BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 September, 2004, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’رحمانی دعوت‘ یا ’شیطانی دعوت‘

سندھ کے ایک مزار کا ملنگ
زیادہ دن بھی نہیں گزرے کہ ایک لمبی داڑھی والے بزرگ فولاد فقیر شر نامی ہوا کرتے تھے جو خود کو ’حضرت شیطان‘ کہلایا کرتے تھے۔

حضرت شیطان نامی یہ بزرگ اپنے گاؤں ٹھری میرواہ کے قریب ضلع خیرپور میرس (سندھ ) میں لوگوں کی بڑے کھانے کی دعوت کیا کرتے تھے۔ جس کے دو حصے ہوا کرتے تھے۔ ایک حصے میں بڑے پر تکلف اور انواع و اقسام کے طعام موجود ہوتے اور ایسی پر تکلف دعوت کے حصے کو اسکے میزبان فولاد ففیر ’شیطانی دعوت‘ کا نام دیتے۔

دعوت کے دوسرے حصے میں ففط بہت ہی سادہ سی بغیر’تڑکے‘ کے دال روٹی ہوا کرتی تھی جسے وہ (فولاد فقیر) ’دعوت رحمانی‘ کا نام دیتے تھے۔ فولاد فقیر کے ایسے بڑے کھانے پر مدعو کیے جانے والوں کی اکثریت، جن میں ایک خاصی تعداد مولویوں و ذاکروں کی ہی ہوا کرتی‘ ’شیطانی دعوت‘ والے حصے پہ ٹوٹ پڑتی۔ جبکہ دال روٹی والی ’رحمانی دعوت‘ میں یہ بزرگ حضرت شیطان اور انکے ایک آدہ معتقد ہوا کرتے-

فولاد فقیر شر کا زمانہ اگرچہ انیس ستر کے عشرے کے وسط کا ہے لیکن یہ بھی وہ دن تھے جب فروعی اختلافات چاہے مسائل تصوف، بحث ومباحث، مناظروں اور عوامی طنز و مزاح کی ایک اچھی صنف بھکتی کے ذریعے ’مکائے‘ جاتے، نہ کہ گولی کے وسیلے سے۔

سوچ رہا ہوں کہ ’حضرت شیطان‘ کو کھلانے والے بزرگ فولاد فقیر اگر ا‌ن ’جہادیوں‘ یا ’توہیں رسالت‘ والے دنوں میں ہوتے تو کب کے چٹنی ہو چکے ہوتے۔ یہ افراد فتنہ ہائے عصر و زمان، الامان! الامان!

سندھ کا فقیر
فولاد فقیر شر جس سرزمین سے تعلق رکھتے تھے اسکے ہر پانچویں کوس پر صوفی خانقاہ ہے۔ فقر اور فاقے کے ساتھ فکر وتصوف کے کئی رنگ تھے۔ راگ ویراگ تھا اور زندگی کے پاؤں میں بندھے ایسے گھنگرو تھے جن کی چھنن چھناچھن گویا کہہ رہی ہوتی تھی ’ کنجری بنڑدے میڈی عزت نہ گھٹدی میکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ یہ کوئی میری یہاں پر شاعرانہ رگ پھڑک جانے والی بات نہیں- آپ جائیں اور جاکر وہاں دیکھیں کہ کھیتوں کے بیچ بھنگ کے ہرے بھرے بلاک لہلہاتے ہیں اور خوش خیر محمد فقیر کی خانقاہ کے آنگن میں ایک تارے اور چپٹیوں پر اسکے فقیر گاتے ہیں ’اساں آدم کنوں اگے ہاسے آدم ساڈا جایا رنگی رنگ بنایا۔‘ ان کھیتوں اور کھلیانوں کے قریب ایستادہ بجلی کے کھمبوں کی تاروں پر بیٹھے پرندے یوں جھول رہے ہوتے ہیں کہ جیسےبقول شخصے مراقبے میں ہوں (کل وہ جو لڑکی میڈیٹیشن کلاس کی بات کررہی تھی تو مجھے وہ بحالت مراقبہ پرندے یاد آئے)۔

شاید کوئی ایسی کیفیت ہوگی جب استاد دامن نے لکھا ہوگا ’میں نوں دھرتی قلعی کرادے میں نچاں ساری رات۔‘

اب تو یوں لگتا ہے کہ پورے کی پوری یہ پرتھوی تعصب اور کرودہ کی کثافت سے بھری ہے جسے پھر سے قلعی کرانے کیلیے استاد دامن کہاں سے لائیں۔
(’لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے روئے تسی وی او روئے اساں وی آں‘ یہ بول جو استاد دامن نے ہندستان پاکستان کے بٹوارے کے فوراً بعد کہے تھے انہیں سمجھتے سمجھتے ہمیں تریپن سال لگ گئے)۔

فولاد فقیر کہاں سے لائیں جو پھر سے شیطاں رحمان کے بیچ والی بہت ہی پتلی لکیر کے اس پار رہنا سکھاتے- ویسے آپس کی بات ہے جو کہ شاہ لطیف نے صدیوں پہلے حضرت شیطان کے بارے میں کہی تھی ’عاشق تو بس عزرائیل، باقی سارے خواہش گر۔‘

سچل سرمت
فولاد فقیر اور ‏میرے دوست غلام حسین شراور اسکے وہاں گاؤں کا کیا ہوا۔ ‏غلام حسین شر اور اسکے گاؤں ھی کےلیے شاید حبیب جالب نے کہا ہوگا ’ایک حسین گاؤں تھا کنارے آب۔‘

میں نے سنا ہے کہ اب وہ سرزمین فولاد ففیر اور اسکے جیسے صوفیوں کو جنم نہیں دیتی- صوفی خانقاہوں اور خرقہ پوشوں کی جگہ ’ہیوی ڈیوٹی‘ ملاؤں اور مدرسوں نے لے لی ہے جو فیکٹریوں کی طرح ’جہادی‘ پیدا کرتے ہیں۔

میرے اس شہر سان ڈیاگو کے بحری اڈے سے چل کر خلیج کے کسی ملک میں بحیرہِ عرب کے پانیوں میں لنگر انداز ’جان پال دوم‘ نامی بیڑے سے اڑنے والے ٹام ہاک بردار طیاروں سے جو میزا‎ئل تب کے طالبانی افغانستان کے علاقے خوست میں اسامہ بن لادن کی کمیں اور تربیت گاہوں پر دا‏غے گئے تھے۔ اسکی ایک خبر پاکستان میں پنجاب کے ضلع خانپور کٹورہ کے ایک گاؤوں میں آرائیوں کے کے گھرپربھی پہنچی تھی کہ انکا بارہویں جماعت میں پڑھنے والا لڑکا جو افغانستان ’جہاد‘ لڑنے گیا تھا وہ وہاں ایسے حملے میں مارا گیا ہے- یہ مراکش سے لیکر پشاور تک ’جہادیوں کا گلوبل نیٹ ورک‘۔

اور اس دن امریکن صوفی خاتون کو دیکھا جو ایک ریستوران میں کھانے پر اکھٹے اپنے بچوں کے ساتھ دُعا میں تمام دنیا کے بچوں کی خیر مانگ رہی تھی۔ کاش خدا کے ’ننانوے نام‘ لینے والی دنیا کے ’جہادی‘ تمام دنیا کے بچوں کی اپنے خداوند سے خیر مانگنے والی ایسے ماؤں کے بچوں پربھی کوئی رحم کھا سکتے!

کیا آپ نے مائیکل مور کی فلم ’فارن ہائیٹ نائن الیون‘ میں اس بین کرتی امریکی عورت کو دیکھا جو کہتی تھی میرا بچہ کربلا میں مارا گیا۔’مائیں، بچے اور کربلا۔‘ بس ’انسان کو بیدار تو ہو لینے دو‘ والی بات ہے۔

مجھے اس صوفی خاتوں نے بتایا کہ وہ مغرب میں صوفی پیغام پھیلانے والے ہندوستانی صوفی عنایت خان کی مرید ہے۔ میں نے عنایت خان کے مرید مرد اورعورتوں کو کیلیفورنیا کی پو پھٹی سے ذرا پہلے کو پیسفک کے ساحل پر ریاضت کرتے دیکھا-

’اپنی تمام تر خاموشی کے باوجود ہر شے بولتی ہے‘، ٹیگور اور ٹالسٹائی کے ہمشکل داڑھی والےصوفی عنایت خان نے کہا تھا - اب کی بار یہاں جو طرح طرح کے نعروں اور تحریروں والے بٹن یا بیج آئے ہوئے ہیں ان میں سے ایک پر تحریر تھا : ’مجھے داڑھی ضرور ہے لیکں اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دہشتگرد ہوں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد