فوج کے ساتھ کر سکتے ہو۔’ ادھر شکئی میں ناکامی کے بعد قبائلی لشکر بھی واپس وانا پہنچ گیا ہے۔ محمود شاہ کا کہنا تھا کہ لشکر کے عمائدین کا اس تصادم کے بعد ماننا ہے کہ انہیں مقامی لوگوں نے غلط معلومات دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان عمائدین کے یہ بیانات سرکاری ٹی وی پر بھی دیکھائیں جائیں گے۔ جنوبی کے علاوہ ایک حملہ شمالی وزیرستان میں بھی ایک چیک پوسٹ پر ہوا۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ یہ حملہ آور شرپسند عناصر ہیں۔ یہ حملے گزشتہ دنوں معافی پانے والے چار قبائلی جنگجوں کو دوبارہ مطلوب قرار دیے جانے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہوئے ہیں ہے۔ دوسری جانب حکومت نے کل وانا بازار میں یارگل خیل قبیلے کی سینکڑوں دوکانوں کو مسمار کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ منگل کے روز وانا میں حکام کی جانب سے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر کی تلاش اور اندراج میں تعاون نہ کرنے والے یارگل خیل قبیلے کے چار افراد جن کو گزشتہ دنوں حکومت نے ایک معاہدے کے تحت معافی دی تھی دوبارہ حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں قبائلی جنگجو نیک محمد، نور السلام، محمد شریف اور مولوی عبدالعزیز شامل ہیں۔ معافی پانے والے پانچویں قبائلی مولوی عباس کا تعلق کاکاخیل قبیلے سے ہے۔ حکومت نے انہیں چوبیس گھنٹوں میں اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگرچہ نوٹس میں ان افراد کے خلاف الزامات کی وضاحت نہیں ہے البتہ و ان وہ ان فراد پر شکئی کے مقام پر اس کے ساتھ ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتی ہے جبکہ ان افراد کا کہنا ہے کہ غیرملکیوں کا اندراج ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے وانا بازار میں گزشتہ دنوں سیل کی گئی یارگل خیل قبیلے کی دوکانوں کو مسمار کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس بات کا اعلان مقامی انتظامیہ نے وانا میں صحافیوں کے سامنے کیا ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کب تک کیا جائے گا اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||