خستہ حال عراق کا جمہوری تجربہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں نئی منتخب پارلیمینٹ کا افتتاحی اجلاس صدام حکومت کے بعد ہونے والے الیکشن کے چھ ہفتے بعد ہورہا ہے۔ اجلاس میں تاخیر سے ان ووٹروں کو بہت مایوسی ہورہی تھی جنہوں نے مزاحمت کاروں کی مخالفت کے باوجود الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ نئی پارلیمینٹ کے افتتاحی اجلاس میں تاخیر کی وجہ سیاسی اختلافات تھے جو الیکشن کے بعد کی صورتحال میں پیدا ہوئے ہیں۔ ان انتخابات میں شیعہ اتحاد نے 275 نشستیں جیتیں جو کل نشستوں کا پچاس فیصد ہیں جبکہ انہیں حکومت بنانے کے لئے ساٹھ فیصد سیٹیں درکار ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے شیعہ اتحاد نے کرد جماعتوں سے مذاکرات شروع کئے جو 77 سیٹوں کے ساتھ انتخابات میں دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ لیکن کئی ہفتوں کی اس بات چیت کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا جس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں کئی عشروں سے آمریت ہو سیاستدانوں کو سیاسی جوڑ توڑ کے گرُ سمجھنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ لیکن عوام کے دباؤ کے تحت اب یہ افتتاحی اجلاس بلا لیا گیا ہے اگرچہ یہ محض ایک کارروائی سے زیادہ نہیں ہوگا کیونکہ ابھی تک پارلیمینٹ کے سپیکر کے لئے امیدوار پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔ اب یہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ مارچ کے آخر تک نئی حکومت کا اعلان کیا جاسکے گا۔ اگرچے کرد اور شیعہ جماعتوں کے درمیان اصولی معاہدہ طے پا چکا ہے لیکن کرد اپنے ماضی کے تجربے کے باعث مزید گارنٹی چاہتے ہیں۔ ان کے بڑے مطالبات میں سے ایک تو ملک میں وفاقی نظام کا قیام ہے تاکہ وہ اس خومختاری کو جاری رکھ سکیں جو انہیں 1991 میں دی گئی تھی۔ ان کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ وہ کرد پیشمرگا یا اپنی مقامی سیکورٹی فوج کو قومی فوج میں ضم کرنے کی بجائے اس کی آزاد حیثیت قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ کردوں کا ایک اور بڑا مطالبہ یہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک صوبہ کو ان تین علاقوں میں دوبارہ شامل کرلیا جائے جنہیں بغداد باقاعدہ طور پر عراقی کردستان کا حصہ سمجھتا ہے۔ صدام حسین نے جنوب سے عرب آبادی کو کرکوک میں بسا کر اور انتظامی اور سرحدی تبدیلیاں کرکے اس صوبے میں عرب آبادی کو اکثریت میں لانے کی کوشش کی تھی۔ کردوں کا یہ مطالبہ عراق کے عبوری آئین میں بھی شامل ہے کہ اس علاقے میں صدام کی پالیسیوں کو تبدیل کرکے اس میں عوام کی مرضی جاننے کے لئے ریفرنڈم کروایا جائے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ نئی پارلیمینٹ میں عراق کی سنی اقلیت کی نمائندگی بھی ایک اہم مسلہ ہے کیونکہ حالیہ انتخابات میں یا تو سنی ووٹروں مزاحمت کاروں کے دباؤ کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے ہی نہیں یا پھر خود اپنی مرضی سے انہوں نے اجتناب سے کام لیا۔ الیکشن میں تیسرے نمبر پر آنے والی عراقی لسٹ، جو عبوری وزیراعظم ایاد علاوی کا دھڑا ہے، سیکولر جماعتوں کی نمائندگی کرتا ہے اور شیعہ اتحاد اور ایران سے اس کے تعلقات پر بہت زیادہ خوش نہیں ہے۔ تیس سال کی آمریت اور امریکی جنگ کے بعد خستہ حال عراق میں جمہوریت کا تجربہ یقینناً ایک کٹھن عمل ہوگا لیکن عوام میں ایک خوشحال مستقبل کے لئے امید کی کمی نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||