عراقی بچوں کی حالتِ زار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے بھی عراق میں تشدد اور ملک کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق عراق پر امریکی حملے کے بعد ملک میں ان بچوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے جہیں کھانے کو خوراک نہیں مل رہی۔ ادارے نے کہا کہ اس پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے وہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ دریں اثناء حلال احمر کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ فلوجہ میں جنگ بندی کے بعد اس کا پہلا امدادی قافلہ شہر میں داخل تو ہو گیا ہے تاہم حالات میں کشیدگی کی وجہ سے لوگوں تک امداد پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ امدادی اداروں پر عراق میں حملے ہو رہے ہیں لہذا وہ لوگوں کو سہولت پہنچانے کے قابل نہیں ہیں۔ تاہم یونیسیف نے کہا ہے کہ وہ عراق میں مقامی عملے کی مدد سے اس کوشش میں ہے کہ امدادی کام جاری رکھے۔ ادھر پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ رمادی کے علاقے میں بسے ہوئے کئی ہزار ایرانی کردوں میں سے کم از کم ایک تہائی اپنی جگہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ان پناہ گزینوں کے رمادی کیمپ سے فرار ہونے کی ایک وجہ امریکی سالاری میں لڑنے والی فوجوں اور مزاحمت کاروں کے درمیان حالیہ دنوں میں لڑائی میں شدت ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پناہ گزینوں کے کیمپوں میں صورتِ حال ناگفتہ بہ ہوگئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||