شکئی: لشکر کو کامیابی نہیں ہوئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبائل کا مسلح لشکر بالآخر حرکت میں آگیا ہے اور اس نے شکئی کے علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر کی تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ لیکن آخری اطلاعات تک لشکر کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے دور افتادہ پہاڑی علاقے شکئی میں مسلح لشکر نے کئی روز کی تاخیر کے بعد پیر کی صبح کارروائی شروع کی۔ چار سے پانچ ہزار افراد پر مشتمل لشکر کئی گروپوں میں کارروائی کر رہا ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک اسے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ قبائلی علاقوں کے لئے سیکورٹی کے نگران محمود شاہ نے بتایا کہ لشکر نے ایدک اور داوڑبی نامی دو مقامی افراد کے مکانات کی تلاشی لی جبکہ شکئی کے شمال میں مندتو اور ٹپغر نامی پہاڑی سلسلے میں قدرتی غاروں کی بھی چھان بین کی لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت لشکر کی کارکردگی پر مختلف ذرائع سے کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سے لشکر کی دیانت بھی چھپی نہیں۔ البتہ لشکر کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں مقامی لوگ زیادہ پراُمید نظر نہیں آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لشکر نے شکئی میں دو دن کے قیام کے بعد کارروائی شروع کی ہے جس دوران انہیں خدشہ ہے القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسند علاقہ چھوڑ چکے ہونگے۔ احمدزئی وزیر قبائل کا یہ لشکر دو روز سے شکئی میں القاعدہ کے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کے لئے مقامی قبائل سے مذاکرات میں مصروف تھا۔ اس تلاشی کی اجازت اتوار کی شام کو ملی۔ شکئی میں آباد مقامی قبائل کو اعتراض تھا کہ وہ بار بار تلاشی کے لئے تیار نہیں ہونگے اور لشکر کے لئے تلاشی کی یہ آخری اجازت ہوگی۔ لیکن بعد میں انہوں نے یہ اعتراض واپس لے لیا۔ یاد رہے کہ اس لشکر میں نیک محمد کا یارگل خیل قبیلہ شامل نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||