تینتالیسویں صدر کی باتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں بیس جنوری کو ایک لاکھ سے زائد منتخب مہمانوں کے سامنے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے لئے حلف اٹھانے کی تقریب میں صدر جارج بش نے پوری دنیا کے لوگوں کو جس طرح مخاطب کیا وہ کوئی معمولی خطاب نہیں تھا بلکہ حکمت کے موتی تھے۔ کوئی ڈیڑھ سو برس تک ٹیکساس سمیت جنوبی ریاستوں کے کھیتوں، کھلیانوں، حویلیوں اور کارخانوں میں درآمد شدہ سیاہ فام غلاموں سے جبری مشقت کرانے والے امریکہ کے تینتالیسویں صدر نے کہا: ’امریکہ کی بنیاد رکھنے والوں نے روزِ اول ہی اعلان کردیا تھا کہ اس کرہِ ارض کے ہر زن و مرد کو بنیادی آزادیوں اور وقار کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے۔ کیونکہ ان سب کو خدا نے اپنی شباہت پر تخلیق کیا ہے۔ یوں نہ کوئی آقا بننے کا حقدار ہے اور نہ کوئی غلام رہنے کا مستحق۔‘ ’بقول ابراہام لنکن جو لوگ دوسروں کو آزادی سے محروم رکھتے ہیں وہ خود بھی آزادی کے مستحق نہیں۔انصافِ خداوندی کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگ بھی آزادی کھو بیٹھیں گے۔‘
’امریکہ یہ فرض نہیں کرے گا کہ جیلوں میں بند منحرفین کو زنجیریں پسند ہیں۔ عورتیں غلامی اور زلت کی زندگی کی شیدائی ہیں یا انسانوں کی اکثریت کو غنڈوں کے رحم و کرم پر رہنا اچھا لگتا ہے۔ ہم حکومتوں پر ایسی اصلاحات کرنے پر زور دیتے رہیں گے جن کے نتیجے میں لوگوں سے شائستہ سلوک ہو اور اسی کی بنیاد پر ہی ہمارے اور ان ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کا دارومدار ہوگا۔‘ گوانتاناموبے کے کیمپ ایکسرے میں قریباً تین برس سے بلا فردِ جرم بند سینکڑوں بین الاقوامی قیدیوں کے نگراں سب سے طاقتور ملک کے حاکمِ اعلی نے مزید کہا: ’وہ تمام لوگ جو اسوقت آمرانہ شکنجے میں ناامیدی کے ساتھ جکڑے ہوئے ہیں۔انہیں جان لینا چاہئیے کہ امریکہ ان پر ہونے والے مظالم سے آنکھیں نہیں چرائے گا اور نہ ہی اہلِ ستم سے درگزر کرے گا۔آپ جب بھی اپنی آزادی کے لئے کھڑے ہوں گے ہمیں شانہ بشانہ پائیں گے۔‘
’امریکہ ان لوگوں پر اپنا طرزِ حکومت مسلط نہیں کرنا چاہتا جو اسکی خواہش نہیں رکھتے۔ ہمارا مقصد ایسے لوگوں کی مدد کرنا ہے جو اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں مگر اپنی طرزِ زندگی برقرار رکھتے ہوئے آزادی کے متلاشی ہیں۔‘ کویت، مصر، اسرائیل ، پاکستان اور وسطی ایشیا کی سابق سووویت ریاستوں کی موجودہ حکومتوں کو قریب ترین اتحادی کا درجہ دینے والے امریکہ کے صدر نے اپنے دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’امریکہ کے سب اتحادیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نہ صرف انکی دوستی کی قدر کرتے ہیں۔ انکے مشوروں پر کان دھرتے ہیں بلکہ انکی مدد پر بھروسہ بھی کرتے ہیں۔‘ صدر جارج بش کا یہ خطاب انکی دوسری چارسالہ مدتِ صدارت کے دوران امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی پتھر رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||