عہدوں پر بات چیت جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مخلوط حکومت کی تشکیل کے معاملے پر بدستور پائے جانے والے اختلافات کے باوجود، عراقی پارلیمان کے افتتاحی اجلاس سے ایک روز قبل شعیہ مسلک کے سیاستدانوں نے اس امکان کا عندیہ دیا ہے کہ ملکی اسمبلی اہم عہدوں پر تقرریاں کر سکتی ہے۔ اسلامی دعوۃ پارٹی (جواد المالکی) کے ایک سینیئر رکن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عراق کے وزیر اعظم اور ان کے دو نائبین کے علاوہ پارلیمانی سپیکر کی نامزدگی کے سلسلے میں وسیع تر مفاہمت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ عراق کے آئندہ وزیراعظم کرد ہوں گے جبکہ پارلیمان کے سپیکر کا تعلق سنی مسلم فرقے سے ہو گا۔ اطلاعات کے مطابق اسمبلی میں تقریباً نصف نشستیں حاصل کرنے والے شیعہ یونائیٹڈ عراقی الائینس اور انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والی کرد جماعتوں نے سرکاری عہدوں کی حتمی تقسیم کے معاملے کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فریقین ملک کی آئندہ مخلوط حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں کئی ہفتے سے مذاکرات کر رہے ہیں اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ پارلیمان کا افتتاحی اجلاس محض ایک رسمی تقریب بن کر رہ جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||