BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 November, 2004, 01:15 GMT 06:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی بچوں کی حالتِ زار
News image
بچے کھڑے ہوئے پانی سے پاؤں بچا کر گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے بھی عراق میں تشدد اور ملک کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یونیسیف کے مطابق عراق پر امریکی حملے کے بعد ملک میں ان بچوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے جہیں کھانے کو خوراک نہیں مل رہی۔

ادارے نے کہا کہ اس پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے وہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔

دریں اثناء حلال احمر کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ فلوجہ میں جنگ بندی کے بعد اس کا پہلا امدادی قافلہ شہر میں داخل تو ہو گیا ہے تاہم حالات میں کشیدگی کی وجہ سے لوگوں تک امداد پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ امدادی اداروں پر عراق میں حملے ہو رہے ہیں لہذا وہ لوگوں کو سہولت پہنچانے کے قابل نہیں ہیں۔ تاہم یونیسیف نے کہا ہے کہ وہ عراق میں مقامی عملے کی مدد سے اس کوشش میں ہے کہ امدادی کام جاری رکھے۔

ادھر پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ رمادی کے علاقے میں بسے ہوئے کئی ہزار ایرانی کردوں میں سے کم از کم ایک تہائی اپنی جگہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

ان پناہ گزینوں کے رمادی کیمپ سے فرار ہونے کی ایک وجہ امریکی سالاری میں لڑنے والی فوجوں اور مزاحمت کاروں کے درمیان حالیہ دنوں میں لڑائی میں شدت ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پناہ گزینوں کے کیمپوں میں صورتِ حال ناگفتہ بہ ہوگئی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد