بھوک بڑھ رہی ہے: اقوامِ متحدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک (ایف اے او) نے کہا ہے کہ آٹھ سال پہلے کیے گئے اس وعدے کے باوجود کہ دنیا میں دو ہزار پندرہ تک خوراک کی قلت کو آدھ کر دیا جائے گا ہر پانچ سیکنڈ بعد ایک بچہ بھوک سے مر جاتا ہے۔ ادارے کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھوک کی وجہ سے ہر سال پچاس لاکھ بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم ایف اے او نے کہا ہے کہ ابھی بھوک کے اعداد و شمار کو آدھا کرنا دنیا کی پہنچ میں ہے اور امیر ممالک کو چاہیئے کہ اس سلسلے میں مزید کام کریں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بھوک کے خلاف لڑنا ایک اچھی سرمایہ کاری ہے کیونکہ 2015 کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے جو رقم خرچ ہو گی وہ اس نقصان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے جو اسے حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ہو گا۔ دی سٹیٹ آف فوڈ انسیکیورٹی ان دی ورلڈ 2004 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھوک اور خوراک کی کمی کی وجہ سے ہر سال بالواسطہ تیس ارب ڈالر طبی اخراجات آتے ہیں جبکہ بلاواسطہ اربوں ڈالر مزید خرچ ہوتے ہیں۔ رپورٹ بنانے والے ورکنگ گروپ کے اعلیٰ عہدے دار لِن براؤن کا کہنا ہے کہ ’بھوک کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ان تک پہنچنے کی رفتار میں ترقی بہت آہستہ ہے اور ضائع ہونے والی جانوں اور وسائل کا تخمینہ ناقابلِ تعین ہے‘۔ ایف اے او کے مطابق چین اور بھارت کی خراب ہوتی صورتِ حال کی وجہ بھی وہاں بھوک کے درجوں کا بڑھنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||