BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 September, 2004, 19:43 GMT 00:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وسیع پیمانے پر جھوٹ کے ہتھیار‘

کتاب کا سر ورق
’وسیع پیمانے پر جھوٹ پھیلانے والے ہتھیار‘ کا سرِ ورق
’وسیع پیمانے پر جھوٹ پھیلانے والے ہتھیار‘ نامی کتاب میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ آیا ہم اپنے ہی پروپیگینڈے کا شکار تو نہیں ہو گئے اور کیا ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ غلط دشمنوں کے خلاف، غلط جگہوں پر غلط ہتھیاروں سے تو نہیں لڑ رہے‘۔

یہ کتاب عراق کی جنگ میں پروپوگینڈے کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ ’جھوٹ پھیلانے والے‘ جن ہتھیاروں کی طرف یہ کتاب اشارہ کرتی ہے ان میں پروپوگینڈا سرفہرست معلوم ہوتا ہے اور کتاب میں کہا گیا ہے کہ اس کے لیے تعلقات عامہ کی عالمی شہرت یافتہ شخصیات استعمال کی گئیں جنہوں نےمختلف کمپنیوں کے لیے روز مرّہ کی اشیاء مثلاً شیمپو، چاول وغیرہ فروخت کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔

مصنفین نے لکھا ہے کہ پروپوگینڈے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے اور اس کو قانونی حیثیت دینے کے لیے امریکی کانگریس سے قوانین بھی پاس ہوئے۔ کتاب میں ’فریڈم پروموشن ایکٹ 2002‘ کی مثال دی گئی جس کے تحت ’مشرق وسطیٰ میں امریکہ نواز پروگراموں کی نشریات کے لیے 135 ملین ڈالر مختص کیے گئے۔

دو سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کے مصنف شیلڈن ریمپٹن اور جان سٹابر امریکہ میں ذرائع ابلاغ اور جمہوریت کے بارے میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار میڈیا اینڈ ڈیموکریسی میں کام کرتے ہیں۔

یہ کتاب اِس تنظیم کے کاروباری اداروں اور حکومتوں کی طرف سے کیے جانے والے پروپوگینڈے کے خلاف تحقیقی مشن کا ایک حصہ ہے۔ مصنفین نے اپنے دلائل کے حق میں سرکاری دستاویزات، اخبارات اور قوانین کا حوالہ دیا ہے۔

مُصنفین نے ذرائع ابلاغ کے تبصروں اور رپورٹوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس جنگ کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جھوٹی ثابت ہو جانے والی کہانیاں بار بار دہرائیں۔ ان کا موقف ہے کہ ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس پروپوگینڈے میں انتظامیہ کا آلہء کار بنے۔

اس سلسلے میں انہوں نے عربی کے ذرائع ابلاغ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان میں وہ بتایا جاتا تھا جو عرب عوام سننا چاہتے تھے اور وہ دکھایا گیا جو وہ دیکھنا چاہتے تھے۔

کتاب میں امریکی ذرائع ابلاغ کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے جنگ کی وہ تصویر دکھانے سے گریز کیا جو ان کے مطابق امریکی عوام نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

مصنفین کی طرف سے اس دعوے کے بعد کہ امریکہ اور برطانیہ نے جنگ کے دوران عراق پر آٹھ سو ٹوماہاک میزائیل، 14000 پرسیِژشن گائڈڈ میزائیل اور ان گنت کلسٹر بم استعمال کیے تھے۔ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ انہیں عرب ذرائع ابلاغ کی طرف سے جنگ کی خونی تصاویر دکھانا کیوں عجیب لگا؟

چند امریکی ذرائع ابلاغ پر اس کتاب میں تنقید کی گئی ہے کہ ایران عراق کی جنگ کہ دوران بعض حلقوں میں ’عراق کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں
کے استعمال کا دفاع کیا گیا تھا‘ اور بعد میں یہیں سے کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بات ہوئی۔

اس کے علاوہ اس بات پر بھی بحث کی گئی ہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ نے اس وقت کیوں خاموشی اختیار کی کہ جب امریکی انتظامیہ عراقی عوام پر صدام حسین کے مظالم پر چپ سادھے بیٹھی تھی۔

مصنفین نے مثال دی ہے کہ انیس سو اٹھاسی میں امریکہ میں کچھ سینیٹروں نے’پریوینشن آف جینوسائڈ ایکٹ آف 1988‘ متعارف کرایا جس کا مقصد عراق کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے پابندیاں عائد کرنا تھا۔

کتاب میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینیٹ نے یہ بِل متفقہ طور پر منظور کیا لیکن ایوان زیریں میں ریگن انتظامیہ نے اسے منظور نہیں ہونے دیا۔ مصنفین کے مطابق موجودہ امریکی صدر کے کچھ ساتھیوں نے اس وقت بِل کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ مصنفین نے اس سلسلے میں ایک سابق امریکی سفیر پیٹر گیلبرائتھ کا حوالے دیتے ہوئے ڈِک چینی اور کالن پاول کا نام لیا ہے۔

پروپوگینڈے کی تاریخ
کتاب میں امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

مصنفین کہتے ہیں کہ ٹرومین اور آئزنہاور کے ادوار میں بھی عربوں کو لبھانے کے لیے وسیع پیمانے پر مہم شروع کی گئی تھی۔

کتاب میں امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کی انیس سو بانوے کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امدادی پروگراموں کو ’نفسیاتی مقاصد‘ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

امریکی اور عراقی انتظامیہ کی قربت کی ایک اور مثال دیتے ہوئے کتاب میں لکھا گیا ہے کہ انیس سو نواسی میں صدر بُش سینیئر نے تین ایجنسیوں کے حکام کی طرف سے منفی رپورٹ کے باوجود بغداد سے قریبی تعلق کے لیے ایک انتہائی خفیہ حکم نامہ جاری کیا جس سے عراق کے لیے ایک ارب امریکی ڈالر کی امداد کی راہ ہموار ہو گئی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے پروپوگینڈے کا حصہ بننے کی مثال

جیریمی گلِک کے والد گیارہ ستمبر کے حملوں میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ہلاک ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے عراق کی جنگ اور امریکی صدر بُش کی مخالفت کی۔

فاکس ٹی وی نیٹ ورک پر بِل او رائلی نامی صحافی نے ان کا انٹرویو کیا جس کا احوال اس کتاب میں دیا گیا ہے۔ کتاب میں انٹرویو کے شائع ہونے والے حصے
کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔

او رائلی: ’آپ انتہائی بائیں بازو کا موقف دہرا رہے ہیں جس کا آپ کو حق حاصل ہے لیکن اس موقف کو زیادہ حمایت حاصل نہیں‘۔

گلک: آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، اس موقف کو زیادہ حمایت حاصل نہیں۔

او رائلی: ٹھیک ہے کہ آپ کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے لیکن آپ دیکھیں کہ ۔۔۔مجھے یقین ہے کہ آپ کی سوچ مخلص ہے۔۔لیکن جو بات مجھے پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ میرے خیال میں آپ کے والد آپ کے موقف کو پسند نہیں کریں گے۔

گلک: دیکھیں در اصل میرے والد بُش کی صدارت کو ناجائز سمجھتے تھے۔

او رائلی: شاید وہ سمجھتے تھے۔۔

گلک: میں بھی نہیں سمجھتا کہ بُش۔۔۔۔

او رائلی: (بات کاٹتے ہوئے) میں نہیں سمجھتا کہ وہ اپنے ملک کو آپ کی طرح دہشت گرد ملک کہہ رہے ہوں گے۔

گلک: میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بالکل ایسا ہی ہے۔

او رائلی: ہاں آپ کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔ٹھیک ہے۔ میں نہیں چاہتا۔۔

گلک: شاید

او رائلی: (پھر سے بات کاٹتے ہوئے) میں آپ سے عالمی سیاست پر بحث نہیں کرنا چاہتا۔

گلک: مگر کیوں نہیں؟ یہ بات ہی عالمی سیاست کی ہے۔

او رائلی: کیونکہ، پہلی بات یہ کہ مجھے بلکل پرواہ نہیں کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔۔۔۔

گلک: لیکن آپ کو پرواہ ہے کیونکہ آپ

او رائلی: (بات کاٹتے ہوئے) نہیں، دیکھو۔۔

گلک: تمہاری فکر کرنے کے وجہ یہ ہے کہ تم نو گیارہ کی۔۔۔۔

او رائلی: (بات کاٹتے ہوئے) میں بتاتا ہوں کہ مجھے کیوں فکر ہے۔۔

گلک: سمجھانے کے لیے۔۔۔

او رائلی: (بات کاٹتے ہوئے) مجھے اس لیے فکر ہے۔۔۔

گلک: مجھے بات مکمل کرنے دیں۔ آپ نو گیارہ کو یاد کر کے داخلی لوٹ مار سے لے کر عالمی سطح پر سامراجی جارحیت کا جواز۔۔۔

او رائلی: اپنا منہ بند رکھو۔۔۔۔۔تمہارا دنیا کے بارے میں اور اس ملک کے بارے میں محدود نظریہ ہے۔

گلک: اس کی وضاحت کرو۔ میں بھی ایک مثال دیتا ہوں۔۔

او رائلی: (بات کاٹتے ہوئے) نہیں میں تم سے اس موضوع پر بات نہیں کروں گا۔

گلک: میں تمہیں اس کے بارے میں مثال دینا چاہتا ہوں۔ چودہ ستمبر کو۔

(اس کے بعد گلک کی بات کئی بار کاٹی گئی اور وہ نہیں بتا سکے کہ چودہ ستمبر کو کیا ہوا تھا)۔

او رائلی: او بھائی میری خواہش ہے کہ تمہاری والدہ یہ پروگرام نہ دیکھ رہی ہوں۔

گلک: میری خواہش ہے کہ وہ دیکھ رہی ہوں۔

او رائلی: میں اس لیے نہیں چاہتا کہ تمہاری والدہ یہ پروگرام دیکھیں کیونکہ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

گلک: او کے۔

او رائلی: تمہارے والد کے احترام میں۔

گلک: تم جاننا چاہتے ہو کہ چودہ ستمبر کو میں کیا کر رہا تھا؟

او رائلی: بکواس بند کرو، بکواس بند کرو۔

گلک: برائےمہربانی میرے ساتھ اس طرح بات نہ کریں۔

او رائلی: احتراماً، احتراماً۔۔۔تمہارے والد کے احترام میں جو انتہائی اچھے امریکی تھے جنہیں درندوں نے مار دیا۔

گلک: ان مذہبی انتہا پسندوں نے جن کی تربیت اس حکومت نے کی تھی۔۔۔۔۔

او رائلی: ان کے احترام میں۔

گلک: امریکیوں کے احترام میں نہیں۔

او رائلی میں نہیں۔۔۔

گلک: حکمران طبقہ، ایک اقلیت۔

او رائلی نے پروگرام کے پروڈیوسر کی طرف سے اشارہ کر کے گلک کا مائک بند کرنے کے لیےکہا کہ ’میں اس کے والد کے احترام میں اس کے اس سے زیادہ کپڑے نہیں اتارنا چاہتا‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد