عراق: سیاسی بحران خاتمے کے قریب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے ارکان پارلیمان نے اکثریتِ رائے سے نئی حکومت کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے تاہم کابینہ میں کئی ایک اہم وزارتوں پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔ کابینہ میں سات وزارتوں کے قلمدانوں پر کسی رکن نامزد نہیں کیا گیا۔ ان وزارتوں میں تیل اور دفاع جیسی اہم وزارتیں بھی شامل ہیں۔ عراقی وزیر اعظم ابراھیم جعفری کا کہنا ہے کہ جلد ہی ان وزارتوں کے لیے وزراء کا تقرر کر دیا جائے گا۔ عراق کی عبوری پارلیمان کے 180 ارکان نے وزراء کے حق میں ووٹ دیا جب کہ مخالفت میں پانچ ووٹ ڈالے گئے۔ رائے شماری میں نوے ارکان نے حصہ نہیں لیا۔ وزیر اعظم جعفری عارضی طور پر دفاع کا قلمدان سنبھالیں گے جب کے وزیر تیل کی ذمہ داریاں احمد چلابی نبھائیں گے۔ احمد چلابی ایک نائب وزیراعظم کا عہدے پر بھی کام کریں گے۔ نئی عراقی کابینہ میں تمام نسلی اور مذہبی گروپوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ امریکی عہدیدار عراقی نمائندوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ حکومت سازی میں جلدی کریں۔ ادھر عراق میں ایک خاتون رکن اسمبلی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ عراق میں عام انتخابات جنوری میں ہوئے تھے۔ لامیہ عابد خدوری عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کی مخلوط حکومت میں شامل تھیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی تھی اور جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ان کو گولی مار دی گئی۔ مسز خدوری کچھ ہی دیر پہلے پارلیمان کے اجلاس کے بعد گھر لوٹی تھیں۔حملہ آور موقع سے فرار ہو نے میں کامیاب ہو گئے۔ مسز خدوری کا قتل اس وقت ہوا ہے جب نامزد وزیر اعظم ابراہیم جعفری نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں اہم اعلان کرنے والے تھے۔ اس سے پہلے امریکی فوج کے جائنٹ چیفس آف سٹاف کے چئرمین جنرل رچرڈ مائیرز نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ عراق میں مزاحمتکار ایک سال بعد بھی اتنے ہیں منظم اور سرگرم ہیں جتنے ایک سال پہلے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں مزاحمتکار روزانہ پچاس سے ساٹھ حملے کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||