سمارا کے تاریخی مینار کو نقصان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس نے کہا ہے کہ ایک دھماکے میں سمارا میں اسلامی طرز تعمیر کے ایک ہزار سال قدیم مینار کو نقصان پہنچا ہے۔ سمارا کا یہ مینار خلیفہ المتوکلی نے بغداد کے شمال میں دجلہ کے کنارے تعمیر کیا تھا۔ امریکی فوجی اس مینار کو مزاحمت کاروں کی کارروائیوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس باون میٹر بلند مالویہ مینار کی اوپر کی منزل کو مزاحمت کاروں نے دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ اس مینار کے چکر دار سیڑہیوں کے زینے پر اینٹیں اور مٹی پڑی ہیں۔ عراق کے آثار قدیمہ کے حکام نے امریکی فوجیوں کی طرف سے عراق کی تاریخی عمارتوں اور یادگاروں کو پہنچائے جانے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں جاری جنگ میں سمارا کے تاریخی محل کی دیواروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
سمارا کا یہ ایک ہزار سال پرانا تاریخی مینار سیاحوں کے لیے بڑی دلچسپی کا باعث رہا ہے اور اس کا عکس عراق کے کرنسی نوٹوں پر بھی موجود ہے۔ امریکی فوجیوں نے یہ تاریخی یادگار گزشتہ ماہ خالی کر دی تھی۔ ایک اعلی عراقی حکومتی اہلکار کے مطابق امریکی فوجیوں کو اس تاریخی یادگار کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہیں تھے۔ عراق کے آثار قدیمہ کے حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکیوں کو اس عمارت کو پہنچے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سمارا کے محل کی دیواروں میں امریکی فوجی کی موجودگی میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ اس سے قبل امریکہ کی اتحادی فوج کو بابل کے آثار قدیمہ کو پہنچے والے نقصانات پر بھی تنقید کا نشانہ سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان آثار قدیمہ کو اتحادی فوج بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد ان آثار قدیمہ پر ہونے والی لوٹ مار کی وجہ ملک کے تاریخی ورثے کے بارے میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||