ضیا سے مشرف تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب ہم میں سے بہت ساروں نے اسے پاکستان ٹیلیویژن کی سکرین پر ’شیطان الرجیم سے پناہ مانگتے اور بسم اللہ پڑھتے اور نحمد و نصلی علیٰ رسول الکریم کے بعد عزیر ہم وطنو! اسلام علیکم‘ کہتے پہلی بار دیکھا تو وہ اپنی تحریر شدہ تقریر کے اوراق اپنی انگلی سے اپنی بڑی مونچھوں تلے چھپے منہ میں زبان سے تھوک لگا کر الٹتا تھا۔ وہ بقول شخص پرانے زمانوں کی فلموں کے اس ویلن کی طرح لگتا تھا جو ہیروئن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے وہاں تھوڑی دیر بعد گزرنے والی ٹرین کی پٹڑیوں پر پھینک دیتا ہے۔ یہ پانچ جولائی انیس سو ستتر کی شب کو پاکستان میں آنے والا جنرل محمد ضیاء الحق اور اس کا مارشل لاء تھا جس کے بارے میں پھر احمد فراز نے کہا تھا: دیکھنے والوں نے دیکھا ہے اپنے ہی ’باس‘ اور پروموٹر ذوالفقار علی بھٹو کی ’انا‘ اور ’قضا‘ ( کیا آپ کو بھٹو کی لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں جلسے والی وہ تقریر یاد ہے جو اس نے پہلی بار روس کے دورے پر جانے سے پہلے کی تھی اور جس میں کے ایل سہگل کے گانے کے ان بولوں کو دھرایا تھا: ’لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے‘ اور پھر اپنے مخصوص انداز میں بھٹو نے کہا ’یہ حیات سہگل اور آدم جی کو بھی لے جائے گی۔ سرمایہ داروں اور وڈیروں کو لے جائے گی۔) سے نکلے ہوئے اس جنرل ضیاءالحق بھی بھٹو کی طرح بہت سارے لوگوں کی نفرت کا قبلہ اورچاہت کا کعبہ بنا۔ یہ تب اپنی عمر عزیز کے پچاس سالوں میں سے تیس سال فوجی بوٹوں تلے راج کیے جانے والی وطن عزیز کی گزشتہ دھائیوں سے لے کر آج تک چلتی فلم اور سیلف سینسر ہوتی ہوئی تاریخ کا سب سے بڑا اینٹی ہیرو ہے۔ اب اس کا ’سائڈ ہیرو‘ جنرل مشرف کو کہہ سکتے ہیں جو انیس سو ستتر والے ضیاالحق کا لبرل ایڈیشن ہے۔ دونوں میں وہی فرق ہے جو مودودی اور اتاترک میں تھا۔ آج بھی اسلام آباد کے ایف ٹین یا ویسٹرج راولپنڈی کے بنگلوں میں اسے ’ضیا صاحب‘ اور ’جنرل صاحب‘ کہا جاتا ہے۔ فوجی جرنیلوں کے خانوادے میں شادی کرنے والے ایک سندھی نوجوان نے پہلی مرتبہ جب اپنے سسرال کو جنرل ضیاء کو ’ضیا صاحب‘ کہتے سنا تو اسے صدمے کی حد تک حیرت ہوئی تھی۔ وہ ضیاء الحق جسے جی ایم سید نے بھی ’شریف النفس‘ قرار دیا تھا تو اس پر شیخ ایاز نے ایک ہائیکولکھا تھا: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||