نیا عراق: بچے غذائیت سے محروم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے غذائی امور کے ایک ماہر نے امریکی سربراہی میں عراق پر فوجی قبضے پر بہت کھل کر تنقید کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں بچوں کی ایک بڑی تعداد کو غذائیت کی شدید کمی کا سامنا ہے اور ایک چوتھائی سے زیادہ بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ رپورٹ خوراک سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک ماہر یان زیگلر نے تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدام حسین کی معزولی کے بعد سے غذائیت کی کمی میں مبتلا عراقی بچوں کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مسٹر زیگلر نے کہا کہ عراق پر امریکی حملے سے پہلے ملک میں چار فیصد بچوں کو غذائیت کی شدید کمی تھی۔ جبکہ اب تقریباً آٹھ فیصد عراقی بچے اس کا شکار ہیں۔ اپنی رپورٹ میں مسٹر زیگلر نے عراق میں امریکہ کی سالاری میں اتحادی فوج پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق پر امریکی حملہ اس اضافہ کے لیے براہ راست ذمہ دار ہے۔ امریکہ نے فی الحال اس رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یان زیگلر سوشیالوجی کے ماہر ہیں جن کا تعلق سوئٹزرلینڈ سے ہے۔ انہوں نے اس صورت حال کا ذمہ دار جنگ کو قرار دیا۔ امریکہ نے اپنا ایک بڑا وفد اس کانفرنس میں بھیجا ہے جس نے یان زیگلر کی تنقید کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عراق پر فوج کشی کے وقت تقریباً چار فیصد بچے غذائیت کی شدید کمی کا شکار تھے لیکن اب یہ شرح تقریباً آٹھ فیصد ہوچکی ہے۔ غذائیت کی کمی کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ایسے بچے جسمانی طور پر گُھلتے چلے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||