امن کے پا پیادہ پیامبروں کے نام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے درمیاں پیدل امن مارچ کی تیاریاں ہو رہی ہیں جو اگلے برس (دو ہزار پانچ) مارچ میں ہوگا۔ یہ مارچ دلی میں نظام الدین اولیاء کے مزار سے شروع ہوکر ملتان میں بہاءالدین ذکریا کے مزار پر آکر اختتام پذیر ہوگا۔ پاکستان سے اس مجوزہ مارچ کےلیے ایک سرگرم کارکن ( اورشرکت کے متمنی) اور میرے دوست اسلم خواجہ نے مجھے اپنی ایک ای میل میں بتایا ہے کہ یہ امن مارچ بھارت کے تیس بڑے چھوٹے شہروں سے جن میں لدھیانہ اور امرتسر بھی شامل ہیں ہوتا ہوا واہگہ کے راستے پاکستانی پنجاب کے لاہور اور ساہیوال سمیت چالیس سے زائد شہروں سے گزرکر ملتان پہنچے گا۔ دونوں ہمسایوں لیکن نیوکلیئر حریف ملکوں کے درمیاں مجوزہ پیدل امن مارچ کے خیال کی داعی بھارت کے ڈاکٹر سندیپ پانڈے ہیں جبکہ پاکستان سے اسکے روح رواں کسی وقت مشہور مزدور رہنما اور اب مزدور تحریک اور حقوق کے مبلغ کرامت علی ہیں۔ کراچی میں کرامت علی اور انکی قائم کردہ تنظیم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر اینڈ ریسرچ المعروف پائیلر اور اسکے باہر انکے ساتھی پاکستان اور بھارت کے درمیاں غیر سرکاری سطح پر بہت سرگرم رہے ہیں۔ انکی طرف سے سنہ انیس سو ننانوے میں مارچ کے مہینے میں کراچی میں ایک بہت بڑی امن کانفرنس کا انقعاد کیا گیا تھا جس میں ہند، سندھ اور پاکستان سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان امن کےلیے سرگرداں جانی جانیوالی بہت سی شخصیات نے شرکت کی تھی۔ اسلم خواجہ نے اپنی ای میل میں یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اور ان کے مجوزہ پیدل امن مارچ میں شرکت کے خواہشمند بہت سے ساتھی امید کر رہے ہیں کہ اسی طرح کا ایک اورپیدل امن مارچ چھ مہینے بعد کراچی سے براستہ کھوکھراپار موناباؤ سرحد جے پور تک ہوگا۔ مونا باؤ کھوکھراپار سرحد کے بارے میں سندھی اخبار ’کاوش‘ کے کالم نگار ارباب نیک محمد نے اپنے کالم ’انڈوپاک ڈائیلاگ میں سندہ کی سردمہری‘ کے عنوان سے لکھا ہے: ’پاک انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی والوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ امسال چودہ اگست کو انکے سندھ اور راجستھان چیپٹروں کے ستر ستر ارکان مونا باؤ سرحد پر ملاقات کرینگے اور علامتی طور امن کے گیت گائیں گے- لیکن ایسی مشکل مسافت کےلیے سرکاری پروانہ نہیں مل سکا۔ پاک بھارت تعلقات کے سلسلے میں حالیہ کوششوں کے سلسلے میں حکومتی سطح پر روا رکھے جانے والے دوہرے معیار کا موازنہ کرتے ہوئے ارباب نیک محمد لکھتے ہیں: ’کچھ روز قبل اسی فورم کی آٹھویں سالگرہ کے موقع پر بھارت سے ایڈمرل رامداس کی سربراہی میں ستر ارکان کا وفد بن ٹھن کر لاہور پہنچا ہوا تھا۔ مطلب کہ کرکٹ ڈپلومیسی میں عمران خان جےپور جاسکتے ہیں۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے دوران شھریار ایم خان اپنے بیٹے کا بیاہ بھوپال کےراجہ کے ہاں سے کرسکتا ہے، نیاز اے نائیک، ہمایوں ایم خان جیسے سفارتکار عبدالستار کی سربراہی میں اپنے ننھیال کے ساتھ عشق کے ناتے استوار کرنے کےلیے متحرک ہو سکتے ہیں، ریٹائرڈ جرنیلوں میں سے جہانگیر کرامت، کےایم عارف، طلعت مسعود اور اصغر خان جیسے بزرگان اپنے برٹش انڈین آرمی کے بھارتی ’بیلیوں‘ سے سینکڑوں مجلسیں کی ہیں۔ حنا جیلانی اور عاصمہ جہانگیر والی جماعت بھی آئی اے رحمان کےساتھ میں دلی یاترا کرتی رہتی ہے۔‘ (لیکن سندھ اور راجستھان سے تعلق رکھنے والے امن کے داعی سرکاری اجازت نامے سے محروم رہتے ہیں)۔ لیکن میرے دوست اسلم خواجہ جو ایسے موقعوں پر پنجابی زبان کی یہ کہاوت دہراتا رہتا ہے ’اوڑک مر جانا ای اے چل میلے تے چلیے‘۔ اب کے بار پیدل پاک بھارت مارچ میں حصے لینے کی ٹھان لینے والے اور ایسے سب یاروں پر مجھے ان دونوں دیسوں بھارت اور پاکستان کے لوگوں میں ایک جیسے مقبول محبتوں کے گیتوں کے سفیر غلام علی کی غزل ’جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پاؤں میں چھالے ھونگے، ہاں وہی لوگ تمھیں ڈھونڈھنے والے ہونگے‘ بار بار یاد آئی۔ اور سنیے تو اسی غزل کا یہ شعر کتنا ’ظالم‘ ہے ’مے برستی ھے فضاؤں میں نشہ طاری ہے، میرے ساقی نے کہیں جام اچھالے ہونگے۔‘ تو پس عزیزو اپنے اپنے ساقی سے کہنا آج اپنا ایک ایک جام ان پاکستان بھارت کے درمیان پیدل چلنے کی ٹھان لینے والوں کے نام بھی کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||