واشنگٹن میں محرم اور میلہ ساتھ ساتھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’آؤ مرنے والوں کا ماتم کریں! زخمیوں کی مرہم گیری اور جنگ کا خاتمہ‘، یہ تھے وہ نعرے جوگزشتہ ہفتے میں نے واشنگٹن میں قومی قبرستان سے لیکر وائٹ ہاؤس کے قریب تک نکلنے والے جلوس میں سنے۔ سینکڑوں لوگوں کے اس جلوس میں بہت سے شرکاء نے اپنے کاندھوں پر امریکی پرچم میں لپٹےاور بغیرلپٹےعلامتی تابوت اٹھا رکھے تھے۔ یہ علامتی تابوت جنگ عراق میں مرنے والوں کے تھے جو علامتی تابوت امریکی پرچم میں لپیٹے ہوئے تھے وہ امریکی فوجیوں کے تھے اور بغیرامریکی پرچم والے تابوت غیرامریکیوں اور ظاہر ہے کہ ’علامتی طور‘ پر عراقیوں کے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کو جانے والی پینسلوانیہ ایونیواور اس کے اطراف میں محرم اور میلہ ساتھ ساتھ آئے ہوئے تھے۔ ہر پل ’وائٹ ہاؤس‘،’ کیپیٹل ہل‘، ’لائبریری آف کانگریس‘، ’آرلنگٹن سیمٹری‘ عجائب خانوں اور پارکوں کے فوٹو کھینچنے والے سیاح اب ان پرشکوہ مقامات سے زیادہ امریکی دارالحکومت میں ہونے والے جنگ اور بش مخالف مظاہروں اور انکی نگرانی پر مامور پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں جو کہ اب امریکی دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہروں کےمناظر کا حصہ بن چکے ہیں کی تصاویر کھینچتے ہیں۔ پیادہ سپاہی، گھوڑ سوار، بلوے کی سرکوبی والی پولیس، سادہ لباس والے اور اصلی تے وڈی وردی والےمحاصرہ بند اور بکتر بند دستے۔
ہم جو کہ سندھی کانفرس میں شرکت کرنے آئے تھے اب واشنگٹن کی سڑک گردانی کرنے نکلے تھے- اس سے اگلی رات ہم نے سندھی لتا منگیشکر روبینہ قریشی کو محفل موسیقی میں سنا۔ روبینہ قریشی ایک سندھی نسل کی فینٹسی بنی ھوئی تھیں۔ ’یہ صورت گر ان خوابوں کے‘۔ یہ مغینہ کون ھے؟ ہماری امریکی دوست پیم نے پوچھا- ’ کیا تم اداکار مصطفیٰ قریشی کو جانتی ھو؟ ہم میں سے کسی نے پیم سے کہا- بہت عرصے تک پاکستانیوں کی ٹیکسی کمپنی میں کام کرنے والی پیم کو یاد آیا اور اس نے اپنے اوپر والے ھونٹوں پر مونچھوں کو تاؤ دینے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا ’نواں آیا ایں سونہڑیاں‘۔ فِن لینڈ سے آئے ہوئے میرے دوست نرنجن کے آٹھ سالہ بیٹے چنگ نے سب کو حیران کیا۔ سندھی باپ اور فنش ماں سے جنما یہ سندھی نام والا چنگ نہ صرف بڑی روانی سے سندھی بولتا ہے لیکن اس نے مجھ سمیت ان بہت سندھیوں پر دانستہ یا نادانستہ طور پر انگریزی الفاظ استعمال کرنے پر فی لفظ ایک ڈالر جرمانہ ڈالا۔
’وہ جلاد صفت طالبان جو لوگوں کی پیٹھوں پر کوڑے برسایا کرتا تھے کل تک مغربی دنیا کے ہیرو بنے ہوئے تھے‘، اسی سندھی کانفرنس میں رسول بخش پلیجو کل کے مجاہدین کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ میرے دوست چمن کھڈائی اور اسکی دوست چوانا نے مجھے بتایا کہ وہ گزشتہ ہفتےاس وقت وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرین میں موجود تھے۔ ان کے مطابق مظاہرین میں اس وقت صف ماتم بچھی جب عراق میں مارے جانیوالے امریکی فوجیوں کی مائیں جلوس سے مخاطب ہوئیں۔ ان الم نصیبوں جگر فگاروں کے اس اجتماع سے خطاب کرنیوالوں میں ارون گاندھی بھی شامل تھے۔ میں نے سوچا کہ ہم میں ارون گاندھی اور اروندھتی راۓ جیسے لوگ کیوں نہیں پیدا ہوتے۔ کیا کریں ہمارے ہاں تو پلیچو جیسے لوگ بھی کبھی کبھی ہی جنم لیتے ہیں۔ اس تمام خیر و شر کے شور شرابے اور جنگ و امن کے نعروں سے بےنیاز، ایک عمارت کی سیڑھیوں پر پیشاب کی ایک لمبی دھار کے ساتھ پڑی ھوئی کاغذ کی تھیلی میں بیئر کی بوتل سے لمبا گھونٹ لیکر اس بہت ہی خستہ حال ہوم لیس نے (جس کی شکل کچھ کچھ کارل مارکس تو کچھ کچھ اپنی گرفتاری کے وقت صدام حسین سے ملتی تھی) اپنے اطراف دیکھا او ر پھر ایک بڑی ’فک‘ (انگریزی والی) کہہ کر لمبی تان کر سوگیا۔ میں نے سوچا کہ شراب یا تو سندھ کے جام ومخدوم پیئیں یا پھر امریکہ کے ھوم لیس۔ میں نےاس رات فیئرفیکس اپنے ہوٹل جاتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی عمارت کو گھپ گھور اندھیرے میں ڈوبے ہوئے مرتضیٰ سولنگی کی گاڑی سے دیکھا- ایسے جیسے عمارتیں بلیک آؤٹ کی راتوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ میرے دوست نرنجن نے مجھے بتایا کہ کئی سال پہلے جب وہ اپنے بیٹے چنگ کو پنگوڑے نما گاڑی میں ڈال کر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی سیر کو آیا تھا تو وہاں کسی نے یہ جاننے پر کہ وہ فن لینڈ سے آیا ہوا تھاکہا’اتنی دور دراز سے چل کر فقط تم یہ وور ہاؤس (چکلہ) گھومنے آئےہو‘۔ ’تو یہ ہے پینٹاگان‘ دوسری صبح فیئر فیکس سے ایئرپورٹ کی طرف ٹیکسی میں جاتے ہوئے میرے دوست ڈاکٹر مقبول ہالیپوٹو پوچھتے ہیں۔ عارفوالہ کے ٹیکسی ڈرائیور سمیت ہم تینوں بغیر کسی تبصرے کے وہان سے گزر جاتے ہیں۔ بالکل ایسےجیسے ہم آبپارہ سے راولپنڈی جانیوالی ویگن میں آئی ایس آئی کی عمارت یا سٹور اسٹاپ کے قریب سے گزر جاتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||