خود کش حملے میں 25 کرد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ہونے والے ایک بظاہر خود کش حملے میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ موصل کے قریب شمالی شہر طلفار میں ایک کرد جنازے کی رسومات کی ادائیگی کے وقت کیا گیا۔ اس سے قبل بغداد میں ایک دوسرے حملے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ دریں اثناء عراقی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے برطانوی امدای کارکن مارگریٹ حسن کے اغوا اور قتل میں ملوث کئی افراد گرفتار کیے ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ انہیں چھاپے کے دوران مارگریٹ حسن کے دستاویز، کپڑے اور ایک ہینڈ بیگ بھی ملا ہے۔ مارگریٹ حسن کو 19 اکتوبر 2004 کو اغوا کیا گیا تھا۔ اس کے ایک مہینے بعد ان کے قتل کی ایک ویڈیو بھی نشر کی گئی تھی۔ شمالی عراق میں کرد ہلاکتوں کی تفصیلات تو ابھی صحیح طرح واضح نہیں ہیں لیکن مقامی اہلکاروں نے کہا ہے کہ ایک کرد اہلکار کے جنازے کے دوران ایک خودکش بمبار کار لے کر سوگواروں پر چڑھ گیا اور کار دھماکے سے پھٹ گئی۔ یہ جنازہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکن طالب وہاب کا تھا جنہیں سنیچر کو مزاحمت کاروں نے ہلاک کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس کے بعد بندوق برداروں نے سڑک بلاک کر دی، امریکی اور عراقی فوجیوں پر حملے کیے اور ان ایمبولینسوں پر بھی فائرنگ کی جو حادثے کی جگہ پر جا رہی تھیں۔ جمعہ سے لے کر اب تک ہونے والے حملوں میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئی عراقی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں نے اپنے حملوں میں بھی تیزی پیدا کر دی ہے۔ جمعرات کو ایک نامکمل کابینہ کا اعلان کیا گیا جس میں ابھی تک دفاع سمیت اہم وزارتوں کے قلمدان کسی کو نہیں سونپے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||