BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 September, 2004, 18:30 GMT 23:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھر: مسخری اور المیہ

تھری عوام
کچھ عرصہ قبل یہاں امریکہ کےکئی پاکستانی سياسی اور صحافتی حلقوں میں ایک لطیفہ مشہور ہوا تھا کہ جنرل پرویز مشرف صحرائے تھر میں آرمی کی طرف سے کھدوا ئے جانے والے کنویں کا افتتاح کرنے کےلیے تشریف لاتے ہیں۔ افتتاح کے بعد جنرل پرویز مشرف جیسے ہی کنويں کی دیوار پر کھڑے ہو کر کنویں کی گہرائی کا اندازہ لگانے کےلیے کنویں میں جھانکنے لگے تو ان کا پیر پھسلا اور وہ دھڑام سے کنویں میں جا گرے۔ کراچی کے کور کمانڈر جو ان کے پیچھے کھڑے تھے انھوں نے جوانوں کو حکم دیا کہ فوراً کہیں سے جاکر ایک رسی لے آئیں جس کی مدد سے جنرل صاحب کو کنویں میں سے باہر نکالا جائے۔

حکم کی فوراً تعمیل میں جوانوں نے ایک لمبی رسی جنرل مشرف کی طرف کنوین کے اندر پھینکی- اور رسی تھامے جنرل مشرف کو جوان کنویں کے باہر کی طرف کھینچنے لگے ۔

ابھی جنرل مشرف کھنچتے کھنچتے کنویں کے کنارے پر بمشکل پہنچ ہی پاتے کہ جوان رسی کو چھوڑ کراپنے بوٹوں کی ایڑیوں کو تمام زور سے زمین پر مارتے ھوئے جنرل مشرف کو سیلوٹ کرنے لگتے۔

صدر مشرف
اور یوں جنرل مشرف دھڑام سے پھر کنویں کے اندر جاگرتے۔ جب ایسا تیسری بار ھونے لگا تو جنرل مشرف نے جوانوں پر چیختے ہوئے انھیں حکم دیا کہ ’جاؤ کہیں سے کوئی سویلین ڈھونڈ کر لاؤ جو بجائے مجھے سیلوٹ کرنے کے کنویں سے باہر نکالنے کی کوشش کرے۔‘

لگتا ہے اکتوبر ننانوے میں جس کسی نے بھی جنرل پرویز مشرف کو کنویں میں دھکا دیا تھا وہ سوچ سمجھ کر ہی دیا تھا۔ بہت دنوں سے جنرل مشرف خود کو کنویں سے نکلوانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پھر وہ چاہے ظفراللہ جمالی تھے یا اب شوکت عزیز ہوں۔ رہے چوھدری شجاعت تو ان کے لیے مولانا ظفر علی خان کا وہ شعر ہی کہا جا سکتا ہے جو اس دن مجھے میرے دوست سید اعجاز سان فرانسسکو سے سنا رہے تھے:

ہمارا کیا ارے بھائی ھم پنجابی رسالے ہیں
کہیں اردو کو چت کردیں کہیں اردو کو پٹ کردیں

بہرحال ’آتے ھوئے اذان ہوئی جاتے ہوئے نماز‘ جیسی مختصر مدت میں مجھے جو انکا خراب کام لگا وہ انکی پاکستانی پریس کےخلاف ’قانون ہتک عزت‘ کی شکل میں بغدے اور کلہاڑے تیز کرنے کی کوششیں تھیں (یا پھر یہ جٹ اپنی پگڑی سنبھالنے کی سعی کررھے تھے) اور اچھا کام امریکہ سے پاکستانیوں کی میتیں بذریعہ پی آئی اے مفت لانےکا اعلان۔

مشرف
اب یہ اور بات ہے کہ مردہ پاکستانی پی آئی اے والوں کے ’حُسن سلوک‘ کی بات صرف اپنے مالک حقیقی سے کر سکیں گے- بس با کمال لوگ لاجواب سروس والی بات ٹھہری-

گجرات کے چودھری مردہ پاکستانیوں میں اپنا حلقہ انتخاب کھولنے سے تو رہے۔ اور یہ بھی کہ مردہ پاکستانیوں میں شاذو نادر ہی کوئی پنجاب کوآپریٹو کا مارا ہوا ھوا تو پھر ’اپنا گریبان چاک یا دامن یزداں چاک‘ والی بات ھو گی-

ہاں یاد آیا کہ کہ جس ملک میں قرآن شائع کرنے والی تاج کمپنی مساکین اور یتیموں کی کمائی کھا جاتی ہو۔

اسی لیے سندھ میں بہت بڑے چور کو ’قرآنی‘ کھا جاتا ہے۔ ایسے

قرآنی مجھے یہاں امریکہ میں بھی ملے جو غریب ہموطنوں کی خون پسینے کی کمائی تو ہضم کیے بیٹھے ہیں لیکن ایریزونا کے صحرا میں لاکھوں ڈالروں کی مسجد بنوارہے ہیں۔

تو قصہ مختصر میں تم سے ذکر کر رہا تھا جنرل پرویز مشرف کے کنویں میں گر جانے کا جس میں سے خود کو نکلوانے کےلیے اس جنرل کو ایک سویلین چاہیے ہوتا ہے ۔

لیکن کیا کیجئے پاکستانی جنرلوں کو وزیر اعظموں سے ’سیاسی ہم بستری‘ کی لت لگی ہوتی ہے- یہ اقتدار کا چاہ بابل ہے ہی ایسا کہ جس میں بڑے بڑے فرشتے آئے اور الٹے لٹک گئے۔

ا

ارباب غلام رحیم
یک کنواں تھر میں بھالوا کا بھی ہے جہاں سے بادشاہ عمر ماروی کو زبردستی اٹھا کر لے گیا تھا- میرے دوستو! کیا تمھیں یاد ہے ہم نے کتنی ڈھلتی شاموں اور پھوٹتی صبحوں میں بھالوا کودیکھا تھا۔ شاید ایسی صبحوں کےلیے ہی جوش ملیح آبادی نے کہا ہو گا کہ ’اگر رسول نہ آتے تو صبح کافی تھی۔‘

مجھے ہمیشہ لگا ہے کہ ہر عام تھری میں ماروی کی روح ہوتی ہے جبکہ پاکستان کے ہر دور کا حکمران بادشاہ عمر سومرو جتنا ہی کمینہ ثابت ہوا ہے- کوئی عجب بات نہیں جب سندھ کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ ان میں جام صادق علی کی روح ڈیرے ڈالے ھوئے ہے۔

’پاکستان میں وزیر اعظم تبدیل ہوا ہے‘ ایسی تبدیلی کے بارے میں تھر ی عوام صرف اسی وقت جان سکتے ھیں جب کوئی پرائمری ٹیچر، پولیس والا
، پٹواری یا لائن مین مٹھی سے ننگر پارکر، یا ڈیپلو سے چھاچھرو تبادلہ ہوکر پہنچتا ہے۔

تھر ایک عجیب وغریب ملک ہے جہاں کاریھر ( کالے سانپ)، اربابوں، پٹیلوں، رینجرز اور ایف آئی یو والوں کا راج ہے۔ ’تاجداران تھر‘ ارباب جمہوریت کے کتنے دلدادہ اور رسیا ہیں کہ انیس سو نوے کے انتخابات میں انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب میں کئی دیہاتوں میں بیس روپے فی کس ووٹ خریدے تھے۔

لیکن اب انہوں نے یہ حلقہ انتخاب شوکت عزیز کوبقول انکے (اربابوں کے) تحفے میں دیا ہے۔جیسے پرانے وقتوں میں بڑے بڑے مہاراجے اپنے رجواڑوں کے حصے بخرے اپنے لنگوٹیوں کو دیا کرتے تھے- یعنی کہ وہ سلوک جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کیا کرتے تھے۔

اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہاں امریکہ کے کئی پروفیشنل لوگوں کے لونگ روموں میں اس طرح کی ’افواہیں‘ گلاسوں میں بیئر کی جھاگ طرح ابھري ہوئی ہیں کہ اپنے سٹي بینک کے عہد صدارت میں شوکت عزیز کی مبینہ مدد سے پاکستان کی کئی سیاسی، فوجی اور انتظامی شخصیات نے اپنا کالا دھن ملک سے باہر کے بینکوں میں رکھوایا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس طرح کے امریکہ کے پاکستانی پروفیشنل لوگ خود شوکت عزیز بننے کےلیے ’بس اسقدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا‘ کے منتظر ہیں۔

اس دن میرا ایک دوست وینکوور (کینیڈا) سے مجھے فون پر کہہ رہا تھا: ’جب مسخری اور المیہ ایک ساتھ مل جاتے ہیں تو پھر تھر جیسی صورتحال جنم لیتی ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد