صحت کی سہولتوں سے محروم بچے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونیسیف کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اسکول جانے والے بچوں کی بہت بڑی تعداد کو صحتِ عامہ سے متعلق بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ محروم بچے صحارا پار افریقی ممالک اور جنوبی ایشیا میں بستے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایشیا کے متعدد علاقوں میں محض پینتیس فیصد بچوں کو بیت الخلا کی سہولت میسر ہے۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ باقی محروم بچے کبھی بھی ہیضے اور پیچش جیسی بیماریوں کا تر نوالہ بن سکتے ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچوں کی ایک تعداد اس لیے بھی حصولِ تعلیم کے لیے اسکول جانے میں دلچسپی نہیں رکھتی کیونکہ انہیں وہاں صحت و صفائی کی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر اساتذہ بچوں کو محض حفظانِ صحت کے بنیادی اصول سمجھانے میں پوری دلچسپی دکھائیں تب بھی صحتِ عامہ کی حالت قدرے بہتر ہو سکتی ہے۔ مثلاً صرف ہاتھ دھونے کی عادت کے نتیجے میں پیچش کے مریضوں میں چالیس فیصد کمی ہوسکتی ہے۔ یونیسیف کے تحت صحتِ عامہ کی عالمی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے جو کانفرنس ہو رہی ہے۔اس میں ترقی پزیر ممالک کے وزارتی وفود شرکت کر رہے ہیں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||