’رحمانی دعوت‘ یا ’شیطانی دعوت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زیادہ دن بھی نہیں گزرے کہ ایک لمبی داڑھی والے بزرگ فولاد فقیر شر نامی ہوا کرتے تھے جو خود کو ’حضرت شیطان‘ کہلایا کرتے تھے۔ حضرت شیطان نامی یہ بزرگ اپنے گاؤں ٹھری میرواہ کے قریب ضلع خیرپور میرس (سندھ ) میں لوگوں کی بڑے کھانے کی دعوت کیا کرتے تھے۔ جس کے دو حصے ہوا کرتے تھے۔ ایک حصے میں بڑے پر تکلف اور انواع و اقسام کے طعام موجود ہوتے اور ایسی پر تکلف دعوت کے حصے کو اسکے میزبان فولاد ففیر ’شیطانی دعوت‘ کا نام دیتے۔ دعوت کے دوسرے حصے میں ففط بہت ہی سادہ سی بغیر’تڑکے‘ کے دال روٹی ہوا کرتی تھی جسے وہ (فولاد فقیر) ’دعوت رحمانی‘ کا نام دیتے تھے۔ فولاد فقیر کے ایسے بڑے کھانے پر مدعو کیے جانے والوں کی اکثریت، جن میں ایک خاصی تعداد مولویوں و ذاکروں کی ہی ہوا کرتی‘ ’شیطانی دعوت‘ والے حصے پہ ٹوٹ پڑتی۔ جبکہ دال روٹی والی ’رحمانی دعوت‘ میں یہ بزرگ حضرت شیطان اور انکے ایک آدہ معتقد ہوا کرتے- فولاد فقیر شر کا زمانہ اگرچہ انیس ستر کے عشرے کے وسط کا ہے لیکن یہ بھی وہ دن تھے جب فروعی اختلافات چاہے مسائل تصوف، بحث ومباحث، مناظروں اور عوامی طنز و مزاح کی ایک اچھی صنف بھکتی کے ذریعے ’مکائے‘ جاتے، نہ کہ گولی کے وسیلے سے۔ سوچ رہا ہوں کہ ’حضرت شیطان‘ کو کھلانے والے بزرگ فولاد فقیر اگر ان ’جہادیوں‘ یا ’توہیں رسالت‘ والے دنوں میں ہوتے تو کب کے چٹنی ہو چکے ہوتے۔ یہ افراد فتنہ ہائے عصر و زمان، الامان! الامان!
شاید کوئی ایسی کیفیت ہوگی جب استاد دامن نے لکھا ہوگا ’میں نوں دھرتی قلعی کرادے میں نچاں ساری رات۔‘ اب تو یوں لگتا ہے کہ پورے کی پوری یہ پرتھوی تعصب اور کرودہ کی کثافت سے بھری ہے جسے پھر سے قلعی کرانے کیلیے استاد دامن کہاں سے لائیں۔ فولاد فقیر کہاں سے لائیں جو پھر سے شیطاں رحمان کے بیچ والی بہت ہی پتلی لکیر کے اس پار رہنا سکھاتے- ویسے آپس کی بات ہے جو کہ شاہ لطیف نے صدیوں پہلے حضرت شیطان کے بارے میں کہی تھی ’عاشق تو بس عزرائیل، باقی سارے خواہش گر۔‘
میں نے سنا ہے کہ اب وہ سرزمین فولاد ففیر اور اسکے جیسے صوفیوں کو جنم نہیں دیتی- صوفی خانقاہوں اور خرقہ پوشوں کی جگہ ’ہیوی ڈیوٹی‘ ملاؤں اور مدرسوں نے لے لی ہے جو فیکٹریوں کی طرح ’جہادی‘ پیدا کرتے ہیں۔ میرے اس شہر سان ڈیاگو کے بحری اڈے سے چل کر خلیج کے کسی ملک میں بحیرہِ عرب کے پانیوں میں لنگر انداز ’جان پال دوم‘ نامی بیڑے سے اڑنے والے ٹام ہاک بردار طیاروں سے جو میزائل تب کے طالبانی افغانستان کے علاقے خوست میں اسامہ بن لادن کی کمیں اور تربیت گاہوں پر داغے گئے تھے۔ اسکی ایک خبر پاکستان میں پنجاب کے ضلع خانپور کٹورہ کے ایک گاؤوں میں آرائیوں کے کے گھرپربھی پہنچی تھی کہ انکا بارہویں جماعت میں پڑھنے والا لڑکا جو افغانستان ’جہاد‘ لڑنے گیا تھا وہ وہاں ایسے حملے میں مارا گیا ہے- یہ مراکش سے لیکر پشاور تک ’جہادیوں کا گلوبل نیٹ ورک‘۔ اور اس دن امریکن صوفی خاتون کو دیکھا جو ایک ریستوران میں کھانے پر اکھٹے اپنے بچوں کے ساتھ دُعا میں تمام دنیا کے بچوں کی خیر مانگ رہی تھی۔ کاش خدا کے ’ننانوے نام‘ لینے والی دنیا کے ’جہادی‘ تمام دنیا کے بچوں کی اپنے خداوند سے خیر مانگنے والی ایسے ماؤں کے بچوں پربھی کوئی رحم کھا سکتے! کیا آپ نے مائیکل مور کی فلم ’فارن ہائیٹ نائن الیون‘ میں اس بین کرتی امریکی عورت کو دیکھا جو کہتی تھی میرا بچہ کربلا میں مارا گیا۔’مائیں، بچے اور کربلا۔‘ بس ’انسان کو بیدار تو ہو لینے دو‘ والی بات ہے۔ مجھے اس صوفی خاتوں نے بتایا کہ وہ مغرب میں صوفی پیغام پھیلانے والے ہندوستانی صوفی عنایت خان کی مرید ہے۔ میں نے عنایت خان کے مرید مرد اورعورتوں کو کیلیفورنیا کی پو پھٹی سے ذرا پہلے کو پیسفک کے ساحل پر ریاضت کرتے دیکھا- ’اپنی تمام تر خاموشی کے باوجود ہر شے بولتی ہے‘، ٹیگور اور ٹالسٹائی کے ہمشکل داڑھی والےصوفی عنایت خان نے کہا تھا - اب کی بار یہاں جو طرح طرح کے نعروں اور تحریروں والے بٹن یا بیج آئے ہوئے ہیں ان میں سے ایک پر تحریر تھا : ’مجھے داڑھی ضرور ہے لیکں اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دہشتگرد ہوں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||