بچوں کی تجارت: جنوبی ایشیا خبردار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے بچوں کے لیے فنڈ یونیسف نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جنسی مقاصد کے لیے بچوں اور عورتوں کی تجارت قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیا میں ہر سال پانچ لاکھ عورتوں اور بچوں کی سمگلنگ ہوتی ہے اور سمگل ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہوتا ہے۔ کولمبو میں یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر صادق رشید کہتے ہیں کہ عورتوں اور بچوں کی تجارت جنوبی ایشیاء کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مرد بچوں سے جنسی فعل کرنے سے انکار کر دیں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر رشید کےمطابق ایشیا میں عورتوں اور بچوں کی تجارت دنیا میں ہونی والی تجارت کا تقریباً نصف ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ جنوبی ایشیا میں صورتِ حال بہت سنگین ہے اور کسی بھی طرح آج کے دور میں غلامی سے کم نہیں۔ بچوں اور عورتوں کی تجارت کا مسئلہ اس وجہ سے اور بھی تشویشناک ہو گیا ہےکہ جنگ کی وجہ سے نیپال اور افغانستان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے گھروں کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر جنسی تجارت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر رشید نےان حکومتوں پرجنہوں نےجاپان میں دو ہزار ایک میں بچوں کی سمگلنگ کے خلاف معاہدے پر دستخط کیے ہیں، زور دیا ہے کہ عدم مساوات اور غربت کے مسائل حل کریں کیونکہ بچوں اور عورتوں کی تجارت کے مسئلے کے پیچھے یہی دو بڑے عوامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||