عراقی جنگ میں کس نے کیا پایا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی جنگ کے دو سال بعد اب بھی دجلہ اور فرات کی سرزمین جنگ کی آگ میں سلگ رہی ہے۔ امریکہ کی ڈیڑھ لاکھ فوج جس نے بیس مارچ سن دو ہزار تین کو عراق پر حملہ کیا تھا اب بھی بر سر پیکار ہے اور اب معرکہ صدام حسین کی منظم فوج سے دو بدو نہیں ہے بلکہ اس کا سامنا ان چھاپ مار مزاحمت کاروں سے ہے جو بیک وقت دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ایک عراق پر امریکی فوجوں کے تسلط کے خاتمہ کے لیے دوسرے عراق میں امریکہ کی قائم کردہ حکومت اور فوج اور پولس کے خلاف۔ اب جب کہ پچھلے دو برس میں عراق میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور بیس ہزار کے لگ بھگ عراقی شہری ہلاک ہوئے ہیں ، بلاشبہ دنیا کے عوام کے ذہن میں یہ سوال نمایاں طور پر اٹھتا ہے کہ اس جنگ سے کس کو فائدہ ہوا اور نقصان کس کو ہوا ، کس نے کیا کھویاہے اور کیا پایا؟ نفع اور نقصان کا یہ گوشوارہ گو امریکی قیادت کے نزدیک عراقی عوام کے حق میں جاتا ہے کہ انہیں صدام حسین کے آمرانہ دور سے نجات ملی ہے اور وہ جمہوریت نصیب ہوئی ہے جس سے وہ کئی دہائیوں سے محروم تھے لیکن عراقی عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ان کے لیے ایک ایسا جاری و ساری خسارہ ہے جس کا ازالہ شاید موجودہ پشت میں تو ممکن نہیں۔ بہت سے عراقیوں کا کہنا ہے کہ عراق پر امریکہ کے حملہ میں اور اس کے بعد پچھلے دو برسوں میں بیس ہزار عراقی شہری ہلاک ہوئے ہیں ان کا یہ استدلال ہے کہ اتنے عراقی تو صدام حسین کے طویل استبدای دور میں بھی نہیں مارے گئے- عراقی عوام صدام حسین کے دور میں جمہوری حقوق اور شہری آزادیوں سے بھلے محروم رہے ہوں لیکن اب عراقی جنگ کے بعد انہیں ہر لمحہ اپنی جان کا جو خطرہ لاحق ہے وہ بہت سوں کے لیے پیر تسمہ پا بن گیا ہے- مزاحمت کاروں کے آئے دن کار بم دھماکوں اور خود کش حملوں سے اگر وہ بچ بھی جائیں تو ڈاکوں، چوریوں اور رہ زنی کے واقعات سے انہیں ہر دم اپنی جان کا خطرہ لگا رہتا ہے- جنگ سے تباہی کے بعد امریکہ نے عراق کی تعمیر نو کے لیے چودہ ارب نوے کڑوڑ ڈالر مخصوص کیے ہیں لیکن اس شعبہ میں عراقیوں کی نصیب میں سمندر سےملے پیاسے کو شبنم کے مترادف چند قطرے ہی آئے ہیں- اس رقم میں امریکی کمپنیوں ہی کو ٹھیکے مل رہے ہیں اور ان میں بھی سبقت ہیلی برٹن اور بیچیل کمپنیوں کو حاصل ہے ۔صر ف ھیلی برٹن کو ایک ارب پچاس کڑوڑ ڈالر کے ٹھیکے ملے ہیں- ایسا لگتا ہے کہ تعمیر نو کے میدان میں بھی امریکی کمپنیوں نے دھاوا بول دیا ہے- جنگ کے بعد عراق میں سیاست کے مقفل دروازے کھلے ہیں اور تیس جنوری کے عام انتخابات کے سلسلہ میں اس بات کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں کہ کئی دہائیوں کے بعد عراقی عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملا ہے لیکن خود امریکہ کے ادارے انسٹیٹیوٹ فار پالیسی سٹڈیز نے ان انتخابات کو اس بناء پر غیر قانونی قرار دیا ہے کہ یہ غیر ملکی فوجی قبضہ کے دوران ہوئے- انسٹٹیوٹ کے مطابق ھیگ کے انیس سو سات کے کنونشن کے تحت مقبوضہ علاقوں میں بنیادی تبدیلیاں ممنوع ہیں اور چونکہ انتخابات کا عمل عراق میں نئے آئین کی ترتیب کے عمل کا ایک حصہ ہے لہذا یہ انتخابات غیر قانونی ہیں کیونکہ یہ انتخابات مقبوضہ طاقت کی مقرر کردہ حکومت اور انتخابی کمیشن نے منعقد کئے ہیں- ایک خاص بات ان انتخابات کی یہ تھی کہ اس میں سرے سے کوئی انتخابی مہم ہی نہیں تھی اور نہ ووٹروں کو امیدواروں کے ناموں کا علم ہوا اور نہ انہوں نے ان کی شکلیں دیکھیں- ایک سو گیارہ جماعتوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا اور ووٹروں نے انہی جماعتوں کو ووٹ دیا یہ جانے بغیر کہ یہ جماعتیں کن افراد کو ان کا نمائندہ قومی اسمبلی میں نامزد کریں گی- پھر ملک کے سنیوں کی اکثریت نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا لہذا بہت سے مبصروں کی یہ رائے ہے کہ یہ انتخابات نمائندہ نہیں تھے اور ان کے نتیجہ میں تشکیل پانے والی قومی اسمبلی بھی غیر نمائندہ ہے- عراقی جنگ کے نفع اور نقصان کے اس گوشوارے میں امریکہ کے خانہ میں سر فہرست وہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ امریکی فوجی ہیں جو عراق کی سرزمین پر مارے گئے- ان کے علاوہ کئی ہزار زخمی فوجی ہیں جو اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ان میں سے بہت سے نفسیاتی امراض میں مبتلاء ہیں- پھر اب بھی ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی عراق میں تعینات ہیں اور کسی کو علم نہیں کہ یہ کتنے عرصہ اور عراق کی اس جنگی دلدل میں دھنسے رہیں گے- اشارے اس بات کے بھی ہیں کہ انہی کو شام اور ایران کے خلاف نئی معرکہ آرائیوں میں استعمال کیا جائے- بیشتر مبصرین کہتے ہیں کہ عراق کی جنگ کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور نہ جنگ کے بعد پیش آنے والے واقعات اور حالات کی پیش بینی کی گئی - نتیجہ یہ کہ اس جنگ کے لیے بش انتظامیہ نے کانگریس سے پہلے ایک سو پچاس ارب ڈالر کی رقم منظور کرائی تھی لیکن اب ہر ماہ عراق میں فوجی کاروائیوں پر چار ارب ستر کروڑ ڈالر خرچ ہورہے ہیں جس کے پیش نظر صدر بش نے مزید بیاسی ارب ڈالر کی منظوری کی درخواست کی ہے- یہ تخمینہ بھی غلط ثابت ہو سکتا ہے- امریکہ کو البتہ عراقی تیل نے نہال کردیا ہے- بہت سے لوگ تو جنگ سے پہلے یہی کہتے تھے کہ صدر بش تیل کی خاطر یہ جنگ لڑ رہے ہیں- امریکی انتظامیہ کو عراقی تیل کی سپلائی اور آمدنی پر بھر پور کنٹرول حاصل ہے حالانکہ دکھاوے کے لیے عراقی تیل کی آمدنی کے لیے ایک ٹرسٹ قائم کیا گیا ہے- امریکہ کو تو عراقی تیل پر کنٹرول ہے لیکن دنیا اس جنگ کی وجہ سے عراق کے بیس لاکھ بیرل یومیہ تیل سے محروم ہوگئی ہے- صدام حسین کے دور میں عراق کل ملا کر پینتیس لاکھ بیرل تیل یومیہ پیدا کرتا تھا اس میں سے عراق پچیس لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کرتا تھا لیکن اب صرف دس لاکھ بیرل یومیہ تیل نکالا جارہا ہے- اور اس میں سے بھی بہت کم تیل برآمد ہو پارہا ہے کیونکہ تیل کی پائپ لائینوں پر روز حملے ہوتے ہیں- تیل سے مالا مال عراق کے لیے یہ بات بڑی خفت کی ہے کہ دنیا میں سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل کے ذخائر کے باوجود اسے پیٹرول مٹی کا تیل اور ڈیزل درآمد کرنا پڑتا ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر بش کو دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کے سلسلہ میں عراق میں سخت منہ کی کھانی پڑی ہے- عراق کی جنگ سے پہلے الزام تراشیاں ایک طرف، صدام حسین کی حکومت کا القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے قطعی کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ صدام حسین نے القاعدہ کے اراکین کو عراق میں پھٹکنے تک نہیں دیا تھا- لیکن اب خود امریکی کہتے ہیں کہ عراق میں امریکی اور اتحادی فوجوں کے خلاف مزاحمت کاروں میں اکثریت القاعدہ کے کارکنوں یا اس سے ہمدردی رکھنے والوں پر مشتمل ہے-اس لحاظ سے عراق جو اب تک دہشت گردی سے قدرے پاک علاقہ تھا وہ بھی اب اس کی لپیٹ میں آگیا ہے- سب سے بڑا خسارہ اس جنگ سے صدر بش اور ان کے اتحادی ٹونی بلیئر کو عوام میں اپنی معتبری کھونے کا رہا ہے- خود امریکہ میں جنگ کے آغاز پر ستر فی صد افراد جنگ کو حق بجانب گردانتے تھے لیکن اب یہ تعداد پچاس فی صد سے بھی کم رہ گئی ہے اور ستر فی صد امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ عراق میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد ناقابل برداشت ہے- اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صدر بش اور ان کے اتحادی ٹونی بلیئر نے عالمی رائے عامہ میں اپنا اعتبار اور اعتماد کھو دیا ہے- اب کسی کو بھی اس بات میں ذرہ برابر شبہ نہیں رہا کہ اس جنگ کا یہ جواز کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانہ پر تباہیں والے اسلحہ ہے اور وہ دنیا کو پینتالیس منٹ میں تہس نہس کر سکتے ہیں یکسر باطل تھا- پچھلے دو برس میں عراق کا چپہ چپہ چھان مارنے کے بعد بھی صدام حسین کے مہلک اسلحہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ صدر بش کو لے دے کر صدام حسین کی گرفتاری ہی پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||