 |  کوفی عنان کے دورے سے سونامی سے متاثرہ سری لنکا میں نئے تنازعات نے جنم لیا |
مجھے یاد ہے جب انیس سو تہتر میں صوبہ پنجاب اور سندھ میں دریاؤں نے سینکڑوں قصبوں اور شہروں کے خلاف بغاوت کردی تھی تو امریکیوں نے ویتنام کی جنگ کے سلسلے میں تھائی لینڈ میں رکھے گئے کچھ ہیلی کاپٹر عارضی طور پر پاکستانی فضائیہ کی امدادی سرگرمیوں میں ہاتھ بٹانے کے لئے بھیجے تھے۔ان میں سے دو ہیلی کاپٹر جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں پانی سے گھرے ہزاروں افراد کے لئے فضا سے خوراک کے پیکٹ گرانے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ ہم بیسیوں اسکولی بچے رحیم یارخان میں پکی اینٹوں سے بنے ہوئے چھوٹے سے ایرپورٹ پر کئی روز تک خوراک کی رضاکارانہ پیکنگ کا کام کرتے رہے۔لیکن ہمیں یہ دیکھ دیکھ کر عجیب سا لگتا تھا کہ روزانہ چند گھنٹوں کے لئے امدادی کام ٹھپ ہوجاتا تھا۔ کبھی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے آ رہے ہیں تو کبھی گورنر غلام مصطفی کھر اور کبھی کوئی علاقائی یا غیر ملکی وفد۔جن ہیلی کاپٹروں کو بھوکے لوگوں تک خوراک پہنچانے کے لئے رکھا گیا تھا۔وہ ان وی آئی پی مہمانوں کو ڈھونے میں لگ جاتے تھے۔جس پولیس اور فوج کو مصیبت زدگان کے انخلا کا کام سونپا گیا تھا۔اسکی ایک بڑی تعداد حفاظتی انتظامات میں مصروف ہو جاتی تھی۔ سن دوہزار ایک میں بھارتی ریاست گجرات کے شہر بھوج کی تباہی کے بعد جب امدادی کام زوروشور سے جاری تھا وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی وہاں پہنچ گئے۔اسکے نتیجے میں قریب ترین ایرپورٹ پورے ایک دن امدادی کاموں کے لئے بند رہا کیونکہ وزیرِ اعظم زلزلہ زدگان کا حال پوچھ رہے تھے۔ مجھے یہ سب یہ خبر سن کر یاد آرہا ہے کہ سری لنکا میں سونامی کے مصیبت زدگان کی امداد کے لئے موجود پاکستانی فوجی دستے کے امدادی کام میں اسوقت خاصی رکاوٹیں کھڑی ہوگئیں جب اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان ایک مصیبت زدہ علاقے کے دورے پر گئے۔انڈونیشیا کے سب سے زیادہ تباہ ہونے والے صوبے آچے میں بھی اس طرح کے بکثرت دورے امدادی کاموں میں خلل ڈال رہے ہیں۔ مسئلہ صرف قدرتی آفات تک ہی محدود نہیں ہے۔جب بھی کہیں بم دھماکے یا فائرنگ وغیرہ کے واقعات میں بہت سے لوگ ہلاک و زخمی ہوجاتے ہیں تو فوٹو کھنچوانے کے خواہش مند سرکاری اور غیر سرکاری مہمانوں کا تانتا ضرورت مندوں کا جتنا حرج کرتا ہے اسکا اندازہ امدادی کاموں میں براہ راست شریک لوگوں کے علاوہ شاید کسی کو نہیں ہوپاتا۔ جس طرح ایک شدید بیمار مریض جب انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل ہوتا ہے تو اسکے ملاقاتیوں پر پابندی لگ جاتی ہے اسی طرح انسانی اور قدرتی آفات کے نتیجے میں بعض اوقات پوری کی پوری آبادیاں اور علاقے بھی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ کیا کوئی خدا کا بندہ وی آئی پی حکام اور مہمانوں کو سمجھا سکتا ہے کہ آپ کا مصیبت زدگان کے پاس فوری طور پر نہ پہنچنا ان لوگوں کی کتنی بڑی مدد ہوگی۔ |