بغداد میں عراقی جنرل اغوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد میں مسلح افراد نے ایک عراقی جنرل کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بریگیڈیر جنرل محمد جلال صالح کو شہر کے مغرب میں محافظوں سمیت ان کی گاڑی سے باہر نکالا گیا اور پھر اغوا کر لیا گیا۔ جنرل صالح عراقی وزارت داخلہ کے اس فوجی یونٹ کے سربراہ ہیں جو جرائم اور تخریب کاری سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس یونٹ میں سولہ سو فوجی شامل ہیں اور عراق میں جنگ کے بعد یہ پہلا یونٹ تھا جس دوبارہ قائم کیا گیا۔ ابھی تک کسی گروہ نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ عراق میں بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے امدادی اراکین اور صحافیوں ک اغوا کی خبریں عالمی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہیں لیکن عراقیوں کو اکثر تاوان کی غرض سے اغوا کیا جاتا ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کو بھی معلوم نہیں کہ عراقی اغوا شدگان کی تعداد کتنی ہے۔ عراق میں مزاحمت کار اور جرائم پیشہ افراد اغوا کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس سے قبل بغداد ائرپورٹ کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||