BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2003, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیٹوں کی تحویل، ماؤں کا حق
تحویل کے قانون میں ترمیم
اب عورتیں سات سال تک کے لڑکوں کو اپنے پاس رکھ سکیں گی

ایران میں بچوں کی تحویل کے متعلق ایک قانون میں تبدیلی کی گئی ہے اور اب طلاق یافتہ خواتین سات سال تک کے بیٹوں کو اپنے پاس رکھ سکیں گی۔

اس طرح اب ان کے پاس بیٹوں کی تحویل کا بھی اتنا ہی حق ہو گا جتنا اس سے پہلے ان کے پاس بیٹیوں کی تحویل کا ہے۔

اس سے قبل طلاق یافتہ خواتین صرف دو سال تک کے بیٹوں کو اپنے پاس رکھ سکتی تھیں۔

تحویل کے حوالے قانون میں ترمیم کا اعلان ججمنٹ کونسل نے کیا جس کے سربراہ سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی ہیں۔

اس سے قبل اس طرح کی تجویز گارڈین کونسل دو مرتبہ رد کر چکی ہے جس میں قدامت پسندوں کی تعداد زیادہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی قانون ساز ادارہ گارڈین کونسل اس سے قبل جو بل رد کر چکا ہے اس میں عورتوں کو اٹھارہ سال تک کے بچوں کی تحویل دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

اے ایف پی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بڑے شہروں میں چار میں سے ایک شادی کا انجام طلاق ہوتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد