بغداد دھماکے،22 ہلاک 80 زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس کے مطابق بغداد میں چار کار بم دھماکوں میں کم از کم بائیس افراد ہلاک اور اسّی سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر ان بم حملوں کا نشانہ عراق کی سکیورٹی فورسز تھیں۔ کسی گروپ نے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ چار کار بم دھماکےادہامیہ کے علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوئے۔ جس کے بعد بغداد سے تیس کلومیٹر دور مدائن میں مزید تین بم دھماکے ہوئے۔ پہلا بم بغداد کے جنوبی علاقے میں ایک بجلی گھر کے قریب پھٹا اور اس کے بعد شہر میں یکے بعد دیگرے کئی کار بم دھماکے ہوئے۔ایک دھماکے میں ایک ایسا ریستوران تباہ ہوا جس میں عراقی نیشنل گارڈ اور پولیس کے اہلکار باقاعدگی سے جایا کرتے تھے۔ یہ دھماکے عین اس وقت ہوئے ہیں جب عراق میں ایک نئی حکومت کے قیام کا عمل اپنی تکمیل کے قریب ہے۔ بغداد سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ نئی حکومت میں سنّی فرقے کے افراد کی نمائندگی ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر کچھ با اثر سنّی افراد کو حکومت سازی کے عمل میں شامل کر لیا جائے تو مزاحمت کاروں کے لیے سنّی آبادی کی حمایت میں کمی آ سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||