BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 January, 2005, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ووٹروں کا بھاری ٹرن آؤٹ: کمیشن
انتخابی کمیشن کے اندازے کے مطابق ساٹھ فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا
انتخابی کمیشن کے اندازے کے مطابق ساٹھ فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا
گزشتہ پانچ عشروں میں عراق کے پہلے کثیرالجماعتی انتخابات کو ’کامیاب‘ قرار دیا گیا ہے اور انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ توقع کے خلاف لگ بھگ ساٹھ فیصد عراقیوں نے اتوار کی ووٹنگ میں حصہ لیا ہے۔

مزاحمت کاروں کے حملے میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور ابومصعب الزرقاوی سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے تیرہ خودکش بمباروں نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی۔

عراقی انتخابی کمیشن کا کہنا تھا کہ لگ بھگ چودہ ملین رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ آٹھ ملین ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے جو کہ تقریبا ساٹھ فیصد ہے۔ ووٹنگ کے دن دوپہر تک انتخابی کمیشن کے ایک اہلکار نے اندازہ لگایا تھا کہ ٹرن آؤٹ لگ بھگ بہتر فیصد تھا۔

عراق میں موجود نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنی، شیعہ اور کرد علاقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ مختلف رہے۔ عراق کے شیعہ برادری والے جنوبی علاقوں اور کردوں والے شمالی علاقوں میں لوگوں نے بھاری تعداد میں ووٹ ڈالے۔

دوسری جانب مرکزی عراق کے سنی علاقوں میں ٹرن آؤٹ کافی کم تھا اور ووٹر یا تو مزاحمت کاروں کے حملوں کے خوف سے یا سیاسی جماعتوں کی جانب سے بائیکاٹ کی اپیل پر گھروں سے باہر نہیں نکلے۔ بعض انتخابی مراکز سنسان پڑے رہے۔

انتخابی کمیشن نے آخری لمحات میں ووٹنگ کے وقفے میں دو گھنٹے کی توسیع کی۔ انتخابات سے متعلق اقوام متحدہ کے مشیر کارلوس ولینزوئیلا نے کہا کہ ووٹر ٹرن آؤٹ امید کے برعکس زیادہ تھا لیکن صحیح ٹرن آؤٹ کا پتہ بعد میں ہی لگایا جاسکتا ہے۔ ولینزوئیلا نے کہا کہ الیکشن خامیوں سے ’پاک‘ نہیں ہوگا لیکن ’قابل اعتبار‘ ضرور ہوگا۔

امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے ووٹنگ کو ’بہتر مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں کافی مشکلات آئیں گی لیکن ’عراقی عوام کے لئے یہ ایک غیرمعمولی دن تھا۔‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے آج کی ووٹنگ کو عراق میں جمہوریت کی جانب ایک ’پہلا قدم‘ قرار دیا۔ عنان نے کہا کہ عراقی ووٹروں پر یہ واضح تھا کہ وہ اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ ایرانی رہنماؤں نے کہا ہے کہ انتخابات آزاد کی جانب اہم قدم تھے۔

شیعہ اور کرد علاقوں میں عوام میں جوش و خروش دیکھا گیا۔ بصرہ کے جنوب میں ابوالخصیب میں بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر گرانٹ کا کہنا ہے کہ ایک شخص ووٹ دینے کے لئے اتنا خوش تھا کہ وہ خوشی کی ایک تقریر پہلے سے لکھ کر لایا تھا۔

کرد شہر اربیل میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کا کہنا ہے کہ آج کی ووٹنگ میں صبح ہی سے ٹرن آؤٹ کافی زیادہ تھا۔ الیکشن کمیشن کے اہلکاروں نے کہا کہ عراق کے سنی علاقوں میں واقع شیعہ برادری والے علاقوں میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ زیادہ تھا۔

مرکزی عراق کے شہر فلوجہ، سمارہ اور رمادی میں کم ہی ووٹر انتخابی مراکز تک آئے اور بعض مراکز سنسان رہے۔ بعض مقامات پر سنی جماعتوں نے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی لیکن یہ کہا تھا کہ ووٹر مقامی کونسل کے لئے ووٹ دے سکتے ہیں۔ آج کی ووٹنگ عراق کی عبوری قومی اسمبلی کے لئے دو سو پچہتر ارکان منتخب کرنے کے ساتھ ساتھ کرد علاقے میں علاقائی اسمبلی اور کئی شہرووں میں کونسل کے لئے بھی کرائی گئی تھی۔

حکام نے بڑے پیمانے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور سڑکوں پر صرف سرکاری گاڑیاں ہی چل سکتی تھیں۔ لیکن تمام سکیورٹی کے انتظامات کے باوجود صرف بغداد میں نو خودکش حملے کیے گئے۔ موصل میں بھی کئی دھماکے ہوئے۔

عراقتشدد کے سائے میں
انتخابی تیاریاں اور تشدد کے واقعات ساتھ ساتھ
انتخاباتعراقی کیا کہتے ہیں؟
انتخابات پر عراقی عوام کے تاثرات
عراق’ووٹ ضرور ڈالیں گے‘
الیکشن سے چند گھنٹے قبل،عراق میں کیاہورہا تھا
انتخاباترپورٹر لاگ
عراقی انتخابات کا آنکھوں دیکھا حال
عراق الیکشنعراق الیکشن
30 جنوری عراقیوں کا دن کیسا گزرا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد