جنوبی وزیرستان میں لشکر کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک قبائلی لشکر نے آج اعظم ورسک کے علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے گشت کی۔ دوسری جانب القاعدہ کے ارکان کی مدد کے الزام میں معافی پانے والے قبائلی نیک محمد کا کہنا ہے کہ اسے لشکر تسلیم نہیں اور وہ اپنے دفاع میں اس کی مزاحمت کریں گے۔ منگل کے روز بی بی سی سے بات چیت میں ستائیس سالہ جنگجو کا کہنا تھا کہ لشکر کی تشکیل شکئی کے مقام پر فوج کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔ ’یہ خلاف ورزی اب سامنے آگئی ہے۔ اب ہم اس کے خلاف اپنی کارروائی کریں گے۔‘ جب ان سے حکومت کے اس الزام کے بارے میں پوچھا گیا کہ انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تو نیک محمد نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی کرانے والے اراکین قومی اسمبلی بھی کہہ چکے ہیں کہ غیرملکیوں کا اندراج معاہدے کا حصہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں جن غیرملکیوں کے اندراج کے لئے وہ تیار ہوئے تھے وہ افغان محنت کش ہیں جو پچھلے پچیس برس سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ’جب حکومت نے ان سے مختلف اداروں کی جانب سے مکمل تفتیش کی شرط رکھی تو ان میں بداعتمادی آگئی اور وہ مکر گئے ہیں۔‘ حکومت کے شدید دباؤ کے تحت جنوبی وزیرستان کے احمدزئی وزیر قبیلے کے بارہ سو افراد پر مشتمل مسلح لشکر نے آج وانا سے بارہ کلومیٹر مغرب میں اعظم ورسک میں گشت کی۔ لشکر نے مقامی آبادی کو اعلان کے ذریعے متنبہ کیا کہ اگر انہوں نے کسی غیرملکی کو پناہ دے رکھی ہے تو اسے فوار وہاں سے نکال دیں ورنہ ایسے قبائلی کو پناہ دینے والے کو دس لاکھ روپے جرمانہ اور اس کا مکان مسمار کر دیا جائے گا۔
لشکر نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اب یہ لشکر کل افغان سرحد کے قریب رغزئی کے علاقے جائے گا۔ قبائلیوں کا کہنا ہے کہ غیرملکی یہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں لیکن حکومت ان کے اس موقف کو ابھی ماننے کو تیار نہیں۔ نیک محمد سے جب یہ پبچھا گیا کہ کیا لڑائی کا امکان ہے تو انہوں نے اس کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||