70 شدت پسند ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن میں اب تک مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد پینسٹھ سے ستر ہوگئی ہے۔ وانا کے علاقے میں تازہ کارروائیوں کی تفصیلات سے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات کی کارروائیوں میں نیک محمد کچھ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ نیک محمد شکئی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف غیر قانونی طور پر چھپے ہوئے غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ دینے بلکہ سیکورٹی اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جاری آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی مزید لاشیں ملنے کی بھی توقع ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قبائیلی علاقوں میں چھپے ہوئے غیر ملکیوں اور مقامی شدت پسند جو ان کا ساتھ دے رہے ہیں ان کے خاتمے تک سیکورٹی ایجنسیز کی کارروائی جاری رہے گی۔ قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں یعنی فاٹا سے منتخب بعض اراکین نے جب سیکیورٹی ایجنسیوں کی کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے پر بات کرنا چاہی اور اسپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی تو وہ احتجاجی طور پر واک آوٹ کر گئے۔ بعد میں نکتہ اعتراض پر وانا سے منتخب رکن مولانا عبدالمالک وزیر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فاٹا کے محب وطن شہریوں کو قتل کر رہی ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے دوبارہ واک آوٹ کا اعلان کیا جس میں متحدہ مجلس عمل نے بھی حصہ لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||